بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دارالعلوم کراچی کا جواب

سوال‌نامہ

سوال:۔

محترم مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!

احوال حال کچھ اس طرح ہے کہ بحیثیت مسلمان میں اپنا دِینی فریضہ سمجھتے ہوئے دِین کو ضرب پہنچانے اور اس کے عقائد کی عمارت کو مسمار کرنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں، اس کے متعلق غلط فہمیوں کو دُور کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنا چاہتی ہوں۔

محترم! یہاں پر چند تنظیموں کی جانب سے نام نہاد پمفلٹ آڈیو / ویڈیو کیسٹس کے ذریعے ایسا لٹریچر فراہم کیا جارہا ہے جس سے بڑا طبقہ شکوک و شبہات اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہو رہا ہے۔ پاکستان، جسے اسلامی فلسفہ و فکر کے ذریعے حاصل کیا گیا، اس کے شہر کراچی میں ایک تنظیم ’’القرآن ریسرچ سینٹر‘‘ کے نام سے عرصہ چھ سات سال سے قائم ہے، اس تنظیم کے بنیادی عقائد مندرجہ ذیل ہیں:

۱:۔ دُنیا کے وجود میں آنے سے پہلے انسانیت کی بھلائی کے لئے قرآن پاک معجزانہ طور پر اِکٹھا دُنیا میں موجود تھا، مختلف انبیاء پر، مختلف ادوار میں، مختلف کتابیں نازل نہیں ہوئیں، بلکہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کو مختلف زمانوں میں مختلف ناموں سے پکارا گیا، کبھی توریت، کبھی اِنجیل اور کبھی زَبور کے نام سے۔

قرآن جو جہاں اور جس وقت پڑھ رہا ہے، اس پر اسی وقت نازل ہو رہا ہے، اور جہاں ’’قُلْ‘‘ کہا گیا ہے، وہ اس انسان کے لئے کہا جارہا ہے جو پڑھ رہا ہے۔

۲:۔ انبیاء کا کوئی مادّی وجود نہیں رہا، اس دُنیا میں وہ نہیں بھیجے گئے، بلکہ وہ صرف انسانی ہدایت کے لئے Symbols کے طور پر استعمال کئے گئے اور موجودہ دُنیا سے ان کا کوئی مادّی تعلق نہیں۔ قرآن شریف کے اندر وہ انسانی رہنمائی کے لئے صرف فرضی کرداروں اور کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں۔

۳:۔ قرآن شریف میں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانۂ حال یعنی Present میں پکارا گیا ہے، لہٰذا حضور بحیثیتِ رُوح ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہیں، اور وہ مادّی وجود سے مبرا ہیں اور نہ تھے۔

۴:۔ حضور کی دیگر انبیاء پر کوئی فضیلت نہیں، وہ دیگر انبیاء کے برابر ہیں، بلکہ حضرت موسیٰ، بعض معنوں اور حیثیتوں میں یعنی قرآن پاک نے بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کا کثرت سے ذکر کیا، جس کی وجہ سے ان کی فضیلت حضور پر زیادہ ہے، حضور کے متعلق جتنی بھی احادیث تاریخ اور تفسیر میں موجود ہیں، وہ انسانوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔

ان تمام عقائد کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ قرآن و سنت کے مطابق یہ فتویٰ دیں کہ:

۱:۔ یہ عقائد اسلام کی رُو سے دُرست ہیں یا نہیں؟

۲:۔ اس کو اَپنانے والا مسلمان رہے گا؟

۳:۔ ایسی تنظیموں کو کس طرح روکا جائے؟

۴:۔ ایسے شخص کی بیوی کے لئے کیا حکم ہے، جس کے عقائد قرآن و سنت کے مطابق ہیں، جو تمام انبیاء، تمام کتابوں، آخرت کے دن اور احادیث پر مکمل یقین اور ایمان رکھتی ہو؟

۵:۔ آخر میں مسلمانیت کے ناطے اپیل ہے کہ ایسے اشخاص سے بھرپور مناظرہ کیا جائے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا، کیونکہ ہم سچے مسلمان ہیں۔ایک خاتون۔ کراچی