کفر،شرکاوراِرتدادکیتعریفواَحکام
مذہبتبدیلکرنےکیسزااورایسےشخصسےوالدین،بہنبھائیوںکابرتاؤ
سوال:۔
اگر مذہب تبدیل ہوگیا تو ہمارے مذہب اسلام میں مذہب تبدیل کرنے کی کیا سزا ہے؟
سوال:۔
اگر اب وہ کہے کہ میں نے مذہب تبدیل نہیں کیا، تو اس کا کیا کفارہ ہوگا؟
سوال:۔
اور اس کے والدین اور بہن بھائی اور دوستوں کو اس سے کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
جواب:۔
جو شخص دِینِ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے، اس کو دوبارہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے، اگر قبول کرلے تو فبہا، ورنہ وہ واجب القتل ہے۔(۱)
جواب:۔
اس کو ندامت کے ساتھ توبہ کرکے اپنے اسلام کی تجدید کرنی چاہئے، اگر اس کا نکاح ہوچکا ہے تو نکاح کی بھی دوبارہ تجدید کرے۔(۲)
جواب:۔
اس کو سمجھائیں کہ اس نے غلط کیا ہے، اگر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو وہ توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوجائے تو بہت اچھا، ورنہ اس سے قطع تعلق کرلیں۔(۳)
- (۱) من ارتد عرض الحاكم علیہ الْإسلام ۔۔۔ فان أسلم فبھا وإلّا قتل لحدیث: ’’من بدّل دینہ فاقتلوہ‘‘۔ (درمختار مع تنویر الأبصار ج:۴ ص:۲۲۵، ۲۲۶، باب المرتد)۔
- (۲) ان ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح، وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح، وظاھرہ أنہ أمر احتیاط۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۳۰، باب المرتد)۔
- (۳) (قال اللہ تعالٰی) ﵟ وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ ﵞالآیۃ، والرکون الی الشیء ھو السکون الیہ بالأنس والمحبۃ، فاقتضٰی ذٰلك النھی عن مجالسۃ الظالمین وموانستھم والْإنصات إلیھم وھو مثل قولہ تعالٰی: ﵟ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨ ﵞ۔(احکام القرآن للجصاص ج:۳ ص: ۱۶۶ طبع سھیل اکیڈمی، لَاہور)۔

