موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
نامحرَمعورتوںسےآشنائیاورمحبتکوعبادتسمجھناکفرکیباتہے
سوال:۔
محمد بن قاسم نے تو سترہ سال کی عمر میں سندھ کو فتح کیا تھا جبکہ آج کل کے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے اکثر طالب علم غیرمحرَم لڑکیوں کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں، بس اسٹاپوں پر کھڑے ہوکر غیرمحرَم لڑکیوں پر آوازیں کسنا، بس میں بیٹھ کر گھر تک ان کا پیچھا کرنا اور ان سے خط و کتابت کرنا نوجوان نسل کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
کالج کے لڑکوں سے ایک مرتبہ میری بحث ہوئی، وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں، وہ پیار اور محبت میں کرتے ہیں اور پیار کرنا کوئی گناہ نہیں بلکہ عبادت ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ کس نے بتایا کہ پیار کرنا عبادت ہے؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارے ریڈیو، ٹی وی اور سینما دن رات ہمیں یہی سبق سکھاتے ہیں کہ پیار ہی سے زندگی ہے اور پیار کرنا بھی ایک عبادت ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ یقینا انسانوں اور مخلوقِ خدا سے پیار کرنا عبادت ہے، لیکن اس عبادت کا طریقہ یہ ہے کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلایا جائے، کسی یتیم، بیوہ یا غریب کی مدد کی جائے، کسی مصیبت زدہ سے اظہارِ غم خواری کرکے اس کا دُکھ بانٹا جائے، ضرورت کے وقت کسی مجبور اور مظلوم انسان کی مدد کی جائے، اور شادی کے بعد اپنی بیوی سے محبت کی جائے۔ یہ سب باتیں پیار کا اصل مفہوم ہیں، اور عبادت کے زُمرے میں آتی ہیں۔ لیکن وہ لوگ اپنی اس ضد پر قائم ہیں کہ غیرمحرَم لڑکیوں سے راہ و رسم بڑھانا بھی اس پیار میں شامل ہے جو عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ ازراہِ کرم آپ شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کا جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب:۔
غیرمحرَم سے تعلق و آشنائی حرام ہے،(۱) اسے پاک محبت سمجھنا جہالت ہے، اور حرام کو حلال بلکہ عبادت سمجھنا کفر کی بات ہے۔(۲)
- (۱) لما فی الدر المختار: الخلوۃ بالأجنبیّۃ حرام ۔۔۔ الخ۔ وفی الشامیۃ: الخلوۃ بالأجنبیّۃ مکروہۃ وان کانت معھا أُخریٰ کراھۃ تحریم۔ (شامی ج:۶ ص:۳۶۸)، وفی الدر المختار: ولَا یكلم الأجنبیّۃ إلّا عجوزًا، ۔۔۔ الخ۔ وفی الشامیۃ: أن صوت المرأۃ عورۃ علی الراجح ۔۔۔ الخ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۹۹، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔
- (۲) واستحلال المعصیۃ صغیرۃ کانت أو كبیرۃ کفر، إذا ثبت کونھا معصیۃ بدلیل قطعی وقد علم ذٰلك مما سبق۔ (شرح عقائد ص:۱۶۶) والأصل أن من اعقتد الحرام حلالًا ان کان حرامًا لغیرہٖ كمال الغیر لا یکفر، وان کان لعینہٖ فان کان دلیلہ قطعیًّا کفر، واِلَّا فلا۔ (بحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۲، باب أحکام المرتدین، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

