بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

اپنے‌علاوہ‌سب‌کو‌کافر‌و‌مشرک‌سمجھنے‌والا‌دِماغی‌عارضے‌میں‌مبتلا‌ہے

سوال:۔

زید پر (سائل کی رائے میں) ضرورت سے زیادہ مسلمانیت کا غلبہ ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی نظر میں ہر خاص و عام کافر، مشرک اور غیرمسلم ہے۔ بوقتِ ملاقات نہ تو سلام کرتا ہے اور نہ جواب دیتا ہے۔ مسجد میں نماز باجماعت کو اپنی شرعی مجبوری کہتا ہے، نعت گوئی کو شرک اور اس حوالے سے تمام نعت گو شعراء حتیٰ کہ حسان بن ثابتؓ کی نعت گوئی کو بھی خلافِ شرع سمجھتا ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء تک کو مشرک و کافر ثابت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، اور اس بنیاد پر جو فتنہ برپا ہوتا ہے اسے اپنے حق میں اللہ کی آزمائش کہتا ہے، دلیل اس کی یہ دیتا ہے کہ تمام انبیاء کو توحید پرستی کی وجہ سے تکالیف اُٹھانا پڑیں۔ اپنے دلائل کے سامنے اہلِ حدیث علماء تک کو مشرک ثابت کرکے تنہا دعویٔ مسلمانی کرتا ہے۔ راقم کے نزدیک یہ کیفیات قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی کو صرف اپنے فہم کے مطابق سمجھنے کا نتیجہ ہوسکتی ہیں یا پھر کوئی دِماغی عارضہ لاحق ہونے کی وجہ سے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ نیز ایسے شخص کے بارے میں شرعی رائے کیا ہوسکتی ہے؟

جواب:۔

آپ کی رائے صحیح ہے۔ یہ شخص جو اپنے سوا پوری اُمت کو کافر و مشرک سمجھتا ہے، دِماغی عارضے میں مبتلا ہے، اس کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔