کفر،شرکاوراِرتدادکیتعریفواَحکام
اُمورِغیرعادیہاورشرک
سوال:۔
کیا اللہ تعالیٰ نے انبیاء ، اولیاء اور فرشتوں کو اِختیارات اور قدرتیں بخشی ہیں؟ جیسے انبیائے کرام نے مُردوں کو زندہ کیا، اس کے علاوہ کوئی فرشتہ ہوائیں چلاتا ہے، کوئی پانی برساتا ہے، وغیرہ، مگر ’’درسِ توحید‘‘ کتاب میں ہے کہ بھلائی بُرائی، نفع نقصان کا اختیار اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں، خواہ نبی ہو یا ولی، اللہ کے سوا کسی اور میں نفع و نقصان کی قدرت جاننا ماننا شرک ہے۔
جواب:۔
جو اُمور اَسبابِ عادیہ سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً: کسی بھوکے کا کسی سے روٹی مانگنا یہ تو شرک نہیں، باقی انبیاء و اولیاء کے ہاتھ پر جو خلافِ عادت واقعات ظاہر ہوتے ہیں وہ معجزہ اور کرامت کہلاتے ہیں،(۱) اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتا ہے، مثلاً: عیسیٰ علیہ السلام کا مُردوں کو زندہ کرنا، یہ ان کی قدرت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتا تھا، یہ بھی شرک نہیں، یہی حال ان فرشتوں کا ہے جو مختلف کاموں پر مامور ہیں۔ اُمورِ غیر عادیہ میں کسی نبی اور ولی کا متصرف ماننا شرک ہے۔(۲)
- (۱) کرامات الأولیاء حق ۔۔۔ وکرامتہ ظھور أمر خارق للعادۃ من قبلہ غیر مقارن لدعوَی النُّبوۃ ۔۔۔ وما یکون مقرونا بدعوَی النُّبوۃ یکون معجزۃ۔ (شرح عقائد ص:۱۴۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) حقیقۃ الشرك أن یعتقد إنسان فی بعض المعظمین من الناس ان الآثار العجیبۃ الصادرۃ منہ إنما صدرت بکونہ متصفًا بصفۃ من صفات الکمال مما لم یعھد فی جنس الْإنسان بل یختص بالواجب جل مجدہٗ لَا یوجد فی غیرہ إلّا أن یخلع ھو خلعۃ الاُلوھیۃ علٰی غیرہ أو یفنی غیرہ فی ذاتہ ویبقی بذاتہ أو نحو ذالك مما یظنہ ھٰذا المعتقد من أنواع الخرافات كما ورد فی الحدیث ’’ان المشركین کانوا یلبون بھٰذہ الصیغۃ لبیك لبیك لَا شریك لك إلّا شریكًا ھو لك تملکہ وما ملك‘‘ فیتذلل عندہ أقصی التذلل ویعامل معہ معاملۃ العباد مع اللہ تعالٰی۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۶۱، باب أقسام الشرك)۔

