کفر،شرکاوراِرتدادکیتعریفواَحکام
شرکوبدعتکسےکہتےہیں؟
سوال:۔
شرک و بدعت کی تعریف کیا ہے؟ مثالوں سے وضاحت کریں۔
جواب:۔
خدا تعالیٰ کی ذات و صفات اور تصرف و اِختیار میں کسی اور کو شریک سمجھنا شرک کہلاتا ہے۔(۱) اور جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ نے نہیں کیا، بلکہ دین کے نام پر بعد میں ایجاد ہوا، اسے عبادت سمجھ کر کرنا بدعت کہلاتا ہے۔(۲) اس اُصول کی روشنی میں مثالیں آپ خود بھی متعین فرماسکتے ہیں۔
- (۱) الْإشراك ھو إثبات الشریك فی الاُلوھیۃ ووجوب الوجود كما للمجوس أو بمعنٰی استحقاق العبادۃ كما لعبدۃ الأوثان۔ (شرح العقائد ص:۱۴۶، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) بدعۃ وھی إعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لَا بماندۃ بل بنوع شبھۃ ۔۔۔إلخ۔ وفی الشرح: وحینئذ فیساوی تعریف الشمنی لھا بأنھا ما أحدث علٰی خلاف الحق الملتقی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبھۃ وإستحسان، وجعل دینا قویمًا وصراطًا مستقیمًا۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۱ ص:۵۶۰، مطلب البدعۃ خمسۃ أقسام)۔ أیضًا: البدعۃ: ھی الأمر المحدث الذی لم یكن علیہ الصحابۃ والتابعون ولم یكن مما اقتضاہ الدلیل الشرعی قالہ السید۔ (التعریفات الفقھیّۃ فی قواعد الفقہ لمفتی عمیم الْإحسان ص:۲۰۴، طبع الصدف کراچی)۔

