بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

انسان کس طرح وجود میں آیا؟

سوال:۔

جناب مولانا صاحب قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں حضرت آدمؑ کو بنایا اور ہم سب ان کی اولاد ہیں۔ مگر ۱۵؍۴؍۱۹۸۹ء بروزِ جمعہ کو ہم نے ٹی وی پر دن کے ۱۰ بجے ایک فلم دیکھی جس میں یہ بتایا گیا کہ انسان مرحلہ وار اس شکل میں آیا یعنی پہلے جراثیم، پھر مچھلی، بندر وغیرہ اور اس کی آخری شکل آج کے انسان کی ہوئی۔ اب آپ وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ شریعت کا اس بارے میں کیا فیصلہ ہے؟ اور ایک مسلمان کا اس بارے میں کیا ایمان ہونا چاہئے؟ اگر یہ ٹی وی والی فلم غلط ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

جواب:۔

یہ ڈارون کا نظریۂ اِرتقاء ہے کہ سب سے پہلا انسان (حضرت آدم علیہ السلام) یکایک قائم وجود میں نہیں آیا، بلکہ بہت سی اِرتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے بندر کی شکل وجود میں آئی، اور پھر بندر نے مزید اِرتقائی جست لگاکر انسان کی شکل اختیار کرلی، یہ نظریہ اب سائنس کی دُنیا میں بھی فرسودہ ہوچکا ہے، اس لئے اس طویل عرصے میں انسان نے کوئی اِرتقائی منزل طے نہیں کی، بلکہ ترقیٔ معکوس کے طور پر انسان تدریجاً ’’انسان نما جانور‘‘ بنتا جارہا ہے۔

جہاں تک اہلِ اسلام کا تعلق ہے ان کو ڈارون کے نظریۂ اِرتقا پر اِیمان لانے کی ضرورت نہیں، ان کے سامنے قرآنِ کریم کا واضح اعلان موجود ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مٹی سے آدم کا قالب بنایا، اسی میں رُوح پھونکی، اور وہ جیتے جاگتے انسان بن گئے۔‘‘(۱)

جس فلم کا آپ نے ذکر کیا ہے ممکن ہے کہ ان کا قرآن و حدیث پر اِیمان نہ ہو، اور جن لوگوں نے ٹی وی پر یہ فلم دِکھائی وہ بھی قرآن و حدیث کے بجائے ڈارون پر اِیمان رکھتے ہوں گے، لیکن جس چیز پر مجھے تعجب ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس فلم کے دِکھائے جانے پر کسی نے احتجاج نہیں کیا، ایسا لگتا ہے کہ وطنِ عزیز کو غیرشعوری طور پر لادِین اور ملحد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  1. (۱) ﵟ إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٥٩ ﵞ آل عمران ٥٩۔