بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

سائنس دانوں کے اِلحاد کے اسباب

سوال:۔

ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی بابت ماہ جمادی الاُولیٰ ۱۳۹۳ھ میں جناب پروفیسر مجتبیٰ کریم صاحب کا ایک مضمون سائنس کی ابتدائی معلومات پر شائع ہوا ہے، موصوف نے پہلے پیراگراف میں لکھا ہے:

’’کہا جاتا ہے کہ سائنس پڑھنے والا دہریہ ہوتا ہے، مگر یہ واقعہ نہیں ہے، سائنس کے اُصولوں کو غور سے دیکھا جائے تو خداوندِ قدوس کے کرشموں کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا، سائنس دانوں پر دہریہ ہونے کا اِلزام غلط ہے۔‘‘

جواب:۔

راقم الحروف کے خیال میں یہ بات جزوی طور پر تو صحیح ہے، لیکن امریکہ، یورپ، رُوس اور کمیونسٹ ممالک کے سائنس دان اکثر و بیشتر نیم ملحد اور دہریے نظر آئیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ سائنسی ایجادات نے عقل کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، اور مادّی سطح پر انسان کی راحت و سہولت کی وہ صورتیں وجود میں آئیں جن کا کچھ مدّت پہلے تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر سائنس دان حقیقتِ کبریٰ تک رسائی سے محروم رہے۔

’’ایٹم‘‘ کا جگر چیر کر اس کے بنیادی عناصر اور اس کی پنہاں قوّت کی دریافت میں وہ ضرور کامیاب ہوئے مگر انسانیت کے اجزائے ترکیبی اور اس کی قدر و قیمت کا معما ان سے حل نہ ہوسکا۔ انہوں نے تمام علویات و سفلیات کے نظامِ ارتقا کی کڑیاں بڑی محنت سے تلاش کیں، مگر خود انسان کی معراجِ ارتقا اور اس کا مبداء و منتہی کیا ہے؟ اس کا جواب ان سے نہ بن پڑا۔ وہ کائنات کی ایک ایک چیز کے اوصاف و خواص کو ڈھونڈتے پھرے، مگر انسانیت کے اخلاق و اقدار، اور اس کے بننے اور بگڑنے کے اسباب کی جستجو سے وہ ہمیشہ عاجز رہے۔ انہوں نے مختلف اعراض و جواہر کی پیمائش کے مختلف آلات ایجاد کئے، مگر پیمائشِ انسانیت کا پیمانہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا۔ انہوں نے بڑی حساس خوردبینوں کے ذریعہ چھوٹے سے چھوٹے جراثیم تک دیکھ ڈالے، مگر انہیں ’’خودشناسی‘‘ کی کوئی خوردبین میسر نہ آئی، جس سے انہیں خود اپنے نفس کا کوئی جرثومہ نظر آتا۔ الغرض! سائنس کی ترقی نے ایک دُنیا بدل کر رکھ دی، مگر افسوس کہ مشرق و مغرب کے ملحد سائنس دان ’’خداشناسی‘‘ اور ’’انسان شناسی‘‘ کی دولت سے تہی دامن ہی رہے۔ بلاشبہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا، مگر ہوا، اور سب کے سامنے ہو رہا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ آئیے اس ’’کیوں‘‘ کا جواب کسی ’’خضرِ راہ‘‘ سے دریافت کریں۔ حضرت موسیٰ و خضر (عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمُ الصَّلٰاةُ وَالسَّلَامُ) کا جو قصہ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا، اسی قصے میں حضرت خضر علیہ السلام کا ایک ایسا فقرہ صحیح بخاری کی حدیث میں مروی ہے، جس سے یہ عقدہ حل ہوجاتا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب طالبِ علمانہ حیثیت میں حضرت خضر علیہ السلام کی رفاقت کی درخواست کی تو اس کے جواب میں حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:

’’یَا مُوْسٰی! إِنِّیْ عَلٰی عِلْمٍ مِّنْ عِلْمِ اللہِ عَلَّمَنِیْہِ لَا تَعْلُمُہٗ أَنْتَ، وَأَنْتَ عَلٰی عِلْمٍ مِّنَ اللہِ عَلَمَکَ اللہُ، لَا أَعْلَمُہٗ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۸۸)

ترجمہ:۔ ’’اے موسیٰ! میں اللہ کی جانب سے (عطا کردہ) ایک ایسے علم پر ہوں، جس کو آپ نہیں جانتے، اور آپ اللہ کی جانب سے (عطا شدہ) ایک ایسے علم پر (حاوی) ہیں جس کو میں نہیں جانتا۔‘‘

اور دُوسری روایت میں اس کے بجائے یہ الفاظ ہیں:

’’أَمَا یَکْفِیْکَ أَنَّ التَّوْرَاۃَ بِیَدَیْکَ؟ وَأَنَّ الْوَحْیَ یَأْتِیْکَ؟ یَا مُوْسٰی! إِنَّ لِیْ عِلْمًا لَا یَنْبَغِیْ لَکَ أَنْ تَعْلَمَہٗ وَإِنَّ لَکَ عِلْمًا لَا یَنْبَغِیْ لِیْ أَنْ أَعْلَمَہٗ۔‘‘ (ج:۲ ص:۶۸۹)

ترجمہ:۔ ’’کیا آپ کو اتنا کافی نہیں کہ آپ کے ہاتھوں میں توراۃ موجود ہے، نیز آپ کے پاس وحی آتی ہے؟ اے موسیٰ! میرے پاس جو علم ہے اس کا سیکھنا آپ کے شایانِ شان نہیں، اور آپ کے پاس جو علم ہے اس پر حاوی ہونا میرے بس کی بات نہیں۔‘‘

حضرت خضر علیہ السلام کے اس حکیمانہ فقرے میں جو کچھ سمجھایا گیا، اس کی تشریح کے لئے مندرجہ ذیل نکات ملحوظ رکھے جائیں:

۱:۔ حق تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کو دو قسم کے علم عطا کئے گئے ہیں، ایک کائنات کے اسرار و رموز، اشیاء کے اوصاف و خواص اور فوائد و نقصانات کا علم جسے ’’علمِ کائنات‘‘ یا ’’تکوینی علم‘‘ کہا جاتا ہے، تمام انسانی علوم اور ان کے سینکڑوں شعبے اسی ’’علمِ کائنات‘‘ کی شاخیں ہیں، مگر معلوماتِ خداوندی کے مقابلے میں انسان کا یہ کائناتی علم سمندر کے مقابلے میں ایک قطرے کی اور پہاڑ کی مقابلے میں ایک ذرّہ کی نسبت بھی نہیں رکھتا۔ اور دُوسرا وہ علم جو خالقِ کائنات کی ذات و صفات، اس کی مرضیات و نامرضیات اور انسان کی سعادت و شقاوت کی نشاندہی کرتا ہے، اسے ’’علم الشرائع‘‘ یا ’’تشریعی علوم‘‘ سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

۲:۔ یہ دونوں علم حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے ہی بندوں کو عطا کئے جاتے ہیں، مگر دونوں کے ذرائع الگ الگ ہیں۔ قسمِ اوّل کے لئے احساس، عقل، تجربہ اور فہم و فراست عطا کئے گئے ہیں، اور جہاں انسانی عقل و خرد کی رسائی نہیں ہوسکتی، وہاں وحی اور اِلہام سے اس کی راہ نمائی کی جاتی ہے، چنانچہ انسان کی دُنیوی زندگی سے متعلقہ تمام علوم کے مبادیات وحی و اِلہام کے ذریعہ سکھائے گئے: ’’وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلۡأَسۡمَآءَ كُلَّهَا ‘‘۔ مزید براں انسان کی فطرت میں عقلی و تجرباتی علوم میں ترقی کی وافر استعداد رکھی گئی۔ اسی علم کا ایک شعبہ حضرت خضر علیہ السلام کو وہبی طور پر عطا کیا گیا، اور خالقِ کائنات کی ذات و صفات کی معرفت اور اس کی مرضیات و نامرضیات کی پہچان چونکہ انسانی ادراک سے بالاتر تھی، بنابریں اس کا مدار محض عقل و تجربے پر نہیں رکھا گیا، بلکہ اس کی تعلیم کے لئے انبیائے کرام علیہم السلام کا ایک مستقل سلسلہ جاری کیا گیا، جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی۔ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کو معرفتِ ذات و صفات، مبداء و معاد، سعادت و شقاوت، فضائل و رذائل، عذاب و ثواب کی تفصیلات سے بذریعہ وحی مطلع کیا گیا۔ ان کے سامنے حق تعالیٰ تک پہنچنے کا صاف ستھرا راستہ کھولا گیا، ان کو اس صراطِ مستقیم کی دعوت پر مأمور کیا گیا، اور ان حضرات کو اولادِ آدم کا مقتدا بناکر پوری انسانیت کی سعادت و شقاوت کو ان کے قدموں سے وابستہ کردیا گیا، یہی وہ علم تھا جو موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیا گیا۔

۳:۔ انبیائے کرام (علیہم السلام) بھی چونکہ انسانی برادری کا ایک معزّز گروہ ہے اور انہیں بھی اس ناسوتی زندگی کی ضروریات بہرحال لاحق ہیں، اس لئے وہ انسان کی دُنیوی حاجات سے بے خبر نہیں، نہ کسبِ معاش کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، نہ اس زندگی سے متعلقہ علوم کی نفی کرتے ہیں، بلکہ بشرطِ ضرورت خود بھی کسبِ معاش کرتے ہیں۔ البتہ زندگی کی حرکت و سکون اور کسبِ معاش کے ہر طور و طریق پر وہ اس نقطۂ نظر سے بحث کرتے ہیں کہ یہ حق تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے یا نہیں؟ اور یہ مسافرِ آخرت کے لئے زادِ راہ ہے یا اس کی منزل کو کھوٹا کرتا ہے؟ الغرض! وہ ہر شعبۂ زندگی کے متعلق ہر شخص کو ہدایات دیتے ہیں، جائز و ناجائز بتاتے ہیں، اچھے اور بُرے کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر خود کسی علم اور فن کو اپنا موضوع نہیں بناتے، بلکہ ’’أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُوْرِ دُنْيَاكُمْ‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، گویا دُنیا کے کسی علم و فن اور فلسفہ و سائنس کو موضوع بنانا ان کی اعلیٰ و ارفع شان سے فروتر چیز ہے۔ یہی مطلب ہے حضرت خضر علیہ السلام کے اس ارشاد کا کہ: ’’اے موسیٰ! میرے پاس جو علم ہے اس کا سیکھنا آپ کے شایانِ شان نہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ مادّیات کی جو ترقی ان کے اُمتیوں کے ہاتھوں ہوئی خود ان حضرات کے ہاتھ اس سے ملوّث نہیں ہوئے، اور غالباً یہی نکتہ ہے کہ جہاں تک دین کی ترقی کا تعلق تھا ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی محنت کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور جب اس پر فتوحات کا دروازہ کھلا تو ہاتھ جھاڑ کر دُنیا سے تشریف لے گئے، اور یہ کام اپنے خلفاء کے سپرد فرمایا۔

۴:۔ انبیائے کرام علیہم السلام پر جو علوم کھولے گئے ہیں، وہ صرف انہیں کے لئے نہیں ہیں بلکہ تمام انسانیت ان کی محتاج ہے، اس لئے کہ دُنیا کا کوئی بڑے سے بڑا دانشور، حکیم، سائنس دان اور فلاسفر ان علوم کو انبیاء علیہم السلام کی وساطت کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا۔ عام انسانوں کا کمال یہی ہے کہ وہ ان علومِ نبوّت کا کچھ حصہ ان حضرات کے ذریعہ حاصل کرسکیں، نہ وہ تمام علومِ نبوّت کا احاطہ کرسکتے ہیں، اور نہ انبیاء علیہم السلام سے مستغنی ہوکر انہیں علومِ نبوّت کا کوئی شمہ نصیب ہوسکتا ہے۔ یہی مطلب ہے حضرت خضر علیہ السلام کے ارشاد کا کہ: ’’اور آپؑ کے پاس جو علم ہے اس پر حاوی ہوجانا میرے بس کی بات نہیں۔‘‘ اگر پرائمری کا طالبِ علم ریاضی کے دقیق مسائل یا ایٹمی نظریہ کی تشریحات سمجھنے سے قاصر ہے تو اس میں قصور ان مسائل کا نہیں بلکہ طالبِ علم کی پست ذہنی کا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے دُنیا بھر کے عقلاء و حکماء اور افلاطون و جالینوس طفلِ مکتب ہیں، نہ وہ ان اساتذۂ فطرت (علیہم السلام) سے مستغنی ہوسکتے ہیں، نہ ان کے علوم پر حاوی ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

فلسفہ و سائنس کے ماہرین، علم و دانش اور عقل و فہم کے جس مرتبے پر فائز ہیں اس کی وجہ سے کائنات کی بوقلمونیوں سے بہ نسبت دُوسروں کے زیادہ واقف اور فطرت کی نیرنگیوں کے سب سے زیادہ شناسا ہیں، ان سے یہ توقع بے جا نہیں تھی کہ وہ قدرتِ خداوندی کے سامنے سب سے زیادہ سرنگوں ہوں گے، رسالت و نبوّت کی ضرورت و اہمیت اور انبیائے کرام علیہم السلام کی قدر و منزلت سب سے زیادہ انہی پر کھلے گی، وحیٔ الٰہی سے ۔ جو انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل ہوتی ہے ۔ سب سے زیادہ استفادہ وہی کریں گے، انبیائے کرام علیہم السلام سے وفاداری و جاںنثاری اور اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ سب سے بڑھ کر انہی کی جانب سے ہوگا، لیکن بدقسمتی سے سائنس کی قیادت جن ہاتھوں میں آئی وہ معرفت کے دروازے پر پہنچ کر واپس لوٹ آئے، انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت کو عار سمجھا اور تعلیماتِ نبوّت سے استغنا کا مظاہرہ کیا، یوں ارشادِ خداوندی: ’’وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ‘‘ (اور گمراہ کردیا اس کو اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے) ان پر صادق آیا۔ دورِ قدیم کے فلاسفہ، انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت کے قائل تھے، مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ حضرات تو عوام کی اصلاح کے لئے تشریف لائے ہیں جبکہ ہم تہذیب و تربیت کے اس مرتبے پر فائز ہیں جہاں سے نبوّت سے استفادہ کی ضرورت نہیں رہ جاتی: ’’وَنَحْنُ قَوْمٌ هَذَّبْنَا أَنْفُسَنَا‘‘۔ اِدھر دورِ جدید کے فلاسفہ (سائنس دان) غرور و تکبر میں ان سے ترقی یافتہ ثابت ہوئے، انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے مشن کو بنظرِ حقارت دیکھا، انبیائے کرام علیہم السلام کے زُہد و قناعت اور دُنیا سے بے رغبتی، جس کی دعوت انبیائے کرام علیہم السلام کا خاص موضوع ہے، اس سے نفرت و بیزاری کا اظہار کیا، اور وہ مخصوص علوم، جو انبیائے کرام علیہم السلام کو عطا کئے جاتے ہیں، ان کے بارے میں نہ صرف شک و شبہ بلکہ ضد و عناد کا مظاہرہ کیا، نتیجتاً وہ نہ صرف نورِ ایمان سے محروم رہے بلکہ انسانیت کے اعلیٰ اخلاق و اقدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب ان کی محنت ’’انسان‘‘ اور ’’انسانیت‘‘ کے بجائے مٹی اور مٹی سے نکلنے والی چیزوں پر صَرف ہو رہی ہے، چیزیں بن رہی ہیں اور انسانیت بگڑ رہی ہے۔

سائنس اپنی تمام تر افادیت کے باوجود ان مغرور سائنس دانوں کو دہریت و الحاد کے بھنور سے نہ نکال سکی، بلکہ اس کے برعکس وہ سائنس کو ملحد اور دہریہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ سائنس کے ان نیم پختہ ادھورے نظریات کی بنا پر (جن کو آج شد و مد سے ثابت کیا جاتا ہے، اور کل ان کے غلط ثابت کرنے پر دلائل دئیے جاتے ہیں) سائنس کے بہت سے مسلم طلبہ نے اسلام کے مقابلے میں دہریت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا شروع کردیا، یوں دہریت اور بددِینی سائنسی دور کا فیشن بن کر رہ گئی۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے مقابلے میں سائنس دانوں کی اس متکبرانہ رَوِش کا سبب مادّیت کا غلط نشہ تھا، علمائے سائنس نے یہ فرض کرلیا کہ مادّیت کا یہ عروج، یہ برق اور بھاپ، یہ سیارے اور طیارے، یہ ایٹم اور قوّت انسانیت کا کمال بس انہی چیزوں کی خیرہ سامانی ہے، فضاؤں میں اُڑنا، دریاؤں میں تیرنا، چاند پر پہنچنا، سورج کے طول و عرض کو ناپنا اور زہرہ و مشتری کی خبریں لانا، بس یہی انسانیت کی آخری معراج ہے، اور یہ ترقی چونکہ انبیاء علیہم السلام کے زمانے میں نہیں ہوئی اس لئے نہ صرف یہ کہ سائنسی دور، دورِ نبوّت سے افضل ہے، بلکہ یہ ترقی یافتہ لوگ خود تمام انسانوں سے بڑھ کر ہیں، اور اس کا پروپیگنڈا اس شدت سے کیا گیا کہ آج بہت سے مسلمان بھی موجودہ دور کو ’’مہذب دور‘‘ سے اور دورِ قدیم کو (جو انبیاء علیہم السلام کا دور تھا) ’’تاریک دور‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے نہیں شرماتے، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ!

حالانکہ نبوّت سے کٹ کر جس ترقی پر آج کی دُنیا پھولی نہیں سماتی انبیائے کرام علیہم السلام کی نظر میں اس کی قیمت پرکاہ کے برابر بھی نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَّا سَقٰی کَافِرًا مِّنْھَا شربۃً۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۴۱ کتاب الرقاق)

ترجمہ:۔ ’’اگر اللہ کے نزدیک پوری دُنیا کی قیمت مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ تک نہ دیتے۔‘‘

انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے آخرت کی لامحدود زندگی ہے، جہاں کی نعمت و لذّت اور راحت و آرام کا تصوّر بھی یہاں نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کی کوئی چاہت ایسی نہیں جو وہاں پوری نہ کی جائے، اور کسی قسم کا غم اور اندیشہ ایسا نہیں جس کے لاحق ہونے کا خطرہ وہاں درپیش ہو، زندگی ایسی کہ موت کا احتمال تک نہیں، صحت ایسی کہ مرض کا اندیشہ تک نہیں، جوانی ایسی کہ پیری کا تصوّر تک نہیں، راحت ایسی کہ کلفت کا نام و نشان تک نہیں، سلطنت اتنی بڑی کہ اس کے مقابلے میں یہ زمین و آسمان بیضۂ مور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جس کی آنکھوں کے سامنے آخرت کی یہ بے حد و نہایت زندگی اپنی تمام تر جلوہ افروزی و نعمت سامانی کے ساتھ پھیلی ہوئی ہو وہ ہماری مکروہات و حوادث سے بھرپور زندگی کو کھیل تماشے سے تعبیر نہ کرے تو اس سے زیادہ صحیح تعبیر اور کیا ہوسکتی ہے۔۔۔؟ قرآنِ کریم نے بار بار یہ کہہ کر خوابیدہ انسانیت کو خوابِ غفلت سے چونکایا ہے:

ﵟ وَمَا هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَهۡوٞ وَلَعِبٞۚ وَإِنَّ ٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ لَهِيَ ٱلۡحَيَوَانُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٦٤ ﵞ (العنكبوت ٦٤)

ترجمہ:۔ ’’اور یہ دُنیوی زندگی (فی نفسہٖ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل زندگی عالمِ آخرت ہے، اگر ان کو علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے (کہ فانی میں منہمک ہوکر باقی کو بھلادیتے اور اس کے لئے سامان نہ کرتے)۔‘‘ (بیان القرآن)

چار پانچ سالہ بچہ اگر لکڑی کے چند ٹکڑے اِدھر اُدھر جمع کرکے اور انہیں كَيْفَ مَا اتَّفَقَ جوڑ کر ’’چاند گاڑی‘‘ بنالے تو یہ کھیل اس کی ذہانت کی دلیل ہے، اور اگر ابامیاں بھی صاحبزادے کی نقالی میں اس طرح کی ’’گاڑیاں‘‘ بنانے کو زندگی کا موضوع بنالیں تو یہ ذہانت کی نہیں، بلکہ دماغ چل نکلنے کی علامت ہے۔ آپ ننھے بچوں کو ریت اور مٹی کے گھروندے بناتے روزانہ دیکھتے ہیں، اور اگر آپ کسی دن کسی ’’بڑے صاحب‘‘ کو یہی شغل فرماتے دیکھ لیں تو ان صاحب کے بارے میں آپ کی رائے کچھ اور ہوگی۔ کپڑوں کی کترنیں جمع کرکے گڑیاں بنانا ننھی بچیوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے، اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے کبھی ان کی امی جان بھی ان کی راہ نمائی فرماتی ہیں، لیکن اگر بیگم صاحبہ تمام کاموں کو چھوڑ چھاڑ کر گڑیوں کے کھیل ہی کو زندگی کا مشن بنالیں تو علاج کی ضرورت ہے۔

ٹھیک اسی طرح دُنیا کی پوری زندگی اپنی دِل فریبیوں اور فتنہ سامانیوں کے باوجود انبیائے کرام علیہم السلام کی نظر میں ایک کھیل ہے، اور جن لوگوں نے اسی کھیل کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنالیا ہے، جن کی ساری محنت اسی پر صَرف ہو رہی ہے، اور جو اسی کے لئے چلتے پھرتے اور جیتے مرتے ہیں، وہ اگرچہ بزعمِ خویش بہت بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں، نئی نئی ایجادیں کر رہے ہیں، یا بڑی بڑی جمہوریتیں چلا رہے ہیں، مگر انبیائے کرام علیہم السلام کے نزدیک ان کی انسانیت قابلِ علاج ہے۔

فرمایا گیا ہے:

ﵟ قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِينَ أَعۡمَٰلًا ١٠٣ ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ يُحۡسِنُونَ صُنۡعًا ١٠٤ ﵞ (الكهف ١٠٣ و ١٠٤)

ترجمہ:۔ ’’آپ (ان سے) کہئے کہ کیا تم کو ایسے لوگ بتائیں جن کے کارنامے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں؟ (لو سنو!) یہ وہ لوگ ہیں جن کی دُنیا میں کی کرائی ساری محنت (یہیں) ضائع ہوکر رہ گئی، اور وہ (بربنائے جہل) اسی خیال میں ہیں کہ وہ (بڑا) اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘

الغرض! انبیائے کرام علیہم السلام کے دور میں خود ان کے ہاتھوں مادّی ترقی کے نہ ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ ان کا دور آج کے دور کی بہ نسبت ۔ معاذ اللہ۔ تاریک اور غیرمہذب تھا اور انسانیت نے ارتقا کی ابتدائی منزلیں ابھی طے نہیں کی تھیں، بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کے بلند ترین منصب اور عظیم تر مشن کے مقابلے میں مادّیت کا یہ سارا کھیل بازیچۂ اطفال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام ’’ایٹم‘‘ کی دریافت کے لئے نہیں آتے، بلکہ وہ اس ذاتِ عالی سے انسانیت کو آشنا کرتے ہیں جن کے ادنیٰ اشارہ ’’کُنْ‘‘ میں ہزاروں ’’ایٹم‘‘ پوشیدہ ہیں، ان کی نگہِ بلند صرف کائنات کے باہمی ربط میں کھوکر نہیں رہ جاتی، بلکہ وہ اس پر غور کرتے ہیں کہ کائنات کا، خالق کی قدرت سے کیا ربط ہے؟ ان کا موضوع چیزوں کی محنت نہیں ہوتا، بلکہ انسان سازی کی محنت ہوتا ہے، ان کے نزدیک ان چیتھڑوں کی کوئی اہمیت نہیں جن کو دُنیا کے نابالغوں نے بڑی خوبصورتی سے الماریوں میں سجا رکھا ہے، ان مٹی کے گھروندوں کی کوئی قیمت نہیں جن کو یہ نادان بچے نقش و نگار سے آراستہ کرتے ہیں، اور دُنیا کی ظاہری زرق برق میں ان کے لئے کوئی کشش نہیں جس پر یہ طفلانِ بے شعور ریجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ وہ ایک فناپذیر تودۂ خاک کے سوا کچھ نہیں، اسی حقیقت کا اظہار بھی وہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’مَا لِیْ وَلِلدُّنْیَا؟ وَمَا أَنَا وَالدُّنْیَا إِلّا کَرَاکِبٍ إِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَھَا۔‘‘(مشکوٰۃ ص:۴۴۲، کتاب الرقاق)

ترجمہ:۔ ’’مجھے دُنیا سے کیا واسطہ؟ اور میری اور دُنیا کی مثال تو ایسی ہے کہ ایک راہ رو کسی درخت کے سائے میں اُترا، تھوڑی دیر سستایا، پھر اسے چھوڑ کر چل پڑا (اور پھر اسے دوبارہ وہاں لوٹ کر آنے کی نوبت کبھی نہیں آئی)۔‘‘

اور کبھی لوگوں کو اس حقیقتِ کبریٰ سے یوں آگاہ کرتے ہیں:

’’کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ فِیْ أَھْلِ الْقُبُوْرِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۴۹ کتاب الرقاق)

ترجمہ:۔ ’’دُنیا میں ایسے رہو گویا تم یہاں چند روزہ مسافر ہو یا راہ نورد۔ اور یوں سمجھو کہ تم اہلِ قبور کی صف میں شامل ہو (آج نہیں تو کل تمہارا نام بھی پکارا جائے گا)۔‘‘

ما بعد الطبعیات سے اندھی بہری سائنس، جس کے نزدیک کسی چیز کو تسلیم کرنے کے لئے اس کو مشاہدے کے ہاتھ سے ٹٹول کر دیکھنا شرط ہے، چونکہ اس حقیقت کو سمجھنے سے عاجز ہے اس لئے وہ ’’ایمان بالغیب‘‘ کے تمام سرمایۂ نبوّت کو ایک خندۂ استہزاء کی نذر کردیتی ہے، اور یہاں سے اس کی ملحدانہ شفقت کا آغاز ہوتا ہے۔

الغرض سائنس دانوں کی تمام تر محرومی کا باعث ’’نبوّت‘‘ سے انحراف ہے، اور اس انحراف کا باعث جہل و غرور۔ اگر ان پر کائنات کی اندرونی حقیقت کھل جاتی تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ کائنات صرف یہی نہیں جس کا تعلق موت سے قبل کے مشاہدے سے ہے، بلکہ یہ تو اصل کائنات کا ایک حقیر ذرّہ ہے، اور اس ایک ذرّہ کی حقیقت کا بھی ایک ذرّہ آج تک ان پر منکشف نہیں ہوا، اگر اصل کائنات اور پھر کائنات سے آگے خالقِ کائنات کا راز ان پر کھل جائے تو انہیں معلوم ہوجائے کہ کھربوں ڈالر خرچ کرکے چاند سے چار سیر مٹی لے آنا ترقی کی علامت نہیں، بلکہ سفاہت و کم عقلی کا نشان ہے۔

دامنِ نبوّت سے کٹ کر سائنس کی اس ’’سفیہانہ محنت‘‘ نے انسانیت کو بے قراری و بے چینی اور کرب و اضطراب کا ’’تحفہ‘‘ عطا کیا، اوراس بے چینی کی وقتی تسکین کے لئے مختلف قسم کی مصنوعی تفریحات اور منشیات کا نسخہ تجویز کیا۔ آج کا مفلوج انسان جن اخلاقی، رُوحانی، نفسیاتی اور جسمانی امراض کا تختۂ مشق بن کر رہ گیا ہے، اہلِ عقل کو تجزیہ کرنا چاہئے کہ ان میں ’’سائنسی ترقی‘‘ کا حصہ کتنا ہے۔۔۔؟ راقم الحروف کا ایمان ہے کہ جب تک سائنس کی تگ و دو نبوّت کے تابع نہیں ہوجاتی، جب تک سائنس کا رُخ دُنیا سے آخرت کی طرف نہیں مڑجاتا اور جب تک سائنس دان انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے اپنے علمی عجز کا اعتراف نہیں کرتے، تب تک سائنس بدستور ملحد رہے گی اور اس کا سارا ترقیاتی کارنامہ انسانیت کی ہلاکت اور بربادی کے کام آئے گا۔ رہا یہ سوال کہ کیا سائنس کو نبوّت کے دامن سے وابستہ کرنا ممکن ہے؟ اس کا جواب مسلم سائنس دانوں کی جرأت و ہمت اور فہم و فراست کا منتظر ہے۔

سائنس کے جدید نظریات نے کٹر سے کٹر دہریت نواز سائنس دانوں کو بھی ’’وجودِ خدا‘‘ کے اعتراف پر مجبور کردیا ہے (اگرچہ وہ اتنی جرأت نہیں رکھتے کہ کھل کر اس کا اعلان کریں)، مگر یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ صرف ’’وجودِ خدا‘‘ کا مبہم تصوّر دہریت کے مارگزیدوں کا تریاق نہیں ہے، نہ محض اس تصوّر سے ایک آدمی ’’خداپرست‘‘ کہلانے کا مستحق قرار پاتا ہے، بلکہ اسے یقین و ایمان کی روشنی میں اس سے آگے کے مراحل طے کرنا ہوں گے، یعنی خدا کی صفات کیا ہیں؟ اس عالم کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ اس نے انسان کی اچھائی اور بُرائی کے کیا معیار تجویز کئے ہیں؟