بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

کافر‌کی‌توبہ‌اور‌اِیمان

سوال:۔

میں نے آج ٹی وی پر قرآن شریف کا ترجمہ دیکھا، اس میں لکھا ہوا تھا کہ: ’’جو پہلے ایمان لائے اور پھر کفر کیا تو ان کی توبہ قبول نہیں ہے‘‘ تو سوال یہ ہے کہ اگر ایک کافر یا مسلمان پہلے صاحبِ ایمان ہے، پھر کفر کرتا ہے، پھر توبہ کرکے مسلمان ہوجاتا ہے تو کیا ایسے شخص کی توبہ اور اِیمان اللہ کے نزدیک قبول نہیں ہے؟ جواب دے کر تسلی فرمائیں۔

جواب:۔

آپ نے ترجمہ اَدھورا پڑھا، اور مطلب نہیں سمجھا، اس لئے مختصر سی وضاحت کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ آپ نے جس آیت کا حوالہ دیا، یہ سورۂ آل عمران کی آیت:۹۰ ہے، اس سے پہلے آیت:۸۶، ۸۷، ۸۸ میں ان لوگوں کی سزا بیان فرمائی جو اِیمان لانے کے بعد کفر اِختیار کرلیتے ہیں، پھر آیت:۸۹ میں فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ توبہ کرکے دوبارہ اسلام لے آئیں اور اپنی رَوِش کی اصلاح کرلیں تو حق تعالیٰ شانہ‘ ان کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔

اس کے بعد وہ آیت ہے جو آپ نے ذکر کی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اِختیار کرلیا، پھر ان کو کفر سے توبہ کرکے دوبارہ ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوئی، بلکہ اپنے کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، یہاں تک کہ موت کا وقت آگیا، اب موت کے وقت ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی، اور ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔‘‘ ان آیات کو یکجا دیکھنے کے بعد کوئی اِشکال باقی نہیں رہتا۔(۱)

  1. (۱) ﵟ إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ٨٩ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّن تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ ٩٠ ﵞ آل عمران٨٩ و ٩٠