کفر،شرکاوراِرتدادکیتعریفواَحکام
حضرتعلیرضیاللہعنہکومشکلکشاکہنا
سوال:۔
حضرت! عرض ہے کہ حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے شجرات اور حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے قصائد میں ایک دو مقام ایسے ہیں جن کو بریلوی حضرات سامنے رکھ کر ہمارے نوجوانوں کے ذہن خراب کرتے ہیں، ہمیں ان اَشعار کا مطلب اور حکم مطلوب ہے، اُمید ہے دستِ شفقت دراز فرمائیں گے، ان اَشعار کی فوٹوکاپی اِرسالِ خدمت ہے۔
جواب۱:۔
اِصطلاحات کے فرق سے مفہوم میں فرق ہوجاتا ہے۔ ’’مشکل کشا‘‘ فارسی کا لفظ ہے، اور اس کے معنی ہیں: ’’مشکل مسائل کو حل کرنے والا‘‘ اور یہ لقب حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ عربی میں اس کا ترجمہ ’’حل العویصات‘‘ ہے، اُردو میں آج کل ’’مشکل کشا‘‘ کے معنی سمجھے جاتے ہیں: ’’لوگوں کے مشکل کام کرنے والا۔‘‘ حاجی صاحبؒ کے شعر میں وہ معنی مراد ہیں، یہ معنی مراد نہیں۔
۲:۔ حضرت نانوتویؒ کے قصیدے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت سے اِستشفاع ہے، ’’کرمِ احمدی‘‘ کو خطاب ہے، اور یہ اِستمداد دُنیا کے کاموں کے لئے نہیں، بلکہ آخرت میں نجات اور دُنیا میں اِستقامت علی الدِّین کے لئے ہے۔ جس طرح عشاق اپنے محبوبوں کو خطاب کرتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی آواز ان کے محبوب کے کان تک نہیں پہنچتی، اور واقعتا ان کو سنانا مقصود بھی نہیں ہوتا، بلکہ اظہارِ عشق و محبت کا ایک پیرایہ ہے۔ اسی طرح اکابرؒ کے کلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خطاب کیا گیا ہے وہاں بھی اظہارِ عشق و محبت اور طلبِ شفاعت مقصود ہے، نہ کہ اس زندگی میں اپنے کاموں کے لئے مدد طلب کرنا۔ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ بندوں کے اعمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں،(۱) سو اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اِسی خیال سے خطاب کرتا ہے کہ اس کا یہ معروضہ بارگاہِ نبوی میں پیش ہوگا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کے نام خط لکھ رہا ہو، اور اس سے اپنے خط پر خطاب کر رہا ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مکتوب الیہ اس خط کو پڑھے گا۔
الغرض اگر عقیدہ فاسد نہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں، تو ان خطابات کی صحیح توجیہ ممکن ہے، ہاں! عقیدہ فاسد ہو تو خطاب ممنوع ہوگا۔
نوٹ:۔ اس ناکارہ نے ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں بھی اس پر تھوڑا سا لکھا ہے، اس کو بھی ملاحظہ فرمالیں۔
- (۱) ’’عن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اِنّ أعمال اُمّتی تعرض علیَّ فی كل یوم الجمعۃ ۔۔۔الخ۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء ج:۶ ص:۱۷۹ طبع دار الکتب العلمیہ، بیروت)۔

