بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دارالعلوم کراچی کا جواب

تنقید‌اور‌حقِ‌تنقید

سوال:۔

بخدمت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مولانا صاحب! میں بی ایس سی کا طالب علم ہوں، مذہبی گھرانے سے تعلق ہے، اسکول اور کالج کے زمانے سے اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے بڑی عقیدت ومحبت ہے، میں ان کو اس دور کا عظیم مذہبی اسکالر خیال کرتا ہوں۔ لیکن دُوسرے علمائے کرام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے، اکابرینِ اُمت کی تحریک اسلامی پر نقد وتنقید سمجھ سے بالاتر ہے، یہ سوال میرے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہے، اس لئے آپ کو عریضہ لکھ رہا ہوں کہ شاید آپ اس کی وضاحت فرمائیں کہ آخر کیوں مولانا مودودی صاحب کی مخالفت کی جاتی ہے؟

جواب:۔

عزیزم سلّمہ السلام علیکم!

تمہیں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے والہانہ عقیدت ہے، اور تمہارے لئے یہ سوال حیرت و پریشانی کا موجب ہے کہ اکابرِ اُمت، جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی تحریکِ اسلامی کی مخالفت پر کیوں کمربستہ ہیں؟ میں پوچھتا ہوں کہ سرسید احمد خان کی تحریک اصلاحِ اسلام، عبداللہ چکڑالوی کی تحریکِ قرآن، غلام احمد قادیانی کی تحریک تجدیدِ اسلام، غلام احمد پرویز کی تحریک طلوعِ اسلام، ڈاکٹر فضل الرحمن کی تحریک تجددِ اسلام اور سوشلسٹوں کی تحریک ترقی پسند اسلام کی مخالفت علماء نے کیوں کی؟ اس کے جواب میں تم یہی کہوگے کہ ان لوگوں نے اپنی اپنی ذہنی سطح کے مطابق ’’اسلام‘‘ کا ایک مصنوعی خاکہ اپنے ذہن میں مرتب کرکے اسے تو معیار قرار دیا، اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کی جو چیز اس مصنوعی خاکہ میں فٹ ہوسکی اسے لے لیا اور جو چیز اس کے خلاف نظر آئی، اسے یا تو ہنسی مذاق میں اڑادیا، یا تاویل کے تیشے سے تراش کر اس کے مفہوم و معنی کو غارت کردیا، گویا ان کا ذہن و فکر، عقل و شعور اور دل ودماغ، اسلام کے تابع نہیں، بلکہ ’’اسلام‘‘ کا ردّ و قبول ان کے ذہنی خاکہ کے تابع ہے۔

اور علماء کا فرض تھا کہ ان کے مصنوعی ’’طلسم اسلام‘‘ کو توڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے حقیقی اسلام کی، جو چودہ سو سال سے سینوں اور سفینوں میں محفوظ چلا آتا ہے، امت کو دعوت دیتے اور ان نئے ’’مفکرینِ اسلام‘‘ کے فتنہ سے لوگوں کو آگاہ کرتے۔

تم جانتے ہو کہ علمائے امت نے ہر قیمت پر یہ فریضہ ادا کیا، انہیں گالیاں دی گئیں، ان پر فقرے چست کئے گئے، ان کا مذاق اُڑایا گیا، ان پر طعن و تشنیع کے نشتر چلائے گئے، مگر علمائے اُمت کو تو اپنا فرض ادا کرنا تھا، اور انہوں نے بہرحال اسے ادا کیا، اور جب تک جان میں جان اور منہ میں زبان ہے تب تک علمائے اُمت سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ دن کو دن اور رات کو رات کہنے کے ’’جرم‘‘ کا ارتکاب نہیں کریں گے۔

اب سنو۔۔۔! اسی طرح کا ایک مصنوعی خاکہ جناب مودودی صاحب نے اپنی ذہانت و طباعی سے اختراع کیا، اسی کو ’’اسلامی تحریک‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا، اسی کی بنیاد پر ’’اسلامی جماعت‘‘ تشکیل کی، اور آج ان کی ’’جماعتِ اسلامی‘‘ کے بڑے چھوٹوں پر اسی مصنوعی خاکے کی چھاپ ہے، خدانخواستہ میرا یہ مطلب نہیں کہ جو حکم مذکورہ بالا لوگوں کا ہے، وہی جناب مودودی پر بھی لگا رہا ہوں، نہیں! بلکہ درجات و مراتب کا فرق ہے، ظلمات بعضہا فوق بعض! تشبیہ سے مقصد صرف اتنا ہے کہ ’’حقیقی اسلام‘‘ کو سمجھنے سے یہ سب لوگ قاصر رہے اور اپنے ’’فہمیدہ اسلام‘‘ کا الگ ناک، نقشہ مرتب کرنے میں سب شریک ہیں۔ یہ الگ امر ہے کہ ان میں سے بعض کا مرتبہ نقشہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام سے بالکل ہی مختلف ہو، اور بعض کا اس قدر مختلف نہ ہو، مگر اس میں کیا شک ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنی عقل و فہم کے زور سے اسلام کا جو خاکہ سمجھا، اسی کو لوگوں کے سامنے پیش کیا، اسی کو مدار ٹھہرایا اور اسی کی قوم کو دعوت دی۔

عربی کی مثل ہے: ’’لِكُلِّ سَاقِطَةٍ لَاقِطَةٌ‘‘ یعنی ہر گری پڑی چیز کو اُٹھانے والا کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔ ذہنی مطابقت اور قلبی تشابہ کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ افراد مل ہی گئے۔ یہ تمہارے سوال کا مختصر سا جواب ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ اس اجمال سے تمہاری تشفی نہیں ہوگی، اس لئے مجھے اس کی بقدر ضرورت تفصیل کرنا ہوگی، آج کی صحبت میں، میں آپ کو صرف ایک نکتہ پر غور و فکر کی دعوت دوں گا، تم نے ’’جماعتِ اسلامی‘‘ کے دستور میں جناب مودودی صاحب کے قلم سے یہ فقرہ پڑھا ہوگا:

’’رسولِ خدا کے سوا کسی انسان کو معیارِ حق نہ بنائے، نہ کسی کو تنقید سے بالاتر سمجھے، کسی کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا نہ ہو، ہر ایک کو خدا کے بتائے ہوئے اسی معیارِ کامل پر جانچے اور پرکھے، اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں، اس کو اسی درجہ میں رکھے۔‘‘ (مودودی مذہب ص:۵۳، دستور جماعت اسلامی ص:۲۴، طبع سوم ۱۹۶۲ء)

میں تمہارا وقت بچانے کے لئے ’’مودودی مذہب‘‘ مؤلفہ مولانا قاضی مظہر حسین صاحب کا حوالہ دے رہا ہوں، اس میں درج شدہ حوالوں پر کوئی اعتراض ہو تو مصنف ما شاء اللہ بقیدِ حیات ہیں، ان سے رجوع کرسکتے ہیں، چاہو تو یہ ذمہ داری میں خود بھی قبول کرنے کو تیار ہوں۔

اس دستوری عقیدہ میں جناب مودودی صاحب نے ہر فردِ جماعت کو، خواہ اس کی اپنی حیثیت کچھ ہی ہو، یہ تلقین فرمائی ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو مستثنیٰ کرنے کے بعد کسی انسان کو ’’تنقید‘‘ سے بالاتر نہ سمجھا جائے، نہ کسی کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہوا جائے، بلکہ جو کسوٹی مودودی صاحب اور ان کی جماعت کو خدا نے عطا کی ہے، اس پر ہر ایک کو ٹھونک بجاکر پرکھا جائے، اور پھر اس جانچ پرکھ کے نتیجہ میں جس کا جو درجہ متعین ہو اُسے اُسی درجہ میں رکھا جائے۔

اب ذرا ’’مودودی مذہب‘‘ کا مطالعہ کرکے دیکھئے کہ ’’تنقید‘‘ کی چھلنی میں چھان پھٹک کر مودودی صاحب اور ان کی جماعت نے اکابر کے کیا کیا درجے متعین فرمائے ہیں؟ سنئے!! مودودی صاحب بتاتے ہیں کہ:

۱:۔’’موسیٰ علیہ السلام کی مثال اس جلد باز فاتح کی سی ہے جو اپنے اقتدار کا استحکام کئے بغیر مارچ کرتا ہوا چلا جائے اور پیچھے جنگل کی آگ کی طرح مفتوحہ علاقہ میں بغاوت پھیل جائے۔‘‘ (مودودی مذہب ص:۲۳، رسالہ ترجمان القرآن ج:۲۹ عدد:۴ ص:۵)

۲:۔’’پیغمبروں تک کو اس نفس شریر کی رہزنی کے خطرے پیش آئے ہیں۔ چنانچہ داؤد علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کو ایک موقع پر تنبیہ کی گئی کہ: ﵟ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ ﵞ (ص ٢٦)۔‘‘ (سورۂ ص رکوع:۲) ہوائے نفس کی پیروی نہ کرنا ورنہ یہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادے گی۔‘‘ (ص:۲۱)

۳:۔’’حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے عہد کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متأثر ہوکر اوریا سے طلاق کی درخواست کی تھی۔‘‘ (ص:۲۴، تفہیمات حصہ دوم ص:۴۲، طبع دوم)

۴:۔’’حضرت داؤد کے فعل میں خواہش نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے ’’نامناسب استعمال‘‘ سے بھی کوئی تعلق تھا، اور وہ کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرمانروا کو زیب نہ دیتا تھا۔‘‘ (ص:۲۵، تفہیم القرآن ج:۴ سورۂ صٓ، ص:۳۲۷، طبع اول اکتوبر ۱۹۶۶ء)

۵:۔’’حضرت نوح علیہ السلام اپنی بشری کمزوریوں سے مغلوب اور جاہلیت کے جذبہ کا شکار ہوگئے تھے۔‘‘ (ص:۲۶)

۶:۔عصمت دراصل انبیاءؑ کے لوازمِ ذات سے نہیں ۔۔۔۔۔۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اٹھاکر ایک دو لغزشیں ہوجانے دی ہیں، تاکہ لوگ انبیاءؑ کو خدا نہ سمجھیں اور جان لیں کہ یہ بھی بشر ہیں۔‘‘ (ص:۳۰)

۷:۔’’انبیائے کرامؑ سے قصور بھی ہوجاتے تھے اور انہیں سزا تک دی جاتی تھی۔‘‘ (ص:۳۱)

۸:۔’’حضرت یونس علیہ السلام سے فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں، اور غالباً انہوں نے بے صبر ہوکر قبل از وقت اپنا مستقر بھی چھوڑ دیا تھا۔‘‘ (ص:۳۵، تفہیم القرآن ج:۲ سورۂ یونس، حاشیہ ص:۳۱۲، ۳۱۳ طبع سوم ۱۹۶۴ء)

۹:۔’’صحابہ رضی اللہ عنہ پر بھی بشری کمزوریوں کا غلبہ ہوجاتا تھا، اور وہ ایک دوسرے پر چوٹیں کرجاتے تھے (پوری عبارت مودودی مذہب ص:۵۶ میں پڑھ لیں، آگے کی عبارت نقل کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے)۔‘‘

۱۰:۔’’صحابہ کرامؓ جہاد فی سبیل اللہ کی اصلی اسپرٹ سمجھنے میں بار بار غلطیاں کرجاتے تھے۔‘‘(ص:۵۹)

۱۱:۔’’ایک مرتبہ صدیق اکبرؓ جیسا بے نفس متورع اور سراپا للہیت بھی اسلام کے نازک ترین مطالبہ کو پورا کرنے سے چوک گیا۔‘‘ (ص:۶۰)

۱۲:۔’’(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی) شخصی عظمت نے رحلتِ مصطفوی کے وقت اضطراری طور پر حضرت عمرؓ کو تھوڑی دیر کے لئے مغلوب کرلیا تھا۔‘‘ (ص:۶۰)

۱۳:۔’’حضرت عثمانؓ، جن پر اس کارِ عظیم (خلافت) کا بار رکھا گیا تھا، ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیشروؤں کو عطا ہوئی تھیں، اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظامِ اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔‘‘ (ص:۶۵)

۱۴:۔’’خلفائے راشدین کے فیصلے بھی اسلام میں قانون نہیں قرار پائے، جو انہوں نے قاضی کی حیثیت سے کئے تھے۔‘‘ (ص:۶۶)

۱۵:۔’’حضرت عثمانؓ نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کئے، اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدفِ تنقید بن کر رہیں۔‘‘ (ص:۷۱)

۱۶:۔’’مثال کے طور پر انہوں نے افریقہ کے مالِ غنیمت کا پورا خمس (۵ لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا۔‘‘ (ص:۷۱)

۱۷:۔’’اس سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ دو چیزیں ایسی تھیں جو بڑے دور رس اور خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوئیں۔‘‘ (ص:۷۲)

۱۸:۔’’دوسری چیز جو اس سے زیادہ فتنہ انگیز ثابت ہوئی وہ خلیفہ (حضرت عثمانؓ) کے سیکریٹری کی اہم پوزیشن پر مروان بن الحکم کی ماموریت تھی۔‘‘ (ص:۷۲)

۱۹:۔’’تاریخ بتاتی ہے اور صحیح بتاتی ہے کہ مروان اور یزید امتِ مسلمہ کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیتیں سمجھی جاتی ہیں، یہ نرم سے نرم الفاظ ہیں جو مروان اور یزید کے بارے میں کہے جاسکتے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ فاران ستمبر ۱۹۷۶ء ص:۴۲)

۲۰:۔’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی کا یہ پہلو (جو فقرہ ۱۷، ۱۸ میں نقل ہوا) بلاشبہ غلط تھا، اور غلط کام بہرحال غلط ہے، خواہ کسی نے کیا ہو، اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا، نہ عقل وانصاف کا تقاضا ہے اور نہ دین ہی کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ کہا جائے (اور ’’اَللّٰهَ! اَللّٰهَ! فِيْ أَصْحَابِيْ‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔؟ ــ ناقل)۔‘‘ (ص:۷۳)

۲۱:۔’’ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرِ منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سبّ و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔ کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا، شریعت تو درکنار، انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا، اور خاص طور پر جمعہ کے خطبہ کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا۔‘‘ (ص:۷۵)

۲۲:۔’’زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان افعال میں سے ہے جن میں انہوں نے سیاسی اغراض کے لئے شریعت کے ایک مسلّم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی، (غالباً اسی سنت کی تقلید میں آنجناب نے بھی فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں ’’سیاسی اغراض‘‘ کے لئے شریعت کے ایک مسلّم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی ــ ناقل)۔‘‘ (ص:۷۶، خلافت و ملوکیت ص:۱۷۵)

۲۳:۔’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنا حامی اور مددگار بنانے کے لئے اپنے والد ماجد کی زناکاری پر شہادتیں لیں (زناکاری پر شہادتیں لینا! کیسا عجیب انکشاف ہے۔۔۔؟ ــ ناقل)۔ اور اس کا ثبوت بہم پہنچاکر کہ زیاد انہی (ابوسفیانؓ) کا ولد الحرام ہے، پھر اسے اسی بنیاد پر اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا۔ یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا کچھ مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے، مگر قانونی حیثیت سے بھی یہ ایک صریح ناجائز فعل تھا، کیونکہ شریعت میں کوئی نسب زنا سے ثابت نہیں ہوتا۔‘‘ (ص:۷۷)

۲۴:۔’’حضرت عمرو بن العاصؓ ۔۔۔۔۔۔۔ سے دو کام ایسے سرزد ہوگئے ہیں جنہیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔‘‘ (ص:۸۴)

۲۵:۔’’حضرت علیؓ نے ۔۔۔۔۔۔ مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکر کو گورنری تک کے عہدے دے دئیے، درآنحالیکہ قتلِ عثمانؓ میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا، وہ سب کو معلوم ہے، حضرت علیؓ کے پورے زمانۂ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام (جو ان کے پورے زمانۂ خلافت پر پھیلا ہوا ہے) ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘‘ (ص:۸۵)

۲۶:۔’’حضرت عائشہؓ و حضرت حفصہؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کچھ زیادہ جری ہوگئی تھیں اور حضور سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔‘‘ (ص:۸۸، ہفت روزہ ایشیا لاہور مؤرخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۷۶ء)

۲۷:۔’’تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجددِ کامل پیدا نہیں ہوا، قریب تھا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ اس منصب پر فائز ہوجاتے، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔‘‘ (ص:۹۱)

۲۸:۔’’امام غزالیؒ کے تنقیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے، اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کئے جاسکتے ہیں، ایک قسم ان نقائص کی ہے جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے،د وسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے، اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔‘‘ (ص:۹۲)

۲۹:۔’’پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے وقت سے شاہ (ولی اللہ) صاحب اور ان کے خلفاء کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا، اور ان کو پھر وہی غذا دے دی جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔‘‘ (ص:۹۲)

۳۰:۔’’اسی طرح یہ قالب (تصوف) بھی مباح ہونے کے باوجود اس بنا پر قطعی چھوڑ دینے کے قابل ہوگیا ہے کہ اس کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکہ لگایا ہے، اور اس کے قریب جاتے ہی ان مزمن مریضوں کو پھر وہی چنیا بیگم یاد آجاتی ہے جو صدیوں سے ان کو تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہے۔‘‘ (ص:۹۲)

۳۱:۔’’مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجدد صاحبؒ ناواقف تھے، نہ شاہ صاحبؒ، دونوں کے کلام میں اس پر تنقید بھی موجود ہے، مگر غالباً اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہوچکی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر اسی پرانے مرض سے متأثر ہوتا چلا گیا۔‘‘ (ص:۹۴)

۳۲:۔’’اگرچہ مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جو ابن تیمیہؒ نے کی تھی، لیکن شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا، جس کا کچھ اثر شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریروں میں بھی باقی رہا، اور پیری مریدی کا سلسلہ سید صاحبؒ کی تحریک میں چل رہا تھا، اس لئے ’’مرضِ صوفیت‘‘ کے ’’جراثیم‘‘ سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔‘‘ (ص:۹۵)

۳۳:۔’’اور یہی جہالت ہم ایک نہایت قلیل جماعت (غالباً مودودی صاحب کی اپنی جماعت ــناقل) کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں، خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں یا دستاربند علماء، یا خرقہ پوش مشائخ، یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات، ان سب کے خیالات اور طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے ناواقف ہونے میں سب یکساں ہیں۔‘‘ (ص:۱۹)

میں نے جناب مودودی صاحب کے بپھرے ہوئے دریائے تنقید سے یہ چند قطرے پیش کئے ہیں، اور یہ سب کچھ انہوں نے بزعم خود، خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد لکھا ہے، میں ان کے ایک ایک فقرے پر بحث کرنا نہیں چاہتا، تم خود سوچو کہ ان تنقیدات کے بعد اسلام کا کیا نقشہ ذہن میں آتا ہے؟ البتہ جی چاہتا ہے کہ تمہاری سہولت کے لئے چند اصولی باتیں پیش کروں۔

۱:۔جناب مودودی صاحب کا ارشاد ہے کہ: ’’رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے۔‘‘ اس کے آثار و نتائج پر غور کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھئے کہ ’’تنقید‘‘ کسے کہتے ہیں؟ تم جانتے ہو کہ یہ عربی کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز کو جانچنا، پرکھنا اور کھوٹا کھرا معلوم کرنا۔ اور اردو محاورے میں یہ لفظ نکتہ چینی، خردہ گیری اور اظہارِ نقص کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی جانچنے، پرکھنے کے بعد جب کوئی چیز عیب دار ثابت ہوتی ہے، تو اس کے کمزور پہلوؤں کے اظہار کا نام ’’تنقید‘‘ ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں پر ’’تنقید‘‘ کی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس کے کمزور پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اس پر نکتہ چینی کی اور اس کے عیوب و نقائص بیان کئے۔

۲:۔جس چیز یا جس شخصیت کو ’’تنقید‘‘ کا محل سمجھا جائے، اس کے بارے میں سب سے پہلا تصور یہ قائم ہوتا ہے کہ ’’تنقید‘‘ سے پہلے یہ چیز قابل اعتماد نہیں، بلکہ جانچ پرکھ کی محتاج ہے، اور اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ یہ لائق اعتماد ہے یا نہیں؟ کیونکہ جو چیز سوفی صد لائق اعتماد ہو اس کے جانچنے پرکھنے کی ضرورت نہیں رہتی، اور نہ دنیا میں کوئی ایسا عقلمند آپ نے دیکھا ہوگا جو سکہ بند اور لائق اعتماد چیزوں کی جانچ پرکھ کرتا پھرے۔ الغرض یہ ایک بدیہی اصول ہے کہ جو چیز لائق اعتماد ہے اس کی ’’تنقید‘‘ (یا اردو محاورے کے مطابق اس پر ’’تنقید‘‘) کی ضرورت نہیں۔ اور جو چیز محتاجِ ’’تنقید‘‘ ہے، وہ ’’تنقید‘‘ سے قبل لائق اعتماد نہیں۔ مثلاً: بازار میں مہر شدہ باٹ استعمال ہوتے ہیں، آپ نے کسی کو نہیں دیکھا ہوگا کہ وہ سودا خریدتے وقت دکاندار سے یہ دریافت کرے کہ میاں! اس کا وزن بھی درست ہے؟ کیونکہ وہ سرکاری مہر کے بعد ’’تنقید‘‘ سے بالاتر ہے، اور اس پر سرکاری مہر کا ہونا ہی اس کے قابل اعتماد ہونے کی ضمانت ہے، اس کے باوجود اگر کوئی شخص اس دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو تم جانتے ہو کہ اسے کیا کہا جائے گا؟

اب جب مودودی صاحب ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کوئی بھی انسان ’’تنقید‘‘ سے بالاتر نہیں، تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی انسان بھی ہمارے لئے لائق اعتماد نہیں، اسی اعتماد کو جناب مودودی صاحب ’’ذہنی غلامی‘‘ سے تعبیر کرکے یہ فرماتے ہیں کہ ’’نہ (رسولِ خدا کے سوا) کسی (انسان) کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہو۔‘‘

گویا جناب مودودی صاحب کے نزدیک چودہ سو سال کی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کے کسی قول و فعل پر ہم اعتماد کرسکیں، تاوقتیکہ مودودی صاحب خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچ کر اس کی درجہ بندی نہ کریں، اور ہمیں یہ نہ بتلادیں کہ فلاں شخص پر تم اس حد تک اعتماد کرسکتے ہو اور اس حد تک نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے خود تراشیدہ تصورِ اسلام میں خلفائے راشدین کے قاضیانہ فیصلوں کو بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے امت کو وصیت فرمائی تھی کہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوط پکڑیں، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ میں یہ حدیث تم نے خود پڑھی ہوگی:

’’عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً زَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ، وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! کَأَنَّ ھٰذِہٖ مَوْعِظَۃُ مُوَدّعٍ فَأَوْصِنَا! فَقَالَ: اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیَّا، فَإِنَّہٗ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی إِخْتِلَافًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ، تَمَسَّکُوْا بِھَا وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَّکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔ رواہ احمد وابوداوٗد والترمذی وابن ماجۃ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۹)

ترجمہ:۔’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ہماری جانب رخ کرکے بہت ہی پُراثر وعظ فرمایا، جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل کانپ گئے، وعظ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! آج کا وعظ تو ایسا (جامع اور مؤکد) تھا جیسا رخصت کرنے والے کا وعظ ہوتا ہے (کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں چھوڑتا جس پر تنبیہ کی حاجت ہو) پس (اگر واقعی آپ کے رخصت ہونے کا وقت قریب ہے تو) ہمیں کوئی وصیت فرمائیے (جس کو ہم عمر بھر یاد رکھیں)۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ (تم میں سے جو اولوا الامر ہو اس کی) سنو اور مانو! خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے (نظریات) اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت کو اور ان خلفاء کی سنت کو، جو رشد و ہدایت پر فائز ہیں، اختیار کرو، اسے خوب مضبوط پکڑلو اور دانتوں سے تھام لو، اور نئے نئے امور سے اجتناب کرو، کیونکہ ہر نئی بات (جسے دین کا جز سمجھ لیا جائے وہ) بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

۳:۔جانتے ہو کوئی شخص جب کسی دوسرے پر ’’تنقید‘‘ کرتا ہے تو اس کا منشا کیا ہوتا ہے؟ سنو! اگر کسی کے علم پر ’’تنقید‘‘ کی جائے (خواہ وہ صرف کسی ایک مسئلہ یا معاملہ سے متعلق ہو) تو اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں ان صاحب کا علم صحیح نہیں، بلکہ ناقد کا علم صحیح ہے، یا ناقد اس مسئلہ کو اس سے بہتر سمجھتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے فہم پر ’’تنقید‘‘ کی جائے تو اس کا منشا اپنے فہم کی برتری کا احساس ہے، اور اگر عمل پر ’’تنقید‘‘ کی جائے تو اس کا منشا اپنے عملی تفوق کا جذبہ ہے، الغرض جس بات میں آپ دوسرے پر ’’تنقید‘‘ کریں گے، اس میں اپنے علم و عمل اور عقل و فہم کے مقابلہ میں دوسرے کے علم و عمل اور عقل و فہم کو فروتر سمجھیں گے۔ پھر کبھی تو ناقد واقعی ان امور میں اس شخص سے جس پر ’’تنقید‘‘ کی گئی، فائق ہوتا ہے، اور کبھی واقعتا فائق نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی خوش فہمی کے جنون میں اپنے کو فائق تر سمجھتا ہے۔ اسلام کی اصطلاح میں اسے ’’کبر‘‘ یا ’’تکبر‘‘ کہتے ہیں، اور یہی ’’کبر‘‘ تھا جس کا شکار سب سے پہلے ابلیس ہوا، اور اسی برخود غلط احساسِ برتری نے اسے ’’معلّم ملکوت‘‘ کے بجائے قیامت تک ملعون بنادیا۔

اب اس اصول کو سامنے رکھ کر ذرا مودودی صاحب کی ’’تنقید‘‘ اور ’’اصولِ تنقید‘‘ پر نظر ڈالئے، وہ ہر شخص کو حق دیتے ہیں کہ وہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا سلفِ صالحین میں سے ہر شخص پر ’’تنقید‘‘ کرے، بتائیے! آخر اس کو کیا نام دیا جائے؟ کیا مودودی صاحب کے نزدیک ان کی جماعت کا ہر فرد سلفِ صالحین سے علم و فہم میں فائق ہے؟ اگر نہیں تو اس کا منشا برخود غلط پندار کے سوا اور کیا ہے؟ اور پھر مودودی صاحب یہ کہتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام سے فریضۂ رسالت میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں، اس وقت ان کا دعویٰ گویا یہ ہوتا ہے کہ وہ فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں کو حضرت یونس علیہ السلام سے زیادہ سمجھتے ہیں، بلکہ شاید خدا سے بھی زیادہ، کیونکہ کم از کم مودودی صاحب سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اپنی جماعت کی کوئی ذمہ داری کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جس کے بارے میں انہیں علم ہے کہ وہ اسے پوری طرح ادا نہیں کرسکے گا، مگر بقول ان کے خدا نے فریضۂ رسالت کی ذمہ داری حضرت یونس علیہ السلام کے سپرد کرکے یہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھی۔

اسی طرح جب وہ کہتے ہیں کہ: ’’نوح علیہ السلام جاہلیت کے جذبہ سے مغلوب ہوگئے تھے‘‘ تو گویا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جذبات جاہلیت پر ان کی نظر حضرت نوح علیہ السلام سے زیادہ ہے، اور یہ کہ ان جاہلی جذبات پر غالب آنے کی وہ حضرت نوح علیہ السلام سے زیادہ ہمت رکھتے ہیں، کیونکہ اپنے بارے میں ان کا ارشاد یہ ہے:

’’خدا کے فضل سے میں کوئی کام یا کوئی بات جذبات سے مغلوب ہوکر نہیں کیا اور کہا کرتا، ایک ایک لفظ جو میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے، تول تول کر کہا ہے، اور یہ سمجھتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حساب مجھے خدا کو دینا ہے، نہ کہ بندوں کو۔ چنانچہ میں اپنی جگہ بالکل مطمئن ہوں کہ میں نے کوئی لفظ بھی خلافِ حق نہیں کہا۔‘‘ (مودودی مذہب ص:۲۹)

جب وہ کہتے ہیں کہ: ’’حضرت داؤد علیہ السلام نے اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متأثر ہوکر فلاں کام کیا تھا‘‘ اس وقت وہ نہ صرف اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جو شخص اپنی سوسائٹی کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہوجائے وہ پیغمبر ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ وہ یہ تأثر بھی دیتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام کی جگہ اگر حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ہوتے تو اوریا سے اس کی بیوی کی طلاق کا کبھی مطالبہ نہ فرماتے۔

جب وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ نے فلاں معاملہ میں انسانی اخلاق تک کو ملحوظ نہیں رکھا، اس وقت وہ اپنے آپ کو انسانی اخلاقیات کا حضرت معاویہؓ سے بڑا عالم سمجھتے ہیں۔ اور جب وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ نے شریعت کے فلاں قاعدے کی صریح خلاف ورزی کی، اس وقت وہ اپنے آپ کو حضرت معاویہؓ سے بڑھ کر عالمِ شریعت کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

جب وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سے لے کر حضرت سید احمد شہیدؒ تک ،مجددین کے تجدیدی کاموں میں یہ، یہ نقائص رہ گئے، اس وقت وہ یہ باور کراتے ہیں کہ وہ تجدید و احیائے دین کو ان تمام اکابر سے زیادہ سمجھتے ہیں، اور جب وہ بڑے فخر سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ:

’’میں نے دین کو حال یا ماضی کے اشخاص سے سمجھنے کے بجائے ہمیشہ قرآن اور سنت ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے (اور قرآن اور سنت کا سمجھنا آنجناب کو کس نے سکھایا تھا؟ حال یا ماضی کے اشخاص نے؟ ملاء اعلیٰ کے فرشتوں نے؟ یا مرزا غلام احمد کی طرح سب کچھ شکمِ مادر ہی سے لے کر آئے تھے؟ ناشکری کی حد ہے کہ دوچار اُلٹے سیدھے حرف جن اشخاص کی جوتیوں کی برکت سے حاصل ہوئے ان ہی کو نظرانداز کیا جارہا ہے ــ ناقل) اس لئے میں کبھی یہ معلوم کرنے کے لئے کہ خدا کا دین مجھ سے اور ہر مؤمن سے کیا چاہتا ہے، یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ فلاں اور فلاں بزرگ کیا کہتے ہیں؟ بلکہ صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کیا کہتا ہے اور رسول نے کیا کہا؟ (بنیادی طور پر ٹھیک یہی نظریہ مرزا غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کا ہے ــ ناقل)۔‘‘ (مودودی مذہب ص:۹۸)

اس وقت دراصل وہ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امت کے طویل ترین دور میں کوئی ’’بزرگ‘‘ ان سے زیادہ دین کو سمجھنے والا پیدا نہیں ہوا، خیر! یہ ایک الگ موضوع ہے، اس پر اِن شاء اللہ کبھی دوسری فرصت میں کچھ کہوں گا۔ سرِدست مجھے یہ کہنا ہے کہ ’’تنقید‘‘ کا منشا ہمیشہ: ’’أَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ!‘‘ کا احساس ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص واقعتا کسی سے علم و فہم اور عمل و اخلاق میں بڑھ کر ہے تو اسے بلاشبہ اپنے چھوٹے پر ’’تنقید‘‘ کا حق حاصل ہے، اور اگر برخود غلط احساسِ برتری اس کا منشا ہو تو اس سے ہر مؤمن کو اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ اب اگر جناب مودودی صاحب واقعی ان تمام حضرات سے اپنے علم و فہم اور عمل و تقویٰ میں فائق ہیں، جن پر انہوں نے ’’تنقیدیں‘‘ کی ہیں تو بلاشبہ انہیں ’’تنقید‘‘ کا حق ہے، اور اگر ان حضرات کے مقابلہ میں علم و فہم اور عمل و تقویٰ میں تہی دامن ہونے کے باوصف وہ تنقید کا شوق رکھتے ہیں تو اس کا منشا بجز غرور و پندار اور تکبر کے کیا ہوسکتا ہے؟

۴:۔پھر جناب مودودی صاحب کے نظریہ کے مطابق جب چودہ سو سالہ امت کا کوئی بھی فرد ’’تنقید‘‘ سے بالا نہیں، نہ کسی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، بلکہ خدا کی بتائی ہوئی کسوٹی پر ہر ایک کو جانچنا اور پرکھنا لازم ہے تو سوال یہ ہے کہ جو دین آج کی امت کو سلفِ صالحین کی نقل و روایت اور علم و عمل کے ذریعہ پہنچا ہے، اس پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ تم جانتے ہو کہ ہمارے دین کے دلائل کل چار ہیں:

۱:۔کتاب اللہ۔

۲:۔سنتِ رسول اللہ (خلفائے راشدینؓ کی سنت اسی کے ضمن میں آجاتی ہے)۔

۳:۔اِجماعِ اُمت۔

۴:۔اور قیاسِ مجتہدین۔

ائمہ اِجتہاد کے فقہی مسائل تو یوں ختم ہوئے کہ مودودی صاحب ماشاء اللہ! خود مجتہدِ مطلق ہیں۔ انہیں دین فہمی کے لئے ماضی و حال کے کسی بزرگ سے علمی استفادہ کی حاجت نہیں، اور جب پوری امت کو محتاجِ ’’تنقید‘‘ اور نالائق اعتماد فرض کرلیا جائے تو ظاہر ہے کہ ان کے اجماع کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، اور کتاب و سنت کا مدار، روایت و درایت پر ہے، جن لوگوںکے علم و عمل پر ہی اعتماد نہیں، ان کی روایت و درایت کا حال بھی معلوم ہوگیا، خصوصاً جبکہ جناب مودودی صاحب کی تحقیق کے مطابق صحابہ کرامؓ ایک دوسرے پر چوٹیں کیا کرتے تھے، اور ایک دوسرے کو (نعوذباللہ!) جھوٹا بتایا کرتے تھے، اگر صحابہ کرامؓ بھی ۔۔۔ نعوذباللہ! ۔۔۔ ایسے ہی تھے جس کی تصویر مودودی صاحب کی ’’تنقیدات‘‘ نے مرتب کی ہے تو بعد کی امت تو ظاہر ہے کہ ان سے بدتر ہی ہوگی، نتیجہ یہ کہ قرآن و حدیث سے لے کر اجماع و قیاس تک ہر چیز مشکوک اور ناقابلِ اِعتماد ٹھہری، جب تک کہ خدا کے بتائے ہوئے ’’معیار‘‘ پر پرکھ کر مودودی صاحب ہمیں نہ بتائیں کہ فلاں چیز کتنی حد تک قابلِ اِعتماد ہے اور کتنی حد تک نہیں۔

ذرا انصاف سے کہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مسٹر غلام احمد پرویز اس کے سوا اور کیا کہتے ہیں؟ اور پھر یہ ’’خدائی معیار‘‘ مودودی صاحب کو کہاں سے حاصل ہوگا؟ جس پر جانچ جانچ کر وہ سلفِ صالحین میں سے ایک ایک فرد کی درجہ بندی کریں گے (اور جیسی درجہ بندی انہوں نے کردی ہے، اس کا کچھ نمونہ تو تم دیکھ ہی چکے ہو) کیا ان پر نئے سرے سے ’’وحی‘‘ نازل ہوگی؟ یا چودہ سو سال پیچھے کی طرف زقند لگاکر وہ براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن و سنت لیں گے۔۔۔؟

جب وہ ماضی یا حال کے کسی بھی بزرگ کے واسطے کے قائل نہیں، نہ کسی کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کی ذلت اٹھانے کے لئے وہ تیار ہیں تو آخر ’’خدائی معیار‘‘ انہیں کس غار سے دستیاب ہوگا۔۔۔؟

۵:۔تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہمارے آخری دین کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے، دین کی حفاظت جب ہی ہوسکتی ہے جبکہ نصوصِ دین کے الفاظ بھی بغیر کسی تغیر و تبدل کے محفوظ رہیں، ان کے معانی بھی محفوظ ہوں، پھر ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح خود عمل کرکے دکھایا اور صحابہ کرامؓ سے اپنے سامنے عمل کرایا، وہ بھی محفوظ ہو، اور پھر ان اعمال سے جو اسلامی ذوق، احسانی کیفیت اور دین فہمی کا ملکہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی محفوظ رہے۔

غرضیکہ یہ چار چیزیں ہوئیں: الفاظ، معانی، اعمال اور ذوقِ دین۔ ہم ’’ذہنی غلامی‘‘ کے مبتلاؤں کا تو خیال ہی نہیں بلکہ عقیدہ ہے کہ حق تعالیٰ نے یہ چاروں چیزیں بغیر کسی انقطاع کے محفوظ رکھیں اور جن حضرات کے ذریعہ محفوظ رکھیں وہ ہمارے محسن ہیں، مقتدأ ہیں، معتمد علیہ ہیں، اور ہم ان کے ذہنی غلام ہیں، ممنونِ احسان ہیں، کیونکہ اگر ان حضرات کو درمیان سے ہٹادیا جائے اور یہ فرض کرلیا جائے کہ فلاں دور میں وہ دین کے الفاظ کو، یا معانی کو، یا عمل کو، یا ذوق کو محفوظ نہیں رکھ سکے تھے؟ یا یہ کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، تو اس سے پورے دین ہی کی نفی ہوجاتی ہے۔ مگر مودودی صاحب کے نظریہ کے مطابق تو ان چاروں چیزوں میں سے ایک چیز بھی لائق اعتماد نہیں رہی، کیونکہ ماضی اور حال کے بزرگوں کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہونے کی ذلت ان کے منصبِ عالی کے لئے ناقابل برداشت ہے، جس کے لئے وہ کسی طرح بھی آمادہ نہیں۔

اور اگر ان کی رعایت سے یہ تسلیم بھی کرلیں کہ قرآن و سنت کے الفاظ محفوظ ہیں، تب بھی ان الفاظ کو معنی پہنانے اور ان معانی کو عملی جامہ پہنانے اور پھر ان اعمال ریاضت سے دین کا ذوق نصیب ہونے کے مراحل باقی رہیں گے، اور چونکہ مودودی صاحب کسی بھی انسان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ قبول کرنے پر آمادہ نہیں، اس لئے یہ سارے مراحل بغیر کسی کی راہنمائی کے طے کرنے ہوں گے، اسی طرح ان کی جماعت کے ایک ایک فرد کے لئے بھی چونکہ سلفِ صالحین کی ’’ذہنی غلامی‘‘ شجر ممنوعہ ہے، اس لئے انہیں بھی اپنی عقل و فہم کی پرواز سے یہ مرحلے طے کرنے ہوں گے، اس سے ان کے دین کا جو حلیہ بنے گا اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔

حاصل یہ کہ جو شخص آج چودہ سو سال پرانے اسلام کے اندر رہنا چاہتا ہے، اس کو تو حاملین دین، سلف صالحین کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کے بغیر چارہ نہیں، اور جو شخص اس ذلت کو برداشت نہیں کرتا یا نہیں کرنا چاہتا وہ خواہ کتنا ہی بلند پرواز کیوں نہ ہو اسلام کو ۔۔۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کو ۔۔۔ حاصل نہیں کرسکتا، اگر سلفِ صالحین کے قال و حال پر اعتماد کئے بغیر اور ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہوئے بغیر بھی اسلام کو حاصل کرنے کا کوئی سائنٹفک طریقہ جناب مودودی صاحب نے ایجاد فرمایا ہے، تو اس کے معلوم کرنے کا متمنی ہوں، بشرطیکہ وہ مسٹر پرویز اور مرزا قادیانی وغیرہ ملاحدہ کے طریقہ سے ذرا مختلف ہو۔۔۔!

۶:۔جناب مودودی صاحب کی شستہ بیانی اور قلم کی روانی کا میں بھی معترف ہوں، مگر میرا خیال ہے کہ وہ اپنی بلندپروازی میں ایسے الفاظ بھی استعمال فرماجاتے ہیں جو موقع و محل کے اعتبار سے بالکل ہی بے معنی ہوں، مثلاً: یہی ’’تنقید‘‘ سے بالاتر ، اور ’’ذہنی غلامی‘‘ کے الفاظ کو لیجئے! یہ اپنے سیاق و سباق کے اعتبار سے بالکل مہمل ہیں، غور فرمائیے! اگر دین اسلام کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کوئی عیب نہیں بلکہ لائق صد فخر ہے تو حاملین اسلام اور سلفِ صالحین کی پیروی اور ’’ذہنی غلامی‘‘ کیوں لائق فخر نہیں؟ اور اگر دین اسلام ہم ایسے جاہلوں کی ’’تنقید‘‘ سے بالاتر ہے تو جن حضرات کے واسطے سے ہمیں دین پہنچا، ان کا علم و فہم ’’تنقید‘‘ سے بالاتر کیوں نہ ہوگا؟ ارشاد نبوی: ’’لَا تَجْتَمِعُ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلَالَۃِ‘‘ (میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی) کا آخر کیا مفہوم ہے؟

ایک طفل مکتب کا تصور کیجئے جو پہلے دن مکتب میں گیا، استاذ نے اسے بغدادی قاعدہ شروع کرایا ہو، جب استاذ نے اس کو الف، بے کہلایا تو اس کے جواب میں وہ صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ: حضور! میں چودہویں صدی کا مفکر ہوں، آپ کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کیوں قبول کروں؟ تو اس صاحبزادے کی تعلیم جس قدر ’’مکمل‘‘ ہوگی؟ وہ محتاجِ بیان نہیں۔

ہم لوگ صحابہ کرامؓ اور دیگر سلفِ صالحینؒ کے مقابلہ میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس ماڈرن صاحبزادے کی استاذ کے مقابلہ میں تھی، ہمیں دین کی ابجد انہی بزرگوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے، ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے انحراف کا نتیجہ بھی اس صاحبزادے سے مختلف نہیں ہوگا، خدا مجھے معاف فرمائے، میرا خیال یہ ہے کہ سلفِ صالحین سے کٹ کر اور ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کا جوا اُتار کر جو لوگ اسلام کا ناک، نقشہ مرتب کر رہے ہیں، وہ سرے سے اسلام کے قائل ہی نہیں، وہ قرآن و سنت کے الفاظ بار بار اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں کفر و اِلحاد پھیلانے کے لئے اس کے بغیر کام نہیں چلتا۔ جناب مودودی صاحب کو میں ان لوگوں کی صف کا آدمی تو نہیں سمجھتا لیکن افسوس ہے کہ مودودی صاحب نے سلفِ صالحین میں سے ایک ایک فرد کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کی نفی کرکے، دورِ حاضر کے ملاحدہ کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کو ترجیح دی ہے اور انہوں نے ’’آزاد روی‘‘ کا وہی راستہ اپنایا ہے جس پر آج کا ماڈرن طبقہ بگٹٹ دوڑ رہا ہے۔

۷:۔جناب مودودی صاحب، سلفِ صالحینؒ کی اقتدا و اتباع کو ’’ذہنی غلامی‘‘ کا نام دے کر اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں، حالانکہ یہ وہی ’’ذہنی غلامی‘‘ ہے جس کو قرآن ’’سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ‘‘ قرار دے کر اس کے چھوڑنے والوں کو جہنم رسید کرنے کی دھمکی دیتا ہے، اور پھر یہ وہی ’’ذہنی غلامی‘‘ ہے جس کو قرآن ’’ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ‘‘ قرار دے کر اس کی ہدایت کی دعا تلقین کرتا، اور پھر یہ وہی ’’ذہنی غلامی‘‘ ہے جس کے لئے مسلمان ناک رگڑ رگڑ کر پنج وقتہ دُعائیں کرتے ہیں، کتنی مکروہ اور بھونڈی تعبیر ہے، جس راستہ پر مقدسین کے قافلوں کے قافلے گزرے ہیں، اس کی پیروی کو ’’ذہنی غلامی‘‘ بتایا جائے۔

تم نے اگر اِسلامی دور میں اُبھرنے والے باطل فرقوں کا مطالعہ کیا ہے تو یہ حقیقت تم پر آشکارا ہوگی کہ ان سب کی بنیاد اسی ’’أَنَا وَلَا غَيْرِيْ!‘‘ پر استوار ہوئی، ان سب نے سلف کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے عار کی اور اپنی عقل و فہم کے بازوؤں پر تخیلات کے جنگل میں پرواز شروع کردی، اور پھر جس کا جدھر منہ اٹھا اسی سمت اڑتا رہا۔

اسلام میں سب سے پہلے فتنہ عبداللہ بن سبا یہودی نے برپا کیا، جس کی بنیاد ہی ’’رسولِ خدا کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھنے‘‘ پر تھی، پھر اسی سبائیت کے بطن سے ’’فتنہ خوارج‘‘ نے جنم لیا، جو بڑی شوخ چشمی سے کہتے تھے کہ حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ نے دین کو نہیں سمجھا، ہم ان سے بہتر سمجھتے ہیں، پھر انہی بنیادوں پر معتزلہ، مرجئہ، قدریہ وغیرہ فرقے پیدا ہوئے، ان میں سے ہر ایک نے سلف کی پیروی کو ’’ذہنی غلامی‘‘ تصور کیا، ’’فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا!‘‘ دورِ حاضر میں جو نئے نئے فرقے پیدا ہوئے ان میں اُصول ونظریات کے اختلاف کے باوجود تمہیں یہی قدر مشترک نظر آئے گی، سلف صالحینؒ کا مذاق اُڑانا، ان کے کاموں میں کیڑے نکالنا، ان کی حیثیت کو مجروح کرنا، ان پر تنقیدی نشتر چلانا اور ان کی پیروی کو رجعت پسندی، دقیانوسیت، قدامت پرستی، ذہنی غلامی جیسے القاب دینا، دورِ جدید کا فیشن ہے۔

افسوس ہے کہ جناب مودودی صاحب نے بھی اپنی ’’اسلامی تحریک‘‘ کی بنیاد اسی نظریہ پر اُٹھائی ہے۔ ہم جب خارجیوں کے حالات پڑھتے تھے تو ہمیں ان کی جرأت پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے مقابلے میں دین فہمی کا دعویٰ کر رہے ہیں جس نے آفتابِ اسلام کو اپنی آنکھوں سے طلوع ہوتے دیکھا، جو تیئس سالہ دورِ نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفیق ومعتمد علیہ رہا، جو نزولِ وحی کے ایک ایک واقعہ کا عینی شاہد تھا، جس نے اپنی زندگی بچپن سے کہولت تک، اسلام پر نثار کردی، ان لوگوں کی عقل کو آخر کیا ہوگیا تھا کہ وہ اس کی دین فہمی پر تنقید کرتے تھے۔ مگر تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے، آج جناب مودودی صاحب کی ’’تنقیدوں‘‘ نے (جو انہوں نے حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہ کبارؓ پر کی ہیں) خارجیوں سے متعلق ہمارا سارا تعجب دُور کردیا۔ مودودی صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ ’’اسلامی نظام‘‘ کو قائم نہیں رکھ سکتے تھے، نہ ان کے بعد کسی کو اس کی توفیق ہوئی، اب جناب مودودی صاحب کی ’’تحریکِ اسلامی‘‘ اسلامی نظام برپا کرے گی، ’’إِنْ هِيَ إِلَّا خَارِجِيَّةٌ جَدِيْدَةٌ! ‘‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے خدا کے فرشتے حیا کرتے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:

’’اَلَا اَسْتَحْیِیْ مِنْ رَّجُلٍ تَسْتَحْیِیْ مِنْہُ الْمَلائِکَۃُ۔ رواہ مسلم ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۶۱)

ترجمہ:۔’’کیا میں ایسے شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔‘‘

مگر مودودی صاحب ان سے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے، بلکہ ان پر بے لاگ تنقید کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بے پناہ قربانیوں سے متأثر ہوکر فرماتے ہیں:

’’مَا عَلٰی عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ھٰذِہٖ، مَا عَلٰی عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ھٰذِہٖ۔ رواہ الترمذی۔‘‘(مشکوٰۃ ص:۵۶۱)

ترجمہ:۔’’عثمان اس کے بعد جو کچھ بھی کریں ان پر الزام نہیں، عثمان آج کے بعد جو کچھ بھی کریں ان پر الزام نہیں۔‘‘

مگر مودودی صاحب ان پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کو سرمایۂ فخر و مباہات سمجھتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امت کو وصیت فرماتے ہیں:

’’اَللّه! اَللّه! فِیْ اَصْحَابِیْ لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِّنْ بَعْدِیْ، فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۲۶)

ترجمہ:۔’’میرے ساتھیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! ان کو میرے بعد ہدفِ تنقید نہ بنالینا، پس جس نے ان سے محبت کی، پس میری محبت کی بنا پر ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، تو مجھ سے بغض کی بنا پر ان سے بغض رکھا۔‘‘

لیکن مودودی صاحب ان کو تنقید کی چھلنی میں چھاننا ضروری سمجھتے ہیں، ہرکس و ناکس کو ان پر تنقید کا حق دیتے ہیں، ان کی عیب چینی کرکے امت کو ان سے نفرت اور بغض رکھنے کی تلقین کرتے ہیں کہ لوگ ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے دست بردار ہوجائیں، یہ جدید رنگ میں اسی ’’خارجیت‘‘ کا احیا ہے، جو صحابہؓ کے دور میں ابھری تھی: ’’وَلَعَنَ آخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اَوَّلُھَا۔‘‘ (اور اُمت کے پچھلے لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے) (حدیث نبوی)۔

اس تحریر کو فقیہ الامت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر ختم کرتا ہوں، تاکہ ان کے ارشاد سے مودودی صاحب کے فرامین کا ’’معیارِ حق‘‘ تمہیں معلوم ہوسکے:

’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: مَنْ کَانَ مُسْتَنًّا فَلْیَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَیَّ لَا تُؤَمَنْ عَلَیْہِ الْفِتْنَۃُ اُولٰٓئِکَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانُوْا اَفْضَلَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اَبَرُّھَا قُلُوْبًا وَّاَعْمَقُھَا عِلْمًا وَّاَقَلُّھَا تَکَلُّفًا، إِخْتَارَھُمُ اللہُ لِصُحْبَۃِ نَبِیِّہٖ وَلِاقَامَۃِ دِیْنِہٖ، فَأَعْرِفُوْا لَھُمْ فَضْلَھُمْ وَاتَّبِعُوْھُمْ عَلٰی اَثَرِھِمْ وَتَمَسَّکُوْا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ اَخْلَاقِھِمْ وَسِیَرِھِمْ فَإِنَّھُمْ کَانُوْا عَلَی الْھُدَی الْمُسْتَقِیْمِ۔ رواہ رزین۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۲)

ترجمہ:۔’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جس کو کسی کی اقتدأ کرنی ہو تو ان حضرات کی اقتدا کرے جو فوت ہوچکے ہیں، کیونکہ زندہ آدمی فتنہ کے اندیشہ سے مامون نہیں، میری مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ سے ہے۔ یہ حضرات ساری امت سے افضل تھے، سب سے زیادہ پاک دل تھے، علم میں سب سے گہرے اور سب سے کم تکلف تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت، اپنے دین کی اقامت و حمایت کے لئے ان کو منتخب فرمایا، لہٰذا ان کے فضل و کمال کو پہچانو! ان کے نقش قدم پر چلو! جہاں تک ممکن ہو ان کی سیرت و اخلاق کو اپناؤ! کیونکہ وہ سیدھی راہ پر تھے۔‘‘

حق تعالیٰ شانہ‘ ہمیں اور پوری اُمت کو اس زرّیں نصیحت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، اور صراطِ مستقیم پر قائم رکھے، آمین!

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

محمد یوسف عفا اﷲ عنہ