موجباتِکفر(یعنیکفریہاقوالوافعال)
اسلامیحکومتمیںکافر،اللہکےرسولکوگالیدےتووہواجبالقتلہے
سوال:۔
اگر اِسلامی حکومت میں رہنے والا کافر، اللہ کے رسول کو گالی دے تو کیا اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا؟ حدیث میں ہے: جو ذمی اللہ کے رسول کو گالی دے، اس کا ذمہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ واجب القتل ہے۔
جواب:۔
فقہِ حنفی میں فتویٰ اس پر ہے کہ جو شخص اعلانیہ گستاخی کرے وہ واجب القتل ہے، درمختار اور شامی میں اس کا واجب القتل ہونا نہایت تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے،(۱) اور خود شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (جن کو غیرمقلد اپنا اِمام مانتے ہیں) کی کتاب ’’الصارم المسلول‘‘ میں بھی حنفیہ سے اس کا واجب القتل ہونا نقل کیا ہے۔(۲) علامہ ابنِ عابدین شامیؒ نے اس موضوع پر مستقل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ہے:
’’تَنْبِيهُ الْوُلَاةِ وَالْحُكَّامِ عَلَىٰ أَحْكَامِ شَاتِمِ خَيْرِ الْأَنَامِ أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ الْكِرَامِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ الصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ‘‘
یہ رسالہ مجموعہ رسائل ’’ابنِ عابدین‘‘ میں شائع ہوچکا ہے۔ الغرض ایسے گستاخ کا واجب القتل ہونا تمام اَئمہ کے نزدیک متفق علیہ ہے۔
اور یہ جو بحث کی جاتی ہے کہ اس سے عہدِ ذمہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ یہ محض ایک نظریاتی بحث ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کفر ہے اور کافر وہ پہلے ہی سے ہے، لہٰذا اس سے ذمہ تو نہیں ٹوٹے گا، مگر اس کی یہ حرکت موجبِ قتل ہے۔ اور دُوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ یہ شخص ذمی نہیں رہا، حربی بن گیا، لہٰذا واجب القتل ہے، پس نتیجۂ بحث دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلا، نظریاتی بحث صرف توجیہ و تعلیل میں اختلاف کی رہی۔ حدیث میں بھی اس کے واجب القتل ہونے ہی کو ذکر فرمایا گیا، اس کے ذمہ ٹوٹنے کو نہیں، اس لئے یہ حدیث حنفیہ کے خلاف نہیں۔(۳)
- (۱) قولہ وسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم أی اذا لم یعلن فلو أعلن بشتمہ أو اعتادہ قتل ولو امرأۃ وبہ یفتٰی ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۱۳، مطلب فی حكم سب الذمی النبی صلی اللہ علیہ وسلم)۔
- (۲) ولھٰذا أفتی أکثرھم بقتل من أکثر من سبّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من أھل الذمۃ وان اعلم بعد أخذہ، وقالوا: یقتل سیاسۃ وھذا متوجہ علی أصولھم۔ (الصارم المسلول ص:۱۲ طبع بیروت)۔
- (۳) (ویؤدب الذمی ویعاقب علٰی سبہ دین الْإسلام أو القرآن أو النبی صلی اللہ علیہ وسلم) حاوی وغیرہ۔ قال العینی: واختیاری فی السب أن یقتل اھـ۔ وتبعہ ابن الھمام ۔۔۔ إذا طعن الذمی فی دین الْإسلام طعنًا ظاھرًا جاز قتلہ لأن العھد معہ علٰی أن لَا یطعن فإذا طعن فقد نکث عھدہ وخرج من الذمۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۱۲ تا ۲۱۵، باب المرتد)۔

