بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

کافر،‌زندیق،‌مرتد‌کا‌فرق

سوال۱:۔

کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟

۲:۔ جو لوگ کسی جھوٹے مدعی نبوّت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد؟

۳:۔ اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے؟ اور کافر کی کیا سزا ہے؟

جواب:۔

جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو کافرِ اصلی کہلاتے ہیں، جو لوگ دِینِ اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہوجائیں وہ ’’مرتد‘‘ کہلاتے ہیں، اور جو لوگ دعویٰ اسلام کا کریں لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن و حدیث کے نصوص میں تحریف کرکے انہیں اپنے عقائدِ کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں، انہیں ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، اور جیسا کہ آگے معلوم ہوگا کہ ان کا حکم بھی ’’مرتدین‘‘ کا ہے، بلکہ ان سے بھی سخت۔(۱)

۲:۔ ختمِ نبوّت، اسلام کا قطعی اور اَٹل عقیدہ ہے، اس لئے جو لوگ دعویٔ اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعیٔ نبوّت کو مانتے ہیں اور قرآن و سنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں وہ زِندیق ہیں۔(۲)

۳:۔ مرتد کا حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے شبہات دُور کرنے کی کوشش کی جائے، اگر ان تین دنوں میں وہ اپنے اِرتداد سے توبہ کرکے پکا سچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کردیا جائے، لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کردیا جائے۔(۳) جمہور اَئمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔(۴) البتہ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبسِ دوام کی سزا دی جائے۔(۵)

زِندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے، لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ اِمام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کرلے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔(۶) اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، وہ بہرحال واجب القتل ہے۔(۷) اِمام احمدؒ سے دونوں روایتیں منقول ہیں ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کرلے تو قتل نہیں کیا جائے گا اور دُوسری روایت یہ ہے کہ زِندیق کی سزا بہرصورت قتل ہے خواہ توبہ کا اظہار بھی کرے۔(۸) حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے از خود توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہوجائے گی، لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زِندیق، مرتد سے بدتر ہے، کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اختلاف ہے۔(۹)

  1. (۱) قد ظھر ان الکافر اسم لمن لَا ایمان لہ ۔۔۔ وان طرء کفرہ بعد الْإسلام خص باسم المرتد لرجوعہ عن الْإسلام ۔۔۔ وان کان مع اعترافہ بنبوّۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واظھارہ شعائر الْإسلام ببطن عقائد ھی کفر بالْإتفاق خص باسم الزندیق۔۔۔الخ۔ (شرح المقاصد ج:۲ ص:۲۶۸، طبع دار المعارف النعمانیۃ)۔
  2. (۲) قولہ: اذا لم یعرف ان محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات یعنی والجھل بالضروریات فی باب المکفرات لَا یکون عذرًا ۔۔۔الخ۔ (الأشباہ والنظائر مع شرحہ للحموی ص:۲۹۶ طبع کراچی)۔ وإن کان مع اعترافہ بنبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وإظھارہ شعائر الْإسلام ببطن عقائد ھی کفر بالْإتفاق خص باسم الزندیق۔ (شرح مقاصد ج:۲ ص:۲۶۸، طبع دار المعارف النعمانیۃ)۔
  3. (۳) واذا ارتد المسلم عن الْإسلام والعیاذ باللہ عرض علیہ الْإسلام، فان کانت لہ شبھۃ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ أیّامٍ فان أسلم واِلّا قتل ۔۔۔ الخ۔ (ہدایہ ج:۲ ص:۵۸۰)۔
  4. (۴) والمرد إذا ظفر بہ قبل أن یحارب، فاتفقوا علٰی أنہ یقتل الرجل لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: ’’من بدّل دینہ فاقتلوہ‘‘ واختلفوا فی قتل المرأۃ ۔۔۔ فقال الجمھور: تقتل المرأۃ، وقال أبو حنیفۃ: لَا تقتل، وشبھھا بالکافرۃ الأصلیۃ، والجمھور إعتمدوا العموم الوارد فی ذالك۔ (بدایۃ المجتھد ج:۲ ص:۳۴۳، شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۲۸، المغنی ج:۱۰ ص:۷۴)۔
  5. (۵) وأما المرأۃ فلا یباح دمھا اذا ارتدت ولَا تقتل عندنا ولٰـكنّھا تجبر علی الْإسلام واجبارھا علی الْإسلام ان تحبس وتخرج فی كل یوم فتستتاب ویعرض علیھا الْإسلام فان أسلمت وإلّا حبست ثانیًا ھٰكذا الٰی أن تسلم أو تموت ۔۔۔ الخ۔ (البدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
  6. (۶) والزندیق ۔۔۔ فانہ یستتاب وان تاب وإلّا قتل فان استتیب فتاب قبلت توبتہٗ۔ (المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۳، طبع بیروت)۔
  7. (۷) الزندیق ۔۔۔ لم یستتب ویقتل ولو أظھر توبتہ لأن اظھار التوبۃ لَا یخرجہ عما یبدیہ من عادتہ ومذھبہ ۔۔۔ ۔ الخ۔ (مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل ج:۶ ص:۲۸۲)۔
  8. (۸) اذا تاب قبلت توبتہ ولم یقتل أی کفر کان وسواء کان زندیقًا ۔۔۔ والروایۃ الاُخرٰی لَا تقبل توبۃ الزندیق ۔۔۔ الخ۔ (المغنی لِابن قدامہ ج:۱۰ ص:۷۸، الشرح الكبیر ج:۱۰ ص:۸۹)
  9. (۹) لَا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب ۔۔۔ وفی الخانیۃ قالوا ان جاء الزندیق قبل أن یؤخذ فأقرّ أنّہ زندیق فتاب عن ذٰلك تقبل توبتہٗ وان أُخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل ۔۔۔ الخ۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۶)۔