بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

قطعی‌حرام‌کو‌حلال‌سمجھنا‌کفر‌ہے

سوال:۔

میں نے جمعہ کے بیان میں یہ سنا کہ تمام مفتی صاحبان اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص اسلام کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور اچھا سمجھ کر ان کی تعریف کرے گا وہ شخص کافر ہوجائے گا، مگر میرے دوست اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔

جواب:۔

کسی قطعی حلال کو حرام اور قطعی حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے، کیونکہ یہ علامت ہے اس بات کی کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے قطعی حکم کو نہیں مانتا۔(۱)

  1. (۱) (تنبیہ) فی البحر والأصل: أن من اعتقد الحرام حلالًا فان کان حرامًا لغیرہ كمال الغیر لَا یکفر، وان کان لعینہٖ فان کان دلیلہ قطعیًّا کفر۔ (الفتاویٰ الشامیہ ج:۴ ص:۲۲۳، مطلب فی منکر الْإجماع، باب المرتد)۔