بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

کافر‌اور‌مشرک‌کے‌درمیان‌فرق

سوال:۔

کافر اور مشرک کے درمیان کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ کافر اور مشرک کے ساتھ دوستی کرنا، طعام کھانا اور سلام کا جواب دینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ کہ اگر سلام کا جواب دینا جائز ہے تو کس طرح جواب دیا جائے؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین میں سے کسی بات سے جو اِنکار کرے وہ ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے۔(۱) اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ذات میں، صفات میں، یا اس کے کاموں میں کسی دُوسرے کو شریک سمجھے وہ ’’مشرک‘‘ کہلاتا ہے۔(۲) کافروں کے ساتھ دوستی رکھنا منع ہے، مگر بوقتِ ضرورت ان کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کافروں نے کھانا کھایا ہے۔(۳) کافر کو خود تو سلام نہ کیا جائے، اگر وہ سلام کہے تو جواب میں صرف ’’وعلیکم‘‘ کہا جائے۔(۴)

  1. (۱) والکفر لغۃً الستر، وشرعًا تکذیبہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شیء مما جاء بہ من الدین ضرورۃ۔ (درمختار ج:۴ ص:۳۲۳)۔
  2. (۲) کرامات الأولیاء حق ۔۔۔ وکرامتہ ظھور أمر خارق للعادۃ من قبلہ غیر مقارن لدعوَی النُّبوۃ ۔۔۔ وما یکون مقرونا بدعوَی النُّبوۃ یکون معجزۃ۔ (شرح عقائد ص:۱۴۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
  3. (۳) وانزل وفد عبدالقیس فی دار رملۃ بنت الحارث واجری علیھم ضیافۃً وقاموا عشرۃ أیام۔ (طبقات ابن سعد ج:۱ ص:۳۱۵)۔
  4. (۴) عن انس بن مالك قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اذا سلّم علیكم أھل الکتاب فقولوا: وعلیكم۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۲۵، باب كیف الردّ علی أھل الذمّۃ بالسلام، نور محمد اصح المطابع )۔