کفر،شرکاوراِرتدادکیتعریفواَحکام
غیراللہکوسجدہکرناشرکہے،اسسےمنعنہکرنےوالابھیگناہگارہے
سوال:۔
ایک شخص نے ایک سیاسی لیڈر کی تصویر کے آگے یہ کہہ کر سجدہ کیا کہ: ’’ایک سجدہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو اور ایک سجدہ تجھے‘‘ اس پر وہاں کھڑے ہوئے ایک شخص نے اسے منع کیا، جبکہ وہاں کھڑے ہونے والا دُوسرا شخص منع کرنے والے سے کہتا ہے کہ: ’’بھائی! کیوں منع کر رہے ہو؟ کیا اسے عقل نہیں؟‘‘ کیا اس طرح اس کے یہ کہنے سے وہ شخص گنہگار ہے یا نہیں؟ اور جس نے اسے سجدہ کرنے سے منع کیا تھا، کیا اس کا یہ عمل اس کے لئے ذریعۂ نجات ہوگا؟
جواب:۔
غیراللہ کو سجدہ کرنا صریح شرک ہے،(۱) اس شخص کو اَپنے اس عمل پر توبہ و اِستغفار، تجدیدِ اِیمان وتجدیدِ نکاح کرنا چاہئے۔(۲) منع کرنے والے کو نہی عن المنکر کا ثواب ہوگا،(۳) جس نے منع نہیں کیا وہ بھی گناہگار ہے۔
- (۱) قال القھستانی: وفی الظھیریۃ یکفر بالسجدۃ مطلقًا۔ (شامی ج:۶ ص:۳۸۳)۔
- (۲) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (الدر المختار ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد، کتاب الجھاد، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۳) قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من رأی منكم منکرًا فلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ وذٰلك أضعف الْإیمان۔ (مشکوٰۃ ج:۲ :۴۳۶، باب الأمر بالمعروف، طبع قدیمی کتب خانہ)۔

