غلط عقائد رکھنے والے فرقے
مذہب اور سائنس میں تصادم
سوال:۔
مولانا صاحب! گزارش یہ ہے کہ جو طلبہ سائنس پڑھتے ہیں ان کی نظر میں مذہب کے بارے میں عجیب کشمکش پیدا ہوجاتی ہے، اگر وہ سائنس کو مانتے ہیں تو مذہب کو جھٹلا بھی نہیں سکتے، لیکن سائنس میں بعض ایسے مظاہر ہیں جو ایک شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اب ہم سائنس میں سب سے پہلے نظریۂ ارتقا کو لیتے ہیں کہ انسان نے بندروں اور بن مانسوں سے ترقی پائی ہے، لیکن قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ پہلے خدا نے انسان کا مٹی کا بت بنایا، پھر جان ڈالی اور حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا، جبکہ سائنس کہتی ہے کہ جب سے آدم بنا ہے تو حوا اس کے ساتھ ہے بلکہ اسی نے اس کو جنم دیا ہے، اور آدم کو بہشت سے زمین پر نہیں اُتارا گیا، بلکہ اسے پیدا ہی زمین پر کیا گیا ہے۔ اس سے سوال یہ اُبھرتا ہے کہ کیا نعوذ باللہ بندر اور بن مانس یا دُوسرے جانور بھی جنت یا دوزخ میں جائیں گے؟ کیونکہ سائنس کے مطابق ان کی جان بھی تو ہماری جیسی ہے۔
ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ رات کو سورج اللہ تعالیٰ کے پاس سجدے میں گرجاتا ہے، اور صبح کو اسے مشرق کی طرف سے نکلنے کا حکم ہوتا ہے، لیکن ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ رات کو سورج امریکہ میں ہوتا ہے، یعنی زمین کی دُوسری طرف۔
ایک حدیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ ستارے آسمان کی چھت کے ساتھ رسوں سے باندھے گئے ہیں، قبلہ! اگر خلا میں جاکر دیکھا جائے تو زمین بھی چاند کی طرح آسمان پر نظر آتی ہے، یعنی ہر طرف آسمان ہی آسمان نظر آتا ہے۔ اور سائنس دان کہتے ہیں کہ کوئی چھت نہیں۔ یہ سب باتیں شک میں مبتلا کردیتی ہیں۔
اور ’’جن‘‘ کے بارے میں یہ عرض ہے کہ کیا ’’جن‘‘ صرف ’’جنوں‘‘ کو ماننے والوں ہی کو کیوں پڑتے ہیں؟ انگریز اور رُوسی وغیرہ جو کہ شراب اور دُوسری چیزیں جو کہ انسان کے لئے ناپاک سمجھی جاتی ہیں، استعمال کرتے ہین، لیکن ان کو ’’جن‘‘ نہیں پڑتے۔ کیا یہ تمام خیالات ایک انسان کے دماغ کو منجمد نہیں کردیتے اور وہ بلاوجہ خوف و ہراس کی کیفیت میں رہتا ہے؟ کیا مذہب اور سائنس ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ اگر آپ نے جواب نہ دیا تو میں سمجھوں گا کہ آپ بھی شک میں پڑ گئے ہیں۔
جواب:۔
آپ کا خط تفصیلی جواب کا متقاضی ہے، جبکہ میں فرصت سے محروم ہوں، تاہم اشارات کی زبان میں مختصراً عرض کرتا ہوں۔ پہلے چند اُصول ذہن نشین کرلیجئے:
۱:۔ سائنس کی بنیاد مشاہدہ و تجربہ پر ہے، اور جو چیزیں مشاہدہ یا تجربہ سے ماورا ہیں وہ سائنس کی دسترس سے باہر ہیں، ان کے بارے میں سائنس دانوں کا کوئی دعویٰ لائقِ التفات نہیں، جبکہ وحی اور نبوّت کا موضوع ہی وہ چیزیں ہیں جو انسانی عقل، تجربہ اور مشاہدہ سے بالاتر ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے اُمور میں وحی کی اطلاع قابلِ اعتبار ہوگی۔
۲:۔ بہت سی چیزیں ہمارے مشاہدے سے تعلق رکھتی ہیں مگر ان کے مخفی علل و اسباب کا مشاہدہ ہم نہیں کرسکتے بلکہ ان کے علم کے لئے ہم کسی صحیح ذریعۂ علم کے محتاج ہوتے ہیں، ایسے اُمور کا محض اس بنا پر انکار کردینا حماقت ہے کہ یہ چیزیں ہمیں نظر نہیں آرہیں۔
۳:۔ دو چیزیں اگر آپس میں اس طرح ٹکراتی ہوں کہ دونوں کو بیک وقت تسلیم کرنا ممکن نہ ہو تو یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ دونوں صحیح ہوں، لامحالہ ایک صحیح ہوگی اور ایک غلط ہوگی۔ ان میں سے کون صحیح ہے اور کون غلط ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کس کا ثبوت یقینی و قطعی ذریعہ سے ہوا ہے؟ اور کس کا ظن و تخمین کے ذریعہ؟ پس جس چیز کا ثبوت کسی یقینی ذریعہ سے ہو وہ حق ہے اور دُوسری باطل یا مؤوّل۔
۴:۔ جو بات اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن ہو اور کسی سچے خبر دینے والے نے اس کی خبر دی ہو، اس کو تسلیم کرنا لازم ہے، اور اس کا انکار کرنا محض ضد و تعصب اور ہٹ دھرمی ہے، جو کسی عاقل کے شایانِ شان نہیں۔
۵:۔ انسانی عقل پر اکثر و بیشتر وہم کا تسلط رہتا ہے، بہت سی چیزیں جو قطعاً صحیح اور بے غبار ہیں، لوگ غلبۂ وہم کی بنا پر ان کو خلافِ عقل تصوّر کرنے لگتے ہیں، اور بہت سی چیزیں جو عقلِ صحیح کے خلاف ہیں، غلبۂ وہم کی وجہ سے لوگ ان کو نہ صرف صحیح مان لیتے ہیں بلکہ ان کو مطابقِ عقل منوانے پر اصرار کرتے ہیں۔
یہ پانچ اُصول بالکل فطری ہیں، ان کو اچھی طرح سمجھ لیجئے، ان میں سے اگر کسی نکتے میں آپ کو اختلاف ہو تو اس کی تشریح کردُوں گا۔ اب میں ان اُصول کی روشنی میں آپ کے سوالات پر غور کرتا ہوں۔
نظریۂ ارتقا
مسٹر ڈارون کا نظریۂ ارتقا تو اَب خود سائنسی دُنیا میں دَم توڑ رہا ہے اور سائنس دانوں میں بدنام ہوچکا ہے، لیکن آپ اسے قرآنی وحی کے مقابلے میں پیش کرکے شبہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ سوال کہ انسان کی آفرینش کا آغاز کیسے ہوا؟ ظاہر ہے کہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے اور کسی اندازے اور تخمینے کی بنا پر اس بارے میں کوئی دوٹوک بات نہیں کہی جاسکتی۔ موجودہ دور کا انسان نہ تو ابتدائے آفرینش کے وقت خود موجود تھا کہ وہ جو کچھ کہتا چشمِ دیدہ مشاہدہ کی بنا پر کہتا، نہ یہ ایسی چیز ہے کہ انسانی تجربے نے اس کی تصدیق کی ہو، ورنہ ہزاروں برس میں کسی ایک بندر کو انسان بنتے ہوئے ضرور دیکھا ہوتا، یا کسی ایک بندر کو انسان بنادینے کا اس نے تجربہ ضرور کیا ہوتا۔ پس جب یہ نظریہ مشاہدہ اور تجربہ دونوں سے محروم ہے تو اس کی بنیاد اَٹکل پچو تخمینوں، اندازوں اور وہم کی کرشمہ سازیوں پر ہی قائم ہوگی۔ اس کے مقابلے میں خود خالقِ کائنات کا قطعی، غیرمبہم اور دوٹوک ارشاد ہے جسے آپ نے سوال میں نقل کیا ہے۔
اب دادِ انصاف دیجئے کہ ایک مسئلے میں، جو انسانی مشاہدہ و تجربہ سے ماورا ہے، مسٹر ڈارون اور ان کے مقلدوں کا اَٹکل پچو تخمینہ لائقِ اعتبار ہے یا خدائے علام الغیوب کا ارشاد۔۔۔؟ اگر وحیٔ الٰہی نے اس مسئلے میں ہماری کوئی راہ نمائی نہیں کی ہوتی تب بھی عقل کا تقاضا یہ تھا کہ ہم ڈارون کے غیرمشاہداتی اور غیرتجرباتی تیرتکوں کو قبول نہ کرتے، کیونکہ اہلِ عقل، عقل کی مانا کرتے ہیں، غیرعقلی قیاسات اور تخمینوں پر اندھادُھند ایمان نہیں لایا کرتے۔ پس نظریۂ ارتقا کے حامیوں کا انسان کے سلسلۂ نسب کو بندر سے ملانا، جبکہ وحیٔ الٰہی اور مشاہدہ و تجربہ اس کی تکذیب کرتے ہیں، تو یہ نظریہ اہلِ عقل کے نزدیک کیسے لائقِ التفات ہوسکتا ہے؟
حضرت آدمؑ اور جنت
نظریۂ ارتقا کے موجدوں نے انسان کا سلسلۂ نسب بندر تک پہنچاکر انسانی عقل کی جو مٹی پلید کی ہے، اسی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ انسانِ اوّل کے بارے میں ان کے دیگر تخمینوں اور قیاسات میں کتنی جان ہوگی، خصوصاً ان کا یہ کہنا کہ: ’’انسانِ اوّل کو جنت سے نہیں اُتارا گیا تھا، بلکہ اسی زمین پر بندر سے اس کی جنس تبدیل ہوئی تھی‘‘، یا یہ کہ: ’’حوا اس کی بیوی نہیں بلکہ ماں تھی‘‘۔ کون نہیں جانتا کہ جنت و دوزخ عالمِ غیب کے وہ حقائق ہیں جو اس عالم میں انسانی مشاہدہ و تجربہ سے بالاتر ہیں، اور جن کے بارے میں صحیح معلومات کا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ ہے انبیائے کرام علیہم السلام پر نازل شدہ وحی۔
پس جو غیبی حقائق کہ انسان کے مشاہدہ و تجربہ کی دسترس سے قطعاً باہر ہیں اور مشاہدہ کی کوئی خوردبین ان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی، خود ہی سوچئے کہ ان کے بارے میں وحیٔ الٰہی پر اعتماد کرنا چاہئے یا ان لوگوں کی لاف گزاف پر جو وہم و قیاس کے گھوڑے پر سوار ہوکر ایک ایسے میدان میں ترکتازیاں کرنا چاہتے ہیں جو ان کے احاطۂ عقل و ادراک سے ماورا ہے۔۔۔؟ سائنس کے دقیق اسرار و رموز کے بارے میں ایک گھسیارے کا قول جس قدر مضحکہ خیز ہوسکتا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ان لوگوں کے اندازے اور تخمینے مضحکہ خیز ہیں جو وحیٔ الٰہی کی روشنی کے بغیر اُمورِ الٰہیہ میں تگ و تاز کرتے ہیں۔ یہ مسکین نہیں سمجھتے کہ ان کی تحقیقات کا دائرہ مادّیات ہیں، نہ کہ ما بعد الطبعیات ، جو چیز ان کے دائرۂ عقل و ادراک سے ماورا ہے اس کے بارے میں وہ جو قیاس آرائی کریں گے اس کی حیثیت رجم بالغیب اور اندھیرے میں تیر چلانے کی ہوگی۔ قطعاً ممکن نہیں کہ ان کا تیر صحیح نشانے پر بیٹھے، وہ خود بھی مدۃ العمر وادیٔ ضلالت کے گم گشتہ مسافر رہیں گے اور ان کے مقلدین بھی۔
مسلمانوں کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے اور ان وادیوں میں بھٹکنے کی ضرورت نہیں، بحمداللہ ان کے پاس آفتابِ نبوّت کی روشنی موجود ہے، اور وہ ان اُمورِ الٰہیہ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، دن کی روشنی میں کہتے ہیں۔
سورج کا سجدہ کرنا
سورج کے سجدہ کرنے کی جو حدیث آپ نے نقل کی ہے، وہ صحیح ہے، اور وہ کسی سائنسی تحقیقات یا عام انسانی مشاہدے کے خلاف نہیں۔ انسانی مشاہدہ یہ ہے کہ سورج چلتا ہے، لیکن اس کی رفتار خود اس کی ذاتی ہے یا کسی قادرِ مطلق ہستی کی حکمت و مشیت کے تابع ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اس حدیثِ پاک میں دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آفتاب کے طلوع و غروب کا نظام خودکار مشین کی طرح نہیں، بلکہ حق تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کے ماتحت ہے، اور وہ اپنے طلوع و غروب کے لئے حق تعالیٰ شانہ سے اجازت لیتا ہے، ایک وقت آئے گا کہ حسبِ دستور طلوع کی اجازت لے گا، مگر اس کو اجازت نہیں ملے گی، بلکہ اُلٹی سمت چلنے کا حکم ہوگا، چنانچہ اس دن آفتاب بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع ہوگا اور قریباً چاشت کے وقت جتنا اُونچا ہوجانے کے بعد پھر مغرب کی جانب لوٹ جائے گا اور اس کے بعد قیامت برپا ہونے تک پھر حسبِ معمول طلوع و غروب ہوتا رہے گا۔
اب یہاں چند اُمور لائقِ توجہ ہیں:
اوّل:۔ یہ کہ نظامِ شمسی کا حق تعالیٰ شانہ کی مشیت کے تابع ہونا تمام ادیان و مذاہب کا مُسلَّمہ عقیدہ ہے، اور جو سائنس دان خدا تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرتے ہیں انہیں بھی اس عقیدے سے انکار نہیں ہوگا۔ جو لوگ اس کارخانۂ جہان کو خودکار مشین سمجھتے ہیں اور اسے کسی صانع حکیم کی تخلیق نہیں سمجھتے، ان کا نظریہ عقل و حکمت کی میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔ صانعِ عالم کے وجود پر دلائل کا یہ موقع نہیں کیونکہ میرا مخاطب بحمداللہ مسلمان ہے، اس لئے اس کے سامنے وجودِ باری کی بحث لے بیٹھنا غیرضروری ہی نہیں، بے موقع بھی ہے۔ یہاں صرف اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ جب یہ مُسلَّم ہے کہ نہ صرف نظامِ شمسی بلکہ پورا کارخانۂ عالم ہی اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کے تابع ہے تو آفتاب کے روزمرّہ طلوع و غروب کو بھی اسی مشیت کے تابع تسلیم کرنا ہوگا۔ اسی نکتے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے روزمرّہ سجدہ کرنے اور آئندہ دن میں طلوع کی اجازت لینے سے تعبیر فرمایا ہے۔
دوم:۔ جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے، مشاہدہ یہ ہے کہ ہر آن اور ہر لمحہ سورج کے طلوع و غروب کا عمل جاری ہے، اگر ایک اُفق پر ڈُوبتا ہے تو دُوسرے سے نکلتا ہے، اگر ایک جگہ سفیدۂ صبح نمودار ہوتا ہے تو دُوسری جگہ تاریکیٔ شب کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لئے حدیثِ پاک میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص اُفق (مثلاً مدینہ طیبہ کا اُفق، یا عام آبادی کا اُفق) کو مراد لیا ہو۔ اس صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ جب آفتاب اس خاص اُفق میں غروب ہوتا ہے تو اگلے دن کے طلوع کے لئے اجازت طلب کرتا ہے، اور اجازت ملنے پر طلوع ہوتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اہلِ ریاضی نے ہفتہ کے دنوں کی تعیین کے لئے آفتاب کا ایک خاص اُفق مقرّر کر رکھا ہے جسے ’’ڈیٹ لائن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس خطِ فاصل سے اس طرف جمعہ کا دن ہوتا ہے تو دُوسری طرف ہفتہ کا دن، اگر یہ صورت اختیار نہ کی جاتی تو دنوں کا تعین ہی ممکن نہ ہوتا، کیونکہ آفتاب تو دُنیا میں کبھی غروب ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے ’’ڈیٹ لائن‘‘ کے بغیر تاریخ اور دن کے تعین کی کوئی صورت نہیں تھی۔ پس جس طرح اہلِ فن کو دنوں کی تعیین کے لئے ایک خاص اُفق مقرّر کئے بغیر کوئی چارہ نہیں، اسی طرح اگر اس کے طلوع و غروب کے لئے بھی علمِ الٰہی میں اُفق کا کوئی خاص نقطہ متعین ہو جس پر پہنچنے کے بعد اسے اگلے دن کے لئے نئی اجازت لینی پڑے تو اس پر کوئی عقلی اِشکال نہیں۔
دُوسرا احتمال یہ ہے کہ اس اجازتِ طلوع کے لئے کوئی خاص اُفق متعین نہ کیا جائے، بلکہ یہ کہا جائے کہ اس کا کسی بھی اُفق سے طلوع ہونا اجازت کے بعد ہوتا ہے، اور چونکہ اس کا طلوع ہر لمحہ کسی نہ کسی اُفق سے ہوتا رہتا ہے اس لئے حدیثِ پاک کا منشا یہ ہوگا کہ آفتاب کی حرکت کا ایک ایک لمحہ خدا تعالیٰ کی اجازت و مشیت کا مرہونِ منّت ہے اور ایک لمحے کے لئے بھی اس کی حرکت (جس پر طلوع و غروب کا نظام قائم ہے) اجازت کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی۔
سوم:۔ رہا سورج کا سجدہ کرنا، سو یہ چیز اگر ہم ایسے عامیوں کے لئے اچھوتی اور اچنبھا معلوم ہوتی ہے لیکن اہلِ عقل جانتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہے اور ہر چیز اس کی عظمت و تقدس کی تسبیح پڑھتی ہے۔ لیکن ہر چیز کی سجدہ ریزی و تسبیح خوانی اس کی حالت و فطرت اور شان کے مطابق الگ نوعیت کی ہے، ہم لوگ چونکہ ان کی ’’زبانِ بے زبانی‘‘ سمجھنے سے قاصر ہیں، اس لئے ہمیں یہ بات ایک اعجوبہ معلوم ہوتی ہے، اسی کی طرف قرآنِ کریم میں یہ کہہ کر اشارہ فرمایا گیا ہے: ’’وَلَٰكِن لَّا تَفۡقَهُونَ تَسۡبِيحَهُمۡۚ‘‘ (مگر تم ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں سمجھتے)۔ ہم لوگ جو عقل و ادراک اور شعور و فہم کا ایک عام درجہ رکھتے ہیں، یہ کہہ کر دِل کو سمجھالیتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز خدا تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں مسخر ہے، اور ان کا مسخر ہونا ہی ان کا سجدہ و تسبیح ہے۔ لیکن جو حضرات علم و ادراک اور عقل و فہم میں عام انسانوں سے بالاتر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کائنات صرف زبانِ حال ہی سے خدا تعالیٰ کی تسبیح خوانی اور اس کے سامنے سجدہ ریزی کے فرائض انجام نہیں دیتی بلکہ ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس کے حسبِ حال شعور و ادراک کی نعمت عطا کر رکھی ہے، اور ہر ایک کو اس کے مناسب زبانِ گویائی بھی عطا فرمائی ہے، اس لئے ہر چیز اپنے اپنے شعور و ادراک کے مطابق خدا تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے اور اپنی اپنی زبان میں اس کی تسبیح پڑھتی ہے:
خاک و باد و آب و آتش بندہ اند
بامن و تو مردہ باحق زندہ اند
بہرحال! آفتاب کا حق تعالیٰ کو سجدہ کرنا بلاشبہ حق اور صحیح ہے، خود قرآنِ کریم میں اس کی تصریح موجود ہے، اب وہ سجدہ زبانِ حال سے ہے یا زبانِ مقال سے؟ اس کی توجیہ ہر شخص اپنے اندازۂ عقل و پیمانۂ فکر کے مطابق کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی کی عقل اس کو محض اس لئے نہ مانتی ہو کہ یہ اعجوبہ ہے، تو اس سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دُنیا عجائبِ قدرت ہی کا نام ہے۔
یہ آتشیں کرہ، جسے ہم آفتاب کہتے ہیں، اس کا وجود بجائے خود عجائبِ قدرت کا ایک نمونہ ہے، اور پھر اس کے طلوع و غروب کا نظام ایک مستقل اعجوبہ ہے، اگر خدانخواستہ سورج کبھی ایک آدھ بار ہی طلوع ہوا ہوتا تو دُنیا اس اعجوبہ کے مشاہدہ کی بھی شاید تاب نہ رکھتی، پس جب دُنیا میں ہزاروں اعجوبے ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے ان عجائبات پر یقین رکھتے ہیں اور محض ان کا اعجوبہ ہونا ہمارے انکار کے لئے وجۂ جواز نہیں بنتا، اور اس کے انکار کرنے والے کے حق میں دیوانہ اور پاگل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ جو چیز ہمارے مشاہدہ و تجربہ، ہمارے علم و ادراک اور ہماری عقل و شعور سے بالاتر ہو اور ایک شناسائے راز اور دانائے رموز ہمیں اس کی اطلاع دے، ہم محض اعجوبہ ہونے کی بنا پر اس کا انکار کرڈالیں، کیا موجودہ دور کی سائنسی ایجادات ایک عام عقل و فہم کے آدمی کے لئے کم اعجوبہ ہیں۔۔۔؟ کیا ایک سادہ لوح آدمی کے لئے ان کا انکار کردینا محض اس بنا پر جائز ہوگا کہ اس کی عقل ان عجائب کی گرفت سے قاصر ہے۔۔۔؟ نہیں۔۔۔! بلکہ جو شخص اس کی جرأت کرے گا آپ اسے انتہائی درجے کا احمق قرار دیں گے۔ ٹھیک اسی طرح جو لوگ ان عجائباتِ قدرت کا انکار کرتے ہیں جو صرف نبوّت کے علم و ادراک میں آسکتے ہیں، یہ لوگ بھی اپنی عقل کی پستی کا اظہار کرتے ہیں۔
چہارم:۔ آفتاب کا طلوع و غروب کے لئے اجازت لینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی حرکت میں ٹھہراؤ پیدا ہوجائے، بلکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع ہوسکتی ہیں کہ اس کی حرکت بھی جاری رہے اور وہ اپنی حرکت جاری رکھنے یا بند کردینے کے لئے اجازت بھی لیتا ہو۔ ہماری جدید دُنیا میں اس کی بہت سی مشاہداتی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، مگر میں اس نکتے کی مزید وضاحت و تشریح ضروری نہیں سمجھتا، اہلِ فہم کے لئے صرف اشارہ کافی ہے۔
ایک حدیث کا حوالہ
آپ نے ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے کہ: ’’ستارے آسمان کی چھت کے ساتھ رسوں سے باندھے گئے ہیں‘‘۔ مجھے ایسی کوئی حدیث یاد نہیں جس کا یہ مضمون ہو، اگر آپ اس کا حوالہ دے سکیں تو اس کے الفاظ و مفہوم و مطالب کے بارے میں کچھ عرض کیا جاسکتا ہے۔ قرآنِ کریم میں دو جگہ (الاعراف:۵۴، النحل:۱۲) ستاروں کو’’مُسَخَّرَٰتُۢ بِأَمۡرِهِۦٓۚ‘‘ فرمایا گیا ہے، یعنی ستارے حکمِ خداوندی کے مسخر ہیں۔ ان کا فضا میں معلق ہونا اسی تسخیر کا ایک مظہر ہے، یہی وہ رسے ہیں جن سے یہ فضائی کرّے بندھے ہوئے ہیں، اور جب اس کائنات کو درہم برہم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا تو ان کے یہ رسے کھول دئیے جائیں گے اور ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر جھڑجائیں گے، ان کا آپس میں تصادم قیامتِ کبریٰ کا پیش خیمہ ہوگا۔ پس اگر کسی حدیث میں ستاروں کے رسوں سے بندھے ہوئے ہونے کا ذکر آتا ہے تو اس سے ارادۂ الٰہی کی یہی آہنی زنجیریں مراد ہیں جنھوں نے فضا میں ان محیر العقول ستاروں کو تھام رکھا ہے، مادّی رسوں کی تلاش کی زحمت کیوں اُٹھائی جائے؟ اور اگر سائنس ان خلائی کروں کے استقرار و استحکام کے لئے کششِ ثقل کا کوئی اُصول پیش کرتی ہے تو ہمیں اسے جھٹلانے کی ضرورت نہیں۔
ظاہربیں نگاہیں تحریر کو دستِ کاتب کی حرکت کا کرشمہ دیکھتی ہیں لیکن ہاتھ کی حرکت دماغ کی ارتعاشی لہروں کے تابع ہے اور دماغ، رُوح کی حس و حرکت کے تابع ہے، اور رُوح کی رُوح ارادۂ خداوندی ہے۔ اسی طرح ان خلائی سیاروں کے لئے سائنسی دُنیا میں جو اُصول و نظریات پیش کئے جاتے ہیں وہ اس کی اپنی حدِ پرواز تک صحیح ہیں، اسلام ان کی نفی نہیں کرتا، بلکہ ان اُصولوں میں ارادۂ الٰہی کی کارفرمائی کا عقیدہ پیش کرتا ہے، اور اگر کوئی سائنس دان سلسلۂ اسباب و علل کی کڑیوں کو درمیان میں ختم کردینے پر اصرار کرتا ہے تو یہ اس کی بصیرت و مشاہدہ کا قصور ہے۔
جنات کے بارے
جنات کے بارے میں دو باتیں قابلِ ذکر ہیں، ایک یہ کہ آیا جنات کا وجود ہے یا نہیں؟ دوم یہ کہ جنات آدمی کو کوئی تکلیف پہنچاسکتے ہیں یا نہیں؟ جس کو عرفِ عام میں ’’جن لگنا‘‘ کہا جاتا ہے۔
جہاں تک جنات کے وجود کا تعلق ہے، قرآنِ کریم میں جنات کا ذکر (’’جن‘‘ یا ’’جان‘‘ کے عنوان سے) ۲۹ جگہ آیا ہے، اور ’’سورۃ الجن‘‘ کے نام سے قرآنِ کریم کی ایک مستقل سورت ہے۔ سورۃ الانعام آیت:۱۲۸ میں صرف جنوں کو اور سورۃ الانعام آیت:۱۳۰، اور سورۃ الرحمن آیت:۳۳ میں’’يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ‘‘ کہہ کر ’’جن‘‘ اور ’’انسان‘‘ کو خطاب ہے۔ سورۃ الرحمن کی آیت ’’فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ‘‘ میں بھی، جو ۳۱ بار دُہرائی گئی ہے، دونوں کو خطاب ہے۔ سورۃ الجن آیت:۱، اور سورۃ الاحقاف آیت:۲۹ میں جنات کی ایک جماعت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر ایمان لانے کا تذکرہ موجود ہے، وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ طیبہ میں بہت سی جگہ جنات کا ذکر آتا ہے، جس کی تفصیل غیرضروری ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ سے واضح ہوتا ہے کہ:
۱:۔ جنات ایک مستقل مخلوق ہے۔
۲:۔ ان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے۔
۳:۔ انسانوں کی طرح ان میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے۔
۴:۔ انسان کی طرح وہ بھی اَحکامِ الٰہیہ کے مکلف ہیں۔
۵:۔ انسان کی طرح ان میں بھی بعض مؤمن ہیں اور بعض کافر۔
۶:۔ وہ انسان کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔
۷:۔ ان میں سے جو کافر اور سرکش ہوں انہیں ’’شیطان‘‘ یا ’’مردۃ الجن‘‘ کہا جاتا ہے۔
۸:۔ ان کا جدِ اَبعد ابلیس ہے۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں جنات کے بارے میں جتنا کچھ ذکر کیا گیا ہے اسے سامنے رکھ کر ایک مستقل کتاب تألیف کی جاسکتی ہے، اور علمائے اُمت نے اس موضوع پر کتابیں لکھی بھی ہیں، جن میں ’’آکام المرجان فی أحکام الجان‘‘ عربی میں مشہور کتاب ہے۔ جو لوگ قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں ان کو تو جنات کا وجود تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں، اور جو لوگ ان کے وجود کی نفی کرتے ہیں ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ یہ مخلوق ان کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ اس لئے اگر یہ اُصول صحیح ہے کہ جو چیز نظر نہ آئے اس کا انکار کردیا جائے تو صرف جنات کے وجود ہی کا نہیں بلکہ ان بے شمار چیزوں کے وجود کا بھی انکار کرنا ہوگا جو آنکھوں سے نظر نہیں آتیں، ان میں سرِ فہرست انسان کی اپنی رُوح ہے جسے کسی نے آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ موجودہ سائنس نے ایسے جراثیم کا انکشاف کیا ہے جن کو ایک لاکھ گنا بڑا کردیا جائے تب بھی ان کا نظر آنا مشکل ہے۔
پس اگر یہ اُصول صحیح ہے تو لوگوں کو مشورہ دینا چاہئے کہ تمام غیرمرئی چیزوں کا انکار کیا کریں، لیکن میں جانتا ہوں کہ ایسے مشورے کو آپ احمقانہ مشورہ کہیں گے، اس لئے کہ اگرچہ یہ چیزیں عام انسانوں کو نظر نہیں آتیں، لیکن آثار و قرائن ان کے وجود کا پتہ دیتے ہیں، اور سائنسی ایجادات نے ایسی بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کرادیا ہے، میں بہ ادب گزارش کروں گا کہ اگر سائنسی دُوربین یا خوردبین سے نظر آنے والے کسی ننھے منے جرثومے پر ’’ایمان‘‘ لانا واجب ہے اور اس کو جھٹلانے والا احمق ہے تو نبوّت کی دُوربین اور خوردبین جن چیزوں کا مشاہدہ کرکے ان کے وجود کی خبر دیتی ہیں ان کے وجود پر ایمان لانا کیوں ضروری نہیں۔۔۔؟ اور ان کو جھٹلانا کیوں حماقت نہیں۔۔۔؟ جبکہ جھٹلانے والوں کے ہاتھ میں اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ ان کی نظرِ کوتاہ ان چیزوں کے مشاہدے سے قاصر ہے۔
مجھے آپ سے شکایت ہے کہ جنات کے وجود کی بحث کو آپ نے سائنس سے پیدا شدہ اِشکالات میں کیوں جگہ دی؟ سائنس تو (مادّیات کی حد تک) علم و تحقیق کا نام ہے، جبکہ جنات کے وجود کی نفی کسی علم و تحقیق پر مبنی نہیں بلکہ ناواقفی و جہل پر اس کی بنیاد ہے۔ جنات کا وجود کسی سائنسی اُصول سے نہیں ٹکراتا، اور نہ کوئی سائنسی اُصول جنات کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ ہمارے اس دورِ جدید کی ایک مصیبت یہ ہے کہ اس میں ’’جہل‘‘ کا نام ’’علم‘‘ رکھ لیا گیا ہے، اور ’’یہ بات میرے علم میں نہیں‘‘ کو اس کے وجود کی نفی پر دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ اشیاء کا وجود ہمارے علم کے تابع ہے، ہمیں کسی چیز کا علم ہے تو وجود بھی رکھتی ہے، اور اگر ہمیں علم نہیں تو سمجھنا چاہئے کہ واقعے میں وہ اپنے وجود سے بھی محروم ہے۔ یہ ہے دورِ جدید کا وہ منفرد اُصول جس کے ذریعہ حقائق و واقعات کو بڑی جرأت سے جھٹلایا جاتا ہے۔
دُوسری بحث یہ کہ آیا جنات آدمی کو لگ سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عقلاً کوئی چیز اس سے مانع نہیں۔ آج مسمریزم اور عملِ تنویم کے ذریعہ دُنیا جن عجائبات کا مشاہدہ کر رہی ہے وہ کسی صاحبِ عقل سے مخفی نہیں۔ پس اگر ایک آدمی اپنے خاص مشقی عمل سے معمول کو مسخر اور کچھ دیر کے لئے اسے آپے سے باہر کرسکتا ہے، اس کی رُوح سے گفتگو کرسکتا ہے اور اس سے جو چاہے اُگلواسکتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ اس امکان کا انکار کیا جائے کہ یہی سب کچھ جنات بھی کرسکتے ہیں، جبکہ آدمی اور جن کی قوّت کا مقابلہ چیونٹی اور ہاتھی کا مقابلہ ہے۔ پس جو تصرف مسکین چیونٹی کرسکتی ہے کیوں انکار کیا جائے کہ وہی تصرف ہاتھی نہیں کرسکتا۔۔۔؟
یہ گفتگو تو امکان پر تھی، جہاں تک واقعہ کا تعلق ہے، اس میں شبہ نہیں کہ اس بارے میں بہت سے لوگ توہم پرستی کا شکار ہیں، اور وہ معمولی طبّی امراض پر بھی ’’آسیب زدگی‘‘ کا شبہ کرنے لگتے ہیں، کسی صحیح معالج کی طرف رُجوع کرنے کے بجائے وہ غلط قسم کے عاملوں کے چکر میں ایسے پھنستے ہیں کہ مدۃ العمر انہیں اس جال سے رہائی نصیب نہیں ہوتی، لیکن عوام کی فضول توہم پرستی کا علاج یہ نہیں کہ واقعات کا بھی انکار کردیا جائے۔ واقعہ یہی ہے کہ بعض شاذ و نادر حالات میں آسیب کا اثر ضرور ہوتا ہے، قرآنِ کریم میں دو جگہ اس کا ذکر آیا ہے۔
ایک جگہ سورۂ بقرہ میں سودخوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
ﵟ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ﵞ (البقرة ٢٧٥)
ترجمہ:۔ ’’جو لوگ کھاتے ہیں سود، نہیں اُٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اُٹھتا ہے وہ شخص، جس کے حواس کھودئیے ہوں جن نے لپٹ کر۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’ارشاد ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ آدمی جس کو شیطان جن نے لپٹ کر خبطی بنادیا ہو۔ حدیث میں ہے کہ کھڑے ہونے سے مراد محشر میں قبر سے اُٹھنا ہے کہ سودخور جب قبر سے اُٹھے گا تو اس پاگل اور مجنون کی طرح اُٹھے گا جس کو کسی شیطان جن نے خبطی بنادیا ہو۔
اس جملے سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ جنات و شیاطین کے اثر سے انسان بیہوش یا مجنون ہوسکتا ہے اور اہلِ تجربہ کے متواتر مشاہدات اس پر شاہد ہیں۔ اور حافظ ابنِ قیم جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اطباء و فلاسفہ نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ صرع، بیہوشی یا جنون مختلف اسباب سے ہوا کرتا ہے، ان میں بعض اوقات جنات و شیاطین کا اثر بھی اس کا سبب ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے ان کے پاس بجز ظاہری استبعاد کے کوئی دلیل نہیں۔‘‘ (معارف القرآن ج:۱ ص:۶۴۷)
دُوسری جگہ سورۃ الانعام میں ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنے والوں کی مثال دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
ﵟ كَٱلَّذِي ٱسۡتَهۡوَتۡهُ ٱلشَّيَٰطِينُ فِي ٱلۡأَرۡضِ حَيۡرَانَ لَهُۥٓ أَصۡحَٰبٞ يَدۡعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلۡهُدَى ٱئۡتِنَاۗ ﵞ (الأنعام ٧١)
ترجمہ:۔ ’’مثل اس شخص کے کہ راستہ بھلادیا ہو اس کو جنوں نے جنگل میں، جبکہ حیران ہو، اس کے رفیق بلاتے ہوں اس کو راستے کی طرف کہ چلا آ ہمارے پاس۔‘‘
پہلی آیت سے معلوم ہوا کہ جنات لپٹ کر آدمی کو مخبوط الحواس بنادیتے ہیں، اور دُوسری آیت میں اسی مخبوط الحواسی کی ایک مثال ذکر کی گئی ہے کہ شیطان اس کو راستے سے بہکادیتے ہیں، وہ حیران و سراسیمہ ہوکر مارا مارا پھرتا ہے، اس کے رفقاء اس کو آواز دیتے ہیں کہ ہم اِدھر ہیں، ہمارے پاس آجاؤ، مگر وہ اپنی اس مخبوط الحواسی کی بنا پر ان کی آواز پر بھی توجہ نہیں دیتا۔
رہا آپ کا یہ شبہ کہ: ’’جن صرف ماننے والوں کو کیوں لگتے ہیں؟‘‘ آپ کا یہ شبہ بھی اصل حقیقت سے ناواقفیت کی بنا پر ہے۔ تقریبِ فہم کے لئے عرض کرتا ہوں کہ بطور مثال کسی دُور افتادہ بادیہ نشین صحرائی کا تصوّر کیجئے، اسے کوئی خطرناک مرض لاحق ہوتا ہے مگر وہ مسکین اپنی ناواقفی کی بنا پر نہیں سمجھتا کہ اس مرض کے اسباب و علل کیا ہیں؟ اور اس کے علاج کی صحیح تدبیر کیا ہوسکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کے اس جہل کی وجہ سے مرض کے اسباب و علل کی نفی کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہوگا۔ اس مثال کے بعد میں یہ عرض کروں گا کہ امریکہ اور یورپ میں نفسیانی مریضوں کی جو بہتات ہے وہ ہمارے ہاں بحمداللہ نہیں۔ ان ممالک میں ایسے مریضوں کے لئے بڑے بڑے شفاخانے بھی موجود ہیں، علاج معالجے کی سہولتوں کی بھی فراوانی ہے، ہر مرض کے لئے اعلیٰ درجے کے ماہرین اور متخصّصین بھی موجود ہیں، نفسیاتی معالج بھی ایک سے بڑھ کر ایک موجود ہے، لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود ان کے ہاں نفسیاتی مریضوں کی تعداد روز افزوں ہے، جن پر کوئی علاج کارگر نہیں ہو پاتا۔ اور آپ، ابنِ قیمؒ کی زبانی اطباء و فلاسفہ کا فیصلہ سن چکے ہیں کہ ان نفسیاتی امراض کے اسباب میں سے ایک سبب آسیب کا اثر بھی ہوسکتا ہے، جبکہ جدید مغرب اس سبب کا ہی منکر ہے۔ اور عرض کرچکا ہوں کہ اس کے اس انکار کا منشا جہل کے سوا کچھ نہیں۔ اندریں صورت مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ جدید مغرب کی مثال اس بادیہ نشین صحرائی کی ہے جو مرض کے اصل سبب سے بے خبر اور جاہل ہے۔ لطیفہ یہ کہ جو لوگ مرض کے اصل سبب کی نشاندہی کرتے ہیں، یہ جاہل ان کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ فرمائیے! کہ ایسی صورت میں اس کے نفسیاتی مریض لاعلاج نہ ہوں تو اور کیا ہو؟ پس یہ کہنا کہ: ’’انگریز اور رُوسی چونکہ جنات کے وجود ہی سے منکر ہیں اس لئے ان کو جنات بھی نہیں لگتے‘‘ حقیقت پسندانہ بات نہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ مشرق میں تو جنات ہزاروں لاکھوں میں سے کسی ایک آدھ کو لگتے ہیں، لیکن مغرب میں بڑی کثرت سے لگتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو مخبوط الحواس اور نفسیاتی مریض بناتے ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ مشرق، جنات کے وجود کا قائل ہے اور نفسیاتی مرض کے اسباب کی فہرست میں ’’جن‘‘ لگنے کو بھی شمار کرتا ہے، اس صحیح تشخیص کی بنا پر وہ علاج میں بھی کامیاب ہوجاتا ہے، إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ۔ اس کے برعکس مغرب اپنی ناواقفی، تعصب اور جہل کی بنا پر نفسیاتی امراض کے اس اہم سبب کی نہ تشخیص کرسکتا ہے، نہ اس کے علاج و مداوا کی قدرت رکھتا ہے۔ لیکن کیسی ستم ظریفی ہے کہ آپ قصوروار ’’مشرق‘‘ کو سمجھتے ہیں، اور مغرب کے جہل کو بھی ہنر تصوّر فرماتے ہیں، اور یہ کھلی ہوئی بات نہیں سوچتے کہ اگر مغرب کو جن نہیں لگتا تو مشرق کے مقابلے میں اس کے لاعلاج نفسیاتی مریضوں کی اتنی بہتات کیوں ہے؟
مذہب اور سائنس میں تصادم
رہا آپ کا یہ سوال کہ: ’’کیا مذہب اور سائنس ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟‘‘ کاش! فرصت ہوتی تو اس نکتے پر تفصیل سے لکھتا، مگر یہاں صرف آپ کے جواب میں اتنا عرض کروں گا کہ مذہب سے مراد اگر وہ غیرفطری اور باطل مذاہب ہیں جو (بطور مثال) ’’تین ایک اور ایک تین‘‘ جیسے نظریات پر اپنی بنیادیں استوار کرتے ہیں تو میرا جواب نفی میں ہے۔ سائنس کے مقابلے میں ایسے فرسودہ و بوسیدہ مذاہب نہیں ٹھہرسکتے، نہ اس کے ساتھ چل سکتے ہیں، اور اگر مذہب سے مراد وہ دینِ فطرت ہے جس کا اعلان خالقِ فطرت نے ’’إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ‘‘ میں فرمایا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ مذہب سائنس کے ساتھ چل سکتا ہے، چلتا ہے اور اِن شاء اللہ چلے گا، کیونکہ ’’سائنس‘‘ (اگر واقعتا سائنس ہو) رموزِ فطرت کی نقاب کشائی کا نام ہے اور اسلام خود فطرت ہے: ’’فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ ‘‘۔
فطرت کبھی فطرت سے نہیں ٹکراتی، اس لئے اسلام کو سائنس سے کوئی خطرہ نہیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ سائنس نے بہت سے ان اسلامی نظریات کو قریب الفہم کردیا ہے جن کو قرونِ وسطیٰ کا انسان حیرت و استعجاب کی نظر سے دیکھتا تھا۔ یہیں سے ہمارے اس یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے کہ اسلام بلاشبہ خالقِ فطرت کا نازل کردہ دینِ فطرت ہے، اور اگر سائنس دان کوئی ایسا راگ اَلاپتے ہیں جو اسلام کے قطعی نظریات سے ٹکراتا ہے تو ہمیں یقین ہے کہ وہ فطرت کے خلاف کہتے ہیں۔ اگر آج نہیں تو کل ان کے نظریہ کا غلط اور باطل ہونا ان پر آشکار ہوجائے گا۔ بادل کے سیاہ ٹکڑے آفتاب کو تھوڑی دیر کے لئے نظروں سے اوجھل ضرور کرسکتے ہیں مگر وہ نہ اس کے وجود کو ختم کرسکتے ہیں، نہ اس کی روشنی کو غائب کرسکتے ہیں۔ اسلام، پوری انسانیت کے لئے آفتابِ ہدایت ہے، اندھے اس سے آنکھیں بند کرسکتے ہیں، گمراہ اور کج رو لوگ اپنے نظریات کے بادل اُٹھاسکتے ہیں لیکن ان بادلوں کو بہرحال چھٹنا ہوگا اور آفتابِ اسلام کی تابانی کو بہرحال چمکنا ہوگا۔
الغرض! سائنس کا کوئی صحیح نظریہ اسلام سے نہیں ٹکراتا، اور جو نظریات بظاہر اسلام سے متصادم نظر آتے ہیں وہ سائنس کے فطری نظریات نہیں بلکہ یا تو خام عقل لوگوں کی ہوا و ہوس کو ’’سائنسی نظریہ‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے یا وہ تحقیق و تجسّس کے خلانوردوں کے سفر کی درمیانی منزلیں ہیں جنھیں غلط فہمی و عجلت پسندی سے ’’حرفِ آخر‘‘ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس لئے ہمارے نوجوانوں کو ان نظریات سے خائف ہونے یا شکوک و شبہات کی تاریکیوں میں بھٹکنے کی ضرورت نہیں، ان کے پاس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا قطعی پیغامِ ہدایت اور دینِ فطرت موجود ہے، آسمان و زمین اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں مگر پیغامِ محمدی میں بال برابر بھی اُونچ نیچ کی گنجائش نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان ایمان و یقین کی غیرمتزلزل قوّت سے آراستہ ہوکر آگے بڑھیں، خود مسلمان بنیں، اور سائنس کو مسلمان بنائیں۔ سائنس کی مثال تلوار کی ہے، اگر وہ غازیانِ اسلام کے ہاتھ میں ہوگی تو جہاد فی سبیل اللہ کا کام دے گی، اور اگر رہزنوں کے ہاتھ میں ہوگی تو فساد فی الارض میں اضافہ کرے گی، والسلام!

