بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)

غیرمسلم‌کے‌زُمرے‌میں‌کون‌لوگ‌آتے‌ہیں؟

سوال:۔

آپ نے ’’غیرمسلم کے لئے مسجد کی اشیاء کا استعمال‘‘ کے تحت دو سوالوں کے جواب میں فرمایا کہ: غیرمسلم کی نمازِ جنازہ جائز نہیں۔ غیرمسلم کی میّت کو غسل دینا جائز نہیں۔ غیرمسلم کو مسلم قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ یہ سب کچھ کرنے سے کرنے والے اور شرکاء کا ایمان جاتا رہا اور نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ براہِ کرم یہ بات صاف کردیں کہ کیا غیرمسلم کی اس تعریف میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور ہوش سنبھالنے سے مرتے دَم تک دہریہ رہے، یا کافی عرصے تک اسلام کی پابندی اور پیروی کی، پھر اسلام کو ترک کردیا، دونوں طرح کے لوگ علی الاعلان کہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ سوَر کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں، کیا یہ لوگ بھی غیرمسلموں کے زُمرے میں آتے ہیں؟ اور کیا ان کے جنازوں کے معاملے میں بھی وہی قباحتیں موجود ہیں؟ یعنی ایمان اور نکاح کی تجدید لازم ہوجاتی ہے؟ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں، میرے قیامِ یورپ کے دوران ایسے لوگوں کی وہاں آؤ بھگت بھی ہوتی رہی ہے، میں نے ان کو دیکھا ہے اور بہت سوں کو جانتا ہوں، چنانچہ اس اِستفسار کا جواب معاشرتی حیثیت رکھتا ہے۔

جواب:۔

اسلام نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تمام باتوں کو ماننے کا۔ اور کفر نام ہے کسی ایک بات کو نہ ماننے کا۔ جس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا۔ پس جو شخص ایسی قطعیات اور ضروریاتِ دِین میں سے کسی ایک کا منکر ہو، یا وہ علی الاعلان کہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے، اس کا حکم مرتد کا ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہو، اور اس کا نام بھی مسلمانوں جیسا ہو۔(۱)

  1. (۱) المرتد ھو لغۃً: الراجع مطلقًا، وشرعًا: الراجع عن دین الْإسلام وركنھا: اجراء كلمۃ الکفر علی اللسان بعد الْإیمان، وھو تصدیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی جمیع ما جاء بہ عن اللہ تعالٰی مما علم مجیئہ ضرورۃ۔ وفی الشامیۃ: معنی التصدیق قبول القلب، واذعانہ لما علم بالضرورۃ انہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیث تعلمہ العامۃ من غیر افتقار الٰی نظر واستدلَال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث والجزاء، ووجوب الصلٰوۃ والزكٰوۃ وحرمۃ الخمر ونحوھا ۔۔۔ الخ۔ (شامی ج:۴ ص:۲۲۱، باب المرتد)۔ وایضًا فمن جحد شیئًا واحدًا من الضروریات فقد آمن ببعض الکتاب وکفر ببعضہ، وھو من الکافرین ۔۔۔الخ۔ (اکفار الملحدین ص:۴ طبع پشاور)