کفر،شرکاوراِرتدادکیتعریفواَحکام
مرتدکیتوبہقبولہے
سوال:۔
ہمارے چچا نے آج سے تیس سال قبل ایک عیسائی عورت سے نکاح کیا تھا، اور ان کے پادری کی شرائط کو مانتے ہوئے دِینِ اسلام کو چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا اور اپنا سابقہ اسلامی نام عبدالجبار ختم کرکے عیسائی نام پی ایل مارٹن رکھا تھا، ان کے تین لڑکے بھی ہیں جو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں، لیکن ان کے نام عیسائیوں والے ہیں، اب ہمارے چچا کہتے ہیں کہ میں دوبارہ مسلمان ہوگیا ہوں اور انہوں نے اپنا سابقہ نام عبدالجبار پھر اِختیار کرلیا ہے، اور وہ اب باقاعدگی سے فجر کی نماز اور جمعہ کی نماز بھی ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ مسجد میں آنے کا حقدار نہیں، کیونکہ یہ شخص اب ساری عمر کے لئے مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اس کی زوجہ نے بھی دِینِ اسلام قبول کرلیا ہے اور اپنا اسلامی نام راحیلہ رکھا ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ شریعت اور حدیث کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ کیا یہ دونوں میاں بیوی اب مسلمان سمجھے جائیں گے یا نہیں؟
جواب:۔
جو شخص ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ دِینِ اسلام سے پھر جائے اور کوئی دُوسرا مذہب اختیار کرلے وہ مرتد کہلاتا ہے،(۱) اور مرتد اگر سچے دِل سے توبہ کرکے دوبارہ اسلام قبول کرلے تو اس کی توبہ صحیح ہے،(۲) اور وہ مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ اس لئے اگر آپ کے چچا نے عیسائیت قبول کرکے مرتد ہونے کے بعد اَب دوبارہ بیوی بچوں سمیت اسلام قبول کرلیا ہے تو انہیں تجدیدِ نکاح کرنے کا حکم دیا جائے اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا معاملہ کیا جائے، ان کو مسجد سے روکنا غلط ہے، ان کے لڑکوں کے نام تبدیل کرکے مسلمانوں کے نام رکھ دئیے جائیں اور پورے خاندان کو چاہئے کہ پنج گانہ نماز اور دِین کے دیگر فرائض و واجبات کی پوری پابندی کریں اور دِینی مسائل بھی ضرور سیکھیں۔(۳)
- (۱) وان طرأ کفرہ بعد الْإسلام خص باسم المرتد لرجوعہ عن الْإسلام ۔۔۔الخ۔ (شرح المقاصد ج:۲ ص:۲۶۸)۔
- (۲) وكل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ ۔۔۔ الخ۔ (تنویر الأبصار مع حاشیہ ردّ المحتار ج:۴ ص:۲۳۱، باب المرتد)۔
- (۳) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (الدر المختار ج:۴ ص:۲۴۷)۔

