بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

یہ‌مرتد‌واجب‌القتل‌ہے

سوال:۔

علمائے کرام اور مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں کہ: مسمّیٰ رجب علی (نوشاد) ولد علی نذر، مقیم گلستانِ جوہر نے ہم سے کہا کہ جس جس کو اِس بستی میں رہنا ہے اُس کو میرا کلمہ: ’’لا اِلٰہ اِلَّا ﷲ (نعوذ باللہ، نقلِ کفر، کفر نباشد) رجب علی نوشاد رسول اﷲ‘‘ پڑھنا ہوگا۔ ہم حلفیہ بیان کے ساتھ دستخط کر رہے ہیں کہ جیسا اُوپر لکھا گیا ہے، ہم سے ویسے ہی کہا گیا ہے، اس بارے میں ہم علمائے کرام سے فتویٰ چاہتے ہیں۔

جواب:۔

یہ موذی مرتد، واجب القتل ہے۔ اس کو قتل کیا جائے۔ واﷲ اعلم!(۱)

  1. (۱) واذا ارتد المسلم عن الْإسلام والعیاذ باللہ ۔۔۔ قتل۔ (الہدایۃ ج:۱ ص:۵۸۰)۔ ما من احد ادّعی النبوّۃ من الكذّابین۔ (شرح فقہ اكبر ص:۷۳)، ودعوی النّبوۃ بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔ (ایضًا ص:۲۰۲)، وقد یکون فی ھؤلَاء من یستحق القتل كمن یدّعی النّبوۃ (ایضًا ص:۱۸۴)۔