بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

ضروریاتِ‌دین‌کا‌منکر‌کافر‌ہے

سوال:۔

ہمارے علاقے میں ابھی کچھ دن پہلے ایک جماعت آئی تھی، جو صرف فجر، عصر، عشاء کی نماز ادا کرتی تھی، معلومات کرنے پر پتا چلا کہ وہ لوگ صرف انہی نمازوں کو ادا کرتے ہیں جن کا نام قرآن پاک میں موجود ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کون سا فرقہ ہے جو صرف قرآن پاک کی بات مانتا ہے؟

جواب:۔

حدیث کے نہ ماننے والوں کا لقب تو منکرینِ حدیث ہے۔ باقی نماز پنج گانہ بھی اسی طرح متواتر ہیں، جس طرح قرآن متواتر ہے۔(۱) جو شخص پانچ نمازوں کا منکر ہے، وہ قرآنِ کریم کا بھی منکر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دِینِ اسلام کا بھی منکر ہے۔(۲) ایسے تمام دِینی اُمور جن کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی تواتر کے ساتھ ثابت ہے، اور جن کا دِینِ محمدی میں داخل ہونا ہر خاص و عام کو معلوم ہے، ان کو ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہا جاتا ہے۔(۳) ان تمام اُمور کو بغیر تأویل کے ماننا شرطِ اسلام ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا اس میں تأویل کرنا کفر ہے۔ اس لئے جو فرقہ صرف تین نمازوں کا قائل ہے، پانچ نمازوں کو نہیں مانتا، وہ اسلام سے خارج ہے۔(۴)

  1. (۱) والصلٰوۃ المفروضات خمس وعدد ركعاتھا لمن لَا یجوز لہ القصر سبع عشرۃ ولمن جاز لہ القصر فی السفر أحد عشرۃ، وھٰذہ الخمس من أسقط وجوب بعضھا أو أسقط وجوبھا كلھا کفر۔ (اصول الدین ص: ۱۸۹، ۱۹۰ طبع مکتبہ عثمانیہ لَاہور)۔ وفی البدائع الصنائع: وأما عددھا فالخمس ثبت ذٰلك بالکتاب والسُّنَّۃ وإجماع الاُمّۃ ۔۔۔ (وبعد أسطر) وأما عدد ركعات ھٰذہ الصلوات فالمصلی لَا یخلو إما أن یکون مقیمًا وإما أن یکون مسافرًا فإن کان مقیمًا فعدد ركعاتھا سبعۃ عشر ركعتان وأربع وأربع وثلاث وأربع ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص: ۹۱)۔
  2. (۲) ومن رد حجۃ القرآن والسُّنَّۃ فھو کافر۔ (اصول الدین ص:۱۶۳ طبع مکتبہ عثمانیہ لَاھور)۔
  3. (۳) والمراد بالضروریات علٰی ما اشتھر فی الکتب: ما علم کونہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالضرورۃ بأن تواتر عنہ واستفاض، علمتہ العامۃ ۔۔۔ کالبعث والجزاء ووجوب الصلوٰۃ ۔۔۔الخ۔ (اکفار الملحدین ص:۲،۳ طبع پشاور)۔
  4. (۴) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدِّین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱)۔