بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دارالعلوم کراچی کا جواب

صحیح بخاری پر عدم اعتماد کی تحریک

سوال:۔

مسئلہ یہ ہے کہ صحیح بخاری کی روایات و اسناد پر عدم اعتماد کی تحریک چل رہی ہے، اس تحریک کے پسِ پردہ جو لوگ ہیں اس کی تفصیل و فہرست خاصی طویل ہے، بہرحال نمونے کے طور پر صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ ادارہ فکرِ اسلامی کے جنرل سیکریٹری جناب طاہر المکی صاحب، جناب عمر احمد عثمانی صاحب کی کتاب ’’رجم اصل حد ہے یا تعزیر‘‘ کے تعارفی نوٹس میں لکھتے ہیں:

’’اہلِ حدیث حضرات کے علاوہ دُوسرے اسلامی فکر خصوصاً احناف کا امام بخاری کی تحقیقات کے متعلق جو نقطۂ نظر رہا ہے وہ مولانا عبدالرشید نعمانی مدرّس جامعہ بنوری ٹاؤن، علامہ زاہدالکوثری مصری اور انور شاہ کشمیری کی کتابوں سے ظاہر ہے۔

مولانا عبدالرشید نعمانی کی تحقیقات سے صرف ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’کیا دو تہائی بخاری غلط ہے‘‘

ترجمہ:۔ علامہ مقبلی اپنی کتاب الأرواح النوافخ میں لکھتے ہیں:

ایک نہایت دین دار اور باصلاحیت شخص نے مجھ سے عراقی کی ’’الفیہ‘‘ (جو اُصولِ حدیث میں ہے) پڑھی اور ہمارے درمیان صحیحین کے مقام و مرتبہ خصوصاً بخاری کی روایات کے متعلق بھی گفتگو ہوئی ۔۔۔۔۔ تو ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ سے دریافت کیا کہ اس کتاب یعنی خصوصاً بخاری کی کتاب کے متعلق حقیقتِ اَمر کیا ہے؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو تہائی غلط ہے۔

خواب دیکھنے والا کا گمان غالب ہے کہ یہ ارشادِ نبوی بخاری کے راویوں کے متعلق ہے، یعنی ان میں دو تہائی راوی غیرعادل ہیں کیونکہ بیداری میں ہمارا موضوعِ بحث بخاری کے راوی ہی تھے، واللہ اعلم۔‘‘

(دیکھئے: مقبلی کی کتاب الارواح النوافخ ص:۶۸۹، ۶۹۰)

اس اچھوتی اور نادر روزگار دلیل پر طاہر المکی صاحب لکھتے ہیں:

’’یہ ہے بخاری کے فنی طور پر سب سے زیادہ صحیح ہونے کی حقیقت، اس کو ایڈٹ کرنے میں مولانا عبدالرشید نعمانی کے ساتھ جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی ولی حسن بھی شریک رہے ہیں جیسا کہ اپنی حواشی کے آخر میں نعمانی صاحب نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا ہے، عبدالرشید صاحب فرماتے ہیں:

جب بخاری کے دو تہائی راوی غیرعادل ہیں تو ان کی روایات کی کیا حیثیت جو یقینا بخاری کی دو تہائی روایات سے زیادہ بنتی ہیں، کیونکہ بہت سے راوی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کئی کئی روایتیں بیان کرتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ رجم اصل حد ہے یا تعزیر ص:۳۹)

محترمی! اب آپ مجھے بتائیں کہ کیا مذکورہ حوالے سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے، آیا وہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر آپ کے نزدیک صحیح ہے تو کیا میں صحیح بخاری کے نسخے ضائع کردُوں؟ اور کیا مدارس کی انتظامیہ کو بذریعہ اخبار ترغیب دُوں کہ وہ اپنے مدارس کے نصاب سے صحیح بخاری کو خارج کردیں؟ مجھے اُمید ہے کہ میری اس اُلجھن کو دُور فرماکر عنداللہ مأجور ہوں گے۔

جواب:۔

درج بالا خط ملنے پر اس ناکارہ نے حضرت نعمانی مدظلہ العالی کی خدمت میں عریضہ لکھا، جو درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’حضرت مخدوم و معظم! مدت فیوضہم وبرکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

ایک صاحب نے طاہر المکی کے حوالے سے آنجناب کی ایک عبارت نقل کرکے تیز و تند سوال کیا ہے۔ یہ اس شخص کا چوتھا خط ہے، میں نے مناسب سمجھا کہ ’تَوْجِيْهُ الْقَوْلِ بِمَا لَا يَرْضٰى بِهِ قَائِلُهُ‘‘ کے بجائے آنجناب ہی سے اس سلسلے میں مشورہ کرلیا جائے۔ مختصر سا اِشارہ فرمادیا جائے کہ طاہر مکی کی نقل کہاں تک صحیح ہے؟ اور ان صاحب کے اخذ کردہ نتیجے سے کہاں تک اتفاق کیا جاسکتا ہے؟ چونکہ مجھے ہفتہ کے دن سفر پر جانا ہے اس لئے میں اس خط کا جواب کل ہی نمٹاکر جانا چاہتا ہوں۔ دعواتِ صالحہ کی اِلتجا ہے۔ والسلام

خویدکم محمد یوسف عفا اللہ عنہ۔‘‘

حضرتِ موصوف مدظلہ العالی نے درج ذیل جواب تحریر فرمایا:

’’محترمی! وَفَّقَنِيَ اللّٰهُ وَإِيَّاكُمْ لِمَا يُحِبُّ وَيَرْضٰى!

وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔

اس وقت درس گاہ میں ’’الأرواح النوافخ‘‘ موجود نہیں، ’’دراسات اللبیب‘‘ معین سندھیؒ کی تعلیقات میں عرصہ ہوا جب تلقی صحیحین کی بحث میں آپس کے اختلاف میں لکھا تھا کہ تلقی کا مسئلہ اختلافی ہے، اختلافی احادیث میں اجماع کا دعویٰ صحیح نہیں، اس پر بحث کرتے ہوئے کہیں اس خواب کا بھی ذکر آگیا تھا۔ ’’الارواح‘‘ کے مصنف علامہ مقبلی پہلے زیدی تھے پھر مطالعہ کرکے سنی ہوگئے تھے اور عام یمنیوں کی طرح جیسے امیر یمانی، وزیر یمانی، قاضی شوکانی وغیرہ ہیں غیرمقلد ہوگئے تھے، انہوں نے تلقی رواۃ کے سلسلے میں اس خواب کا ذکر کیا تھا، خواب کی جو حیثیت ہے ظاہر ہے، رواۃ کی تعدیل و تجریح میں اختلاف شروع سے چلا آتا ہے، جیسے مذاہبِ اَربعہ میں اختلاف ہے، اس سے نہ کسی چیز کا بطلان لازم آتا ہے، نہ کسی مختلف چیز پر اِجماع۔ یہ ہے اصل حقیقت تلقی اُمت کی بحث کی کہ نہ متون کی ساری اُمت کو تلقی ہے نہ رواۃ پر، جیسے تمام اختلافی مسائل کا حال ہے۔

قرآنِ کریم کا ثبوت قطعی ہے، لیکن اس کی تعبیر و تفسیر میں اختلاف ہے، پھر کیا اس اختلاف کی بنا پر قرآنِ کریم کو ترک کردیا جائے گا؟ یہی حال متونِ صحیحین و رُواۃِ صحیحین کا ہے کہ نہ ان کا متن اُمت کے لئے واجب العمل ہے اور نہ ہر راوی بالاجماع قابلِ قبول ہے۔ اب منکرینِ حدیث اس سلسلے میں جو چاہیں رَوِش اختیار کریں۔ قرآنِ کریم کی تعبیر و تفسیر میں اختلاف تھا، اور رہے گا۔ روایات کے قبول، عدمِ قبول میں مجتہدین کا اختلاف تھا، اور رہے گا، فَمَن شَآءَ فَلۡيُؤۡمِن وَمَن شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡۚ۔

والسلام

محمد عبدالرشید نعمانی

۲۵؍۲؍۱۴۱۵ھ‘‘

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مکرّم و محترم! زید لطفہٗ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کے گرامی نامے کے جواب پر چند اُمور مختصراً لکھتا ہوں، فرصت نہیں، ورنہ اس پر پورا مقالہ لکھتا۔

۱:۔ آپ کی اس تحریک کی بنیاد طاہر المکی صاحب کی اس تحریر پر ہے جس کا حوالہ آپ نے خط میں نقل کیا ہے، اور آپ نے اس تحریر پر اس قدر اعتماد کیا کہ اس کی بنیاد پر مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ:

’’مذکورہ حوالے سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صحیح ہے یا غلط؟ اگر آپ کے (یعنی راقم الحروف کے) نزدیک بھی صحیح ہے تو کیا میں صحیح بخاری کے نسخے ضائع کردُوں؟ اور کیا مدارس کی انتظامیہ کو بذریعہ اخبار ترغیب دُوں کہ وہ اپنے مدارس کے نصاب سے صحیح بخاری کو خارج کردیں؟‘‘

طاہر المکی صاحب کی تحریر پر اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے آپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ ان صاحب کا تعلق کہیں منکرینِ حدیث کے طائفے سے تو نہیں؟ اور یہ کہ کیا یہ صاحب اس نتیجے کے اخذ کرنے میں تلبیس و تدلیس سے تو کام نہیں لے رہے؟

طاہر المکی کا تعلق جس طبقے سے ہے، تلبیس و تدلیس اس طبقے کا شعار ہے، اور سنا گیا ہے کہ طاہر المکی کے نام میں بھی تلبیس ہے، اس کے والد میانجی عبدالرحیم مرحوم ’’مکی مسجد کراچی‘‘ میں مکتب کے بچوں کو پڑھاتے تھے، وہیں ان کی رہائش گاہ تھی، اسی دوران یہ صاحب پیدا ہوئے اور ’’مکی مسجد‘‘ کی طرف نسبت سے علامہ طاہر المکی بن گئے، سننے والے سمجھتے ہوں گے کہ حضرت ’’مکہ‘‘ سے تشریف لائے ہیں۔

۲:۔ مولانا عبدالرشید نعمانی مدظلہ العالی کے حوالے سے اس نے قطعاً غلط اور گمراہ کن نتیجہ اخذ کیا ہے، جیسا کہ مولانا مدظلہ العالی کے خط سے ظاہر ہے، اوّل تو مقبلی زیدی اور پھر غیرمقلد تھا، پھر اس کا حوالہ خواب کا ہے، اور سب جانتے ہیں کہ خواب دینی مسائل میں حجت نہیں۔(۱) پھر مولانا نے یہ حوالہ یہ ظاہر کرنے کے لئے نقل کیا ہے کہ رُواۃِ بخاری کے بارے میں بعض لوگوں کی یہ رائے ہے۔ مولانا عبدالرشید نعمانی مدظلہ العالی ایک دینی مدرسہ کے شیخ الحدیث ہیں، اگر ان کی وہ رائے ہوتی جو آپ نے طاہر المکی کی تلبیسانہ عبارت سے سمجھی ہے تو وہ آپ کی تحریک ’’عدم اعتماد‘‘ کے علم بردار ہوتے، نہ کہ صحیح بخاری پڑھانے والے شیخ الحدیث۔

۳:۔ طاہر المکی نے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کو بلاوجہ گھسیٹا ہے، حضرتؒ نے بیس برس سے زیادہ صحیح بخاری کا درس دیا، اور تدریسِ بخاری شروع کرنے سے پہلے ۱۳ مرتبہ صحیح بخاری شریف کا بغور و تدبر مطالعہ فرمایا اور اس کی تمام شروح کا بغور وتدبر مطالعہ فرمایا، صحیح بخاری کی دو بڑی شرحیں ’’فتح الباری‘‘ اور ’’عمدۃ القاری‘‘ تو حضرتؒ کو ایسے حفظ تھیں جیسے گویا سامنے کھلی رکھی ہوں۔ (۲) (مقدمہ فیض الباری ص:۳۱)

حضرت شاہ صاحبؒ نہ صرف یہ کہ صحیح بخاری کو’’أَصَحُّ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللّٰهِ‘‘ سمجھتے ہیں بلکہ صحیحین کی احادیث کی قطعیت کے قائل ہیں، چنانچہ ’’فیض الباری‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’صحیح کی احادیث قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، جمہور کا قول ہے کہ قطعیت کا فائدہ نہیں دیتیں، لیکن حافظ رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے کہ قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں۔ شمس الائمہ سرخسیؒ حنفیہ میں سے، حنابلہ میں سے حافظ ابنِ تیمیہؒ اور شیخ ابنِ صلاحؒ بھی اسی طرف مائل ہیں۔ ان حضرات کی تعداد اگرچہ کم ہے مگر ان کی رائے ہی صحیح رائے ہے، شاعر کا یہ قول ضرب المثل ہے:

میری بیوی مجھے عار دِلاتی ہے ہماری تعداد کم ہے، میں نے اس سے کہا کہ کریم لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔‘‘(۳)

(مقدمہ فیض الباری ص:۴۵)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’محدثین کا اتفاق ہے کہ صحیحین میں جتنی حدیثیں متصل مرفوع ہیں، صحیح ہیں، اور یہ دونوں اپنے مصنّفین تک متواتر ہیں، اور جو شخص ان دونوں کی توہین کرتا ہے وہ متبدع ہے اور مسلمانوں کے راستے سے منحرف ہے۔‘‘(۴)

۴:۔ کسی حدیث کا صحیح ہونا اور چیز ہے، اور اس کا واجب العمل ہونا دُوسری چیز ہے، اس لئے کسی حدیث کے صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ واجب العمل بھی ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ منسوخ ہو، یا مقید ہو، یا مؤوّل ہو، اس کے لئے ایک عامی کا علم کافی نہیں، بلکہ اس کے لئے ہم ائمۂ اِجتہاد رحمہم اللہ کی اتباع کے محتاج ہیں۔ قرآنِ کریم کا قطعی ہونا تو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، لیکن قرآنِ کریم کی بعض آیات بھی منسوخ و مؤوّل یا مقید بالشرائط ہیں، صرف انہی اجمالی اشارات پر اکتفا کرتا ہوں، تفصیل و تشریح کی گنجائش نہیں، واﷲ اعلم!

  1. (۱) قال العلّامۃ مُلّا علی القاریٔ رحمہ اللہ: ولذا لم یعتبر أحد من الفقھاء جواز العمل فی الفروع الفقھیۃ بما یظھر للصوفیۃ من الأمور الکشفیۃ أو حالَات المنامیۃ۔ (مرقاۃ شرح المشکٰوۃ ج:۹ ص:۳۵۸، کتاب الفتن۔ أیضًا: قال ابن السمعانی رحمہ اللہ: ویؤخذ من ھٰذا ما تقدم التنبیہ علیہ أن النائم لو رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم یأمرہ بشیء ھل یجب علیہ إمتثالہ ولَا بد، أو لَا بد أن یعرضہ علی الشرع الظاھر فالثانی ھو المعتمد کما تقدم۔ (فتح الباری ج:۱۲ ص:۴۸۱ کتاب التعبیر، طبع قدیمی)۔
  2. (۲) المحدث الجلیل إمام العصر محمد أنور الکشمیری الذی شاممت نفحۃ من ترجمتہ قد اعتنی بصحیح البخاری درسا وإملاء وخوضًا وإمعانا ما لم یعتن بما عداہ، فطالعہ قبل الشروع فی تدریسہ ثلاث عشرۃ مرۃ من أولہ إلٰی آخرہ مطالعۃ بحث وفحص وتحقیق، وطالع شروحہ المطبوعۃ من الفتح والعمدۃ والْإرشاد وغیرھا من المطبوعۃ والمخطوطۃ ما تیسر لہ فی دیار الھند والحجاز وکان العمدۃ والفتح کأنھما صفحۃ بین عینیہ ثم وفق لتدریسہ ما یربو علٰی عشرین مرۃ دراسۃ إمعان وتدقیق حتّٰی أجھد نفسہ شطر عمرہ فی العکوف علیہ تحقیقًا وبحثًا۔ (مقدمۃ فیض الباری ص:۳۱، طبع قاھرۃ)۔
  3. (۳) القول الفصل فی أن خبر الصحیحین یفید القطع، اختلفوا فی أن أحادیث الصحیحین ھل تفید القطع أم لَا؟ فالجمھور إلٰی أنھا لَا تفید القطع وذھب الحافظ رضی اللہ عنہ إلٰی أنھا تفید القطع وإلیہ جنح شمس الأئمۃ السرخسی رضی اللہ عنہ من الحنفیۃ والحافظ ابن تیمیۃ من الحنابلۃ والشیخ عمرو بن الصلاح رضی اللہ عنہُ وھٰؤلَاء وإن کانوا أقل عددًا إلّا أن رأیھم ھو الرأی وقد سبق فی المثل السائر: ’’تعیرنا أنا قلیل عددینافقلت لھا إن الکرام قلیل‘‘۔ (مقدمۃ فیض الباری ص:۴۵، طبع قاھرۃ)۔
  4. (۴) ٔما الصحیحان فقد إتفق المحدثون علٰی أن جمیع ما فیھا من المتصل المرفوع صحیح بالقطع وأنھما متواتران إلٰی مصنفیھما وأنہ کل من یھون أمرھما فھو مبتدع متبع غیر سبیل المؤمنین۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۱۳۴، باب طبقۃ کتب الحدیث)۔