بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

کیا‌شوہر‌کو‌’’بندہ‘‘‌کہنا‌شرک‌ہے؟

سوال:۔

بعض مقامات میں ’’شوہر‘‘ کو بندہ کہا جاتا ہے، مثلاً: کہتے ہیں: ’’شاہد، راحیلہ کا بندہ ہے‘‘، اسی طرح کسی عورت سے پوچھا جائے اس کے شوہر کے متعلق کہ یہ کون ہے؟ وہ کہتی ہے: ’’یہ میرا بندہ ہے۔‘‘ محترم! واضح فرمائیں کسی انسان کو عورت کا بندہ کہنا دُرست ہے؟ جبکہ کل انسان خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور اسی کی بندگی کرتے ہیں، اور اگر بندے کی نسبت عورت کی طرف کی جائے تو اس میں شرک کا احتمال تو واقع نہیں ہوتا؟ جس طرح علمائے دِین ان ناموں کے رکھنے سے منع فرماتے ہیں: عبدالرسول، عبدالنبی، عبدالحسن، پیراںدتہ، وغیرہ کہ یہ شرکیہ نام ہیں۔

جواب:۔

اس محاورہ میں ’’بندہ‘‘ سے مراد شوہر ہوتا ہے، اس لئے یہ شرک نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ’’میاں‘‘ کا لفظ جس طرح آقا، سردار اور خدا پر اِستعمال ہوتا ہے، اسی طرح شوہر کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، جس طرح شوہر کے لئے ’’میاں‘‘ کا لفظ استعمال کرنا شرک نہیں، اسی طرح شوہر کے لئے ’’بندہ‘‘ کا لفظ استعمال کرنا بھی شرک نہیں ہے، کیونکہ محاورۃً یہ الفاظ اس معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔