بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام

شرک‌کی‌حقیقت‌کیا‌ہے؟

سوال:۔

شرک ایک ایسا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں فرمائیں گے، البتہ وہ شخص مرنے سے پہلے توبہ کرلے تب ہی یہ گناہ معاف ہوسکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نادانستہ طور پر شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اسی حالت میں مرجاتا ہے تو اس کا یہ گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے یا کبھی بخشش نہ ہوگی؟

جواب:۔

شرک کے معنی ہیں حق تعالیٰ کی اُلوہیت میں یا اس کی صفاتِ خاصہ میں کسی دُوسرے کو شریک کرنا۔(۱) اور یہ جرم بغیر توبہ کے ناقابلِ معافی ہے۔(۲) نادانستہ طور پر شرک میں مبتلا ہونے کی بات سمجھ میں نہیں آئی، اس کی تشریح فرمائی جائے۔

  1. (۱) الشرك علٰی ثلاث مراتب وكلہ محرم، وأصلہ إعتقاد شریك ﷲ فی اُلوھیتہ وھو الشرك الأعظم ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر قرطبی ج:۵ ص:۱۱۸، طبع بیروت)۔
  2. (۲)ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ ﵞ النساء ١١٦