بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

آنحضرت‌صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم‌کے‌بعد‌جو‌لوگ‌مرتد‌ہوگئے

سوال:۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا، اور تم میں کے چند لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے یہاں تک کہ میں ان کو (کوثر کا) پیالہ دینا چاہوں گا تو وہ لوگ میرے پاس سے کھینچ لئے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے پروردگار! یہ لوگ تو میرے صحابی ہیں! تو خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعتیں کی ہیں‘‘ ۔(صحیح بخاری)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے، اور ہوشیار رہو! چند آدمی میری اُمت کے لائے جائیں گے اس وقت میں کہوں گا: اے رَبّ! یہ تو میرے صحابی ہیں! اللہ کی جانب سے ندا آئے گی کہ: تو نہیں جانتا، انہوں نے تیرے بعد کیا کیا؟ یہ لوگ (اصحاب) تیرے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جدا ہونے کے بعد مرتد ہوگئے تھے‘‘ (صحیح بخاری)۔

مذکورہ بالا دو احادیث مبارکہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیں، ان احادیث مبارکہ میں جن اصحاب کو صاف لفظوں میں مرتد اور بدعتی کہا گیا ہے، وہ اصحاب کون ہیں؟

جواب:۔

ان کا اوّلین مصداق وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہوگئے تھے، اور جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا، ان کے علاوہ وہ تمام لوگ بھی اس میں داخل ہیں جنہوں نے دِین میں گڑبڑ کی، نئے نظریات اور بدعات ایجاد کیں۔(۱)

  1. (۱) قال الکرمانی: وھم اما المرتدون واما العصاۃ ۔۔۔ الخ۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۱۲ ص:۱۳۷، طبع دار الفکر، بیروت)۔