بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

آیت سے غلط استدلال

’’گزشتہ دنوں یہاں کے ایک ڈاکٹر صاحب نے جو ’’تنظیمِ اسلامی‘‘ کے بانی ہیں، امریکہ جاکر اپنے خطبات میں یہ فرمایا کہ: ’’حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا (اور جو اَحادیثِ صحیحہ میں محفوظ ہے) وہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا میدان نہیں تھا، اس لئے اس مسئلے میں اُمت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد لائقِ التفات نہیں، بلکہ فلاسفہ

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دِین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام رُوح ڈالے جانے سے پہلے بھی زندہ تھے مگر حیوان کی شکل میں، اور اس حیوانی شکل میں بھی وہ جمادات و نباتات کے مراحل سے گزر کر پہنچے تھے۔ وَاللهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا۔ الآیۃ۔ اس آیتِ کریمہ سے وہ شخص اپنے اسی عقیدہ پر استدلال لیتا ہے، حضرت آدم علیہ السلام کی رُوح ڈالے جانے سے پہلے کی کیفیت کو وہ شخص ’’حیوان آدم‘‘ قرار دیتا ہے۔

یہ شخص حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق کی بابت انہی مراحل سے گزر کر حیوان کی شکل تک پہنچنے کا عقیدہ رکھتا ہے، جن مراحل کا تذکرہ ڈارون نے اپنے ’’نظریۂ اِرتقا‘‘ میں کیا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق سے متعلق جناب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح صحیح اور واضح احادیثِ مبارکہ کو یہ شخص درخورِ اِعتنا نہیں سمجھتا، چونکہ اس کے نزدیک صرف وہ احادیث قابلِ اتباع ہیں جو علم الاحکام یا حلال و حرام سے متعلق ہوں، علم الحقائق اور حکمت سے متعلق احادیث کی بات ان کے نزدیک دُوسری ہے۔

یہ شخص کہتا ہے کہ جو کوئی سمجھتا ہو کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مٹی کا پُتلا بنایا گیا تھا اور پھر اس بے جان پُتلے میں رُوح پھونکی گئی تھی تو یہ کفر تو نہیں، ناسمجھی ضرور ہے۔

یہ شخص حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق سے متعلق تفصیل و تحقیق کو ’’اُمورِ دُنیا‘‘ میں سے قرار دیتا ہے، پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھجوروں کی پیوندکاری کے بابت: ’’أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُوْرِ دُنْيَاكُمْ!‘‘ والی حدیث کو اپنے لئے دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق سے متعلق اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں فرمایا تو کوئی بات نہیں کہ یہ معاملہ اُمورِ دُنیا میں سے ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا میدانِ کار نہیں۔

یہ شخص مذکورہ تمام باتیں برسرِ منبر جمعہ کے خطبے میں لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، اس شخص کی متذکرہ بالا باتوں کی روشنی میں دریافت طلب اُمور یہ ہیں:

ت:۔کیا اس شخص کے مذکورہ بالا عقائد کو اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کہا جاسکتا ہے؟

ت:۔حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق سے متعلق احادیث کے بارے میں اس شخص کا رویہ گستاخی اور گمراہی نہیں ہے؟

ت:۔حضرت آدم علیہ السلام کو ’’حیوان آدم‘‘ کہنا گستاخی نہیں ہے؟

ت:۔کیا یہ شخص تفسیر بالرائے کا مرتکب نہیں ہوا؟

ت:۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلافِ اُمت کا عقیدہ حضرت آدم علیہ السلام کے مٹی کے پُتلے سے بنائے جانے کا ہے یا نہیں؟

ت:۔اس شخص کی بیعت یا کسی قسم کا تعلق اس کے ساتھ آپ کے نزدیک کیسا ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں تفصیلات سے آگاہ فرماکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

سوال۱:۔

کیا اس شخص کے مذکورہ بالا عقائد کو اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کہا جاسکتا ہے؟

سوال۲:۔

حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق سے متعلق احادیث کے بارے میں اس شخص کا رویہ گستاخی اور گمراہی ہے؟

سوال۳:۔

حضرت آدم علیہ السلام کو ’’حیوان آدم‘‘ کہنا گستاخی نہیں ہے؟

سوال۴:۔

کیا یہ شخص تفسیر بالرائے کا مرتکب نہیں؟

سوال۵:۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلافِ اُمت کا عقیدہ حضرت آدم علیہ السلام کے مٹی کے پُتلے بنائے جانے کا ہے یا نہیں؟

سوال۶:۔

اس شخص کی بیعت یا کسی قسم کا تعلق اس کے ساتھ آپ کے نزدیک کیسا ہے؟

جواب:۔

آنجناب نے ان صاحب کے جو اَفکار و خیالات نقل کئے ہیں، مناسب ہوگا کہ پہلے ان کا تنقیدی جائزہ لیا جائے، بعد ازاں آپ کے سوالوں کا جواب عرض کیا جائے۔

آنجناب کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات ان صاحب کے علم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق کے بارے میں کچھ تصریحات فرمائی ہیں، جن کو یہ صاحب ’’اُمورِ دُنیا‘‘ قرار دیتے ہوئے لائقِ توجہ اور درخورِ اِعتنا نہیں سمجھتے، اس لئے یہاں دو باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔

اوّل:۔ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق کے بارے میں اُمت کو کیا بتایا ہے؟

دوم:۔ یہ کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات اُمت کے لئے لائقِ توجہ نہیں؟

اَمرِ اوّل: تخلیقِ آدم علیہ السلام کے بارے میں تصریحاتِ نبوی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیقِ جسمانی کی کیفیت اور اس تخلیق کے مدارج کے سلسلے میں جو تصریحات فرمائی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو تمام رُوئے زمین سے مٹی کا خلاصہ لیا، پھر اس میں پانی ملاکر اس کا گارا بنایا گیا، پھر اسے ایک مدّت تک پڑا رہنے دیا گیا، یہاں تک کہ وہ گارا سیاہ ہوگیا، اس سے بو آنے لگی اور اس میں چپکاہٹ کی کیفیت پیدا ہوگئی، پھر اس گارے سے حضرت آدم علیہ السلام کا ساٹھ ہاتھ لمبا قالب بنایا گیا، پھر یہ قالب کچھ عرصہ پڑا رہا، یہاں تک کہ خشک ہوکر اس میں کھنکھناہٹ پیدا ہوگئی اور وہ ٹھیکری کی طرح بجنے لگا، اس دوران شیطان اس قالب کے گرد گھومتا تھا، اسے بجا بجا کر دیکھتا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ: اس مخلوق کے پیٹ میں خلا ہے، اس لئے اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔

پھر اس بے جان قالب میں رُوح پھونکی گئی اور وہ جیتے جاگتے انسان بن گئے، جب ان کے نصفِ اعلیٰ میں رُوح داخل ہوئی تو انہیں چھینک آئی اور ان کی زبانِ مبارک سے پہلا کلمہ جو نکلا وہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ تھا، جس پر حق تعالیٰ شانہ‘ نے ان کو جواب میں فرمایا: ’’يَرْحَمُك رَبُّك!‘‘ (تیرا رَبّ تجھ پر رحم فرمائے)۔ حضرت آدم علیہ السلام جس وقت پیدا کئے گئے اس وقت ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا، اور ان کے تمام جسمانی اعضا اور ظاہری و باطنی قویٰ کامل و مکمل تھے، ان کو نشو و نما کے ان مراحل سے گزرنا نہیں پڑا جن سے اولادِ آدم گزر کر اپنے نشو و نما کے آخری مدارج تک پہنچتی ہے۔

یہ خلاصہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بہت سے ارشادات کا جو حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق کے بارے میں مروی ہیں۔ میں ان بہت سی احادیث میں سے یہاں صرف چار احادیث کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔

حدیثِ اوّل:

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَلَقَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ، طُوْلُہٗ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَہٗ قَالَ: إِذْھَبْ فَسَلِّمْ عَلٰی أُولٰئِکَ النَّفَرِ! وَھُمْ نَفَرٌ مِّنَ الْمَلٰئِکَۃِ جُلُوْسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا یُحَیُّوْنَکَ بِہٖ؟ فَإِنَّھَا تَحِیَّتُکَ وَتَحِیَّۃُ ذُرِّیَّتِکَ۔ قَالَ: فَذَھَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ! فَقَالُوْا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ! قَالَ: فَزَادُوْہُ ’’وَرَحْمَۃُ اللہِ‘‘۔ قَالَ: فَکُلُّ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ آدَمَ وَطُوْلُہٗ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا، فَلَمْ یَزَلِ الْخَلْقُ یَنْقُصُ بَعْدَہٗ حَتَّی الْآنَ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۱۹، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۰ واللفظ لہٗ، مسند احمد ج:۲ ص:۲۴۴)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا تھا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا، جب ان کو پیدا کیا گیا تو ان سے فرمایا کہ: جاؤ! اس جماعت کو جاکر سلام کہو۔ یہ فرشتوں کی ایک جماعت بیٹھی تھی۔ پس سنو! کہ یہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں؟ کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ چنانچہ آدم علیہ السلام نے جاکر ان فرشتوں کو ’’السلام علیکم‘‘ کہا، انہوں نے جواب میں کہا: ’’وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ‘‘ فرشتوں نے جواب میں ’’ورحمۃ اﷲ‘‘ کے لفظ کا اضافہ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوں گے اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ کا ہوگا، بعد میں انسانوں کے قد چھوٹے ہوتے رہے، جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔‘‘

حافظ الدنیا ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا‘‘ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وَالْمَعْنٰى أَنَّ اللهَ تَعَالٰى أَوْجَدَهُ عَلَى الْهَيْئَةِ الَّتِيْ خَلَقَهُ عَلَيْهَا، لَمْ يَنْتَقِلْ فِي النَّشْأَةِ أَحْوَالًا، وَلَا تَرَدَّدَ فِي الْأَرْحَامِ أَطْوَارًا كَذُرِّيَّتِهِ، بَلْ خَلَقَهُ اللهُ رَجُلًا كَامِلًا سَوِيًّا مِنْ أَوَّلِ مَا نُفِخَ فِيْهِ الرُّوْحُ، ثُمَّ عَقَّبَ ذٰلِكَ بِقَوْلِهِ: وَطُوْلُهُ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا۔‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۳۶۶، کتاب الأنبیاء باب خلق آدم وذریتہ)

ترجمہ:۔ ’’اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جس شکل و ہیئت میں پیدا فرمایا، ان کو اسی ہیئت و شکل میں وجود بخشا، وہ اپنی ذُرِّیت کی طرح پیدائش کے مختلف حالات سے نہیں گزرے، نہ شکمِ مادر میں ایک حالت سے دُوسری حالت کی طرف منتقل ہوئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق اس طرح فرمائی کہ نفخِ رُوح کے وقت ہی سے وہ مردِ کامل تھے، اور ان کی تمام جسمانی قوّتیں بدرجۂ کمال تھیں، اسی بنا پر اس کے بعد فرمایا کہ اس وقت ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔‘‘

اس حدیث کی یہی تشریح اور بہت سے اکابر نے فرمائی ہے۔

حدیثِ دوم:

’’عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللہَ تَعَالٰی خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ مِنْھُمُ الْأَبْیَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّھْلُ وَالْحُزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۱۲۰، ابوداؤد ج:۲ ص:۶۴۴، مسند احمد ج:۴ ص:۴۰۰، مستدرک حاکم ج:۲ ص:۲۶۱، صحیح ابن حبان، الْإحسان ج:۹ ص:۱۱)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا مٹی کی مٹھی سے، جس کو تمام زمین سے لیا تھا، چنانچہ اولادِ آدم زمین کے اندازے کے مطابق ظاہر ہوئی، ان میں کوئی سفید ہے، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان رنگوں کے درمیان، کوئی نرم، کوئی سخت، کوئی خبیث، کوئی پاکیزہ۔‘‘

حدیثِ سوم:

’’عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا صَوَّرَ اللہُ آدَمَ فِی الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَا شَاءَ اللہُ اَنْ یَّتْرُکَہٗ، فَجَعَلَ إِبْلِیْسُ یَطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَا ھُوَ، فَلَمَّا رَاٰہُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَا یَتَمَالَکُ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۲۷، مسند احمد ج:۳ ص:۲۴۰، مسند طیالسی ص:۳۷۰ حدیث:۲۰۳۴)

ترجمہ:۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں آدم علیہ السلام کا ڈھانچہ بنایا تو اس کو اسی حالت میں رہنے دیا جتنی مدّت کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، تو شیطان اس کے گرد گھومنے لگا یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ کیا چیز ہے؟ پس جب اس نے دیکھا کہ اس کے پیٹ میں خلا ہے تو اس نے پہچانا کہ اس کی تخلیق ایسی کی گئی ہے کہ یہ اپنے اُوپر قابو نہیں رکھ سکے گا۔‘‘

حدیثِ چہارم:

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ جَعَلَہٗ طِیْنًا، ثُمَّ تَرَکَہٗ حَتّٰی إِذَا کَانَ حَمَأً مَّسْنُوْنًا خَلَقَہٗ وَصَوَّرَہٗ، ثُمَّ تَرَکَہٗ حَتّٰی إِذَا کَانَ صِلْصَالًا کَالْفَخَّارِ، قَالَ: فَکَانَ إِبْلِیْسُ یَمُرُّ بِہٖ فَیَقُوْلُ: ’’لَقَدْ خُلِقْتَ لِأَمْرٍ عَظِیْمٍ!‘‘ ثُمَّ نَفَخَ اللہُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ، فَکَانَ أَوَّلُ شَیْئٍ جَرٰی فِیْہِ الرُّوْحُ بَصَرَہٗ وَخَیَاشِیْمَہٗ، فَعَطَسَ فَلَقَاہُ اللہُ حَمِدَ رَبَّہٗ، فَقَالَ الرَّبُّ: یَرْحَمُکَ رَبُّکَ! ۔۔۔ الخ‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۳۶۴، مسند ابویعلیٰ ج:۶ ص:۹۷ حدیث:۶۵۴۹ واللفظ لہٗ، مجمع الزوائد ج:۸ ص:۱۹۷)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: بے شک اللہ تعالیٰ نے بنایا آدم علیہ السلام کو مٹی سے، پھر اس مٹی میں پانی ڈال کر اس کو گوندھ دیا، پھر اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ سیاہ گارا بن گیا تو اس کا قالب بنایا، پھر اس کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ آگ میں پکی ہوئی چیز کی طرح کھنکھنانے لگا، اِبلیس اس کے پاس سے گزرتا تو کہتا کہ: ’’تجھے کسی بڑے کام کے لئے بنایا گیا ہے!‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قالب میں اپنی رُوح ڈالی، پس سب سے پہلی چیز جس میں رُوح جاری ہوئی وہ حضرت آدم علیہ السلام کی آنکھیں اور نتھنے تھے، پس ان کو چھینک آئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ کہنے کا اِلہام فرمایا، انہوں نے الحمدﷲ کہا تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ’’يَرْحَمُك رَبُّك!‘‘ (تیرا رَبّ تجھ پر رحم فرمائے)۔‘‘

ان احادیثِ شریفہ کا خلاصہ و مضمون پہلے ذکر کرچکا ہوں، اب اس پر غور فرمائیے کہ ان احادیثِ مقدسہ میں تخلیقِ آدم علیہ السلام کے جو مدارج ذکر کئے گئے اور اس تخلیق کی جو کیفیت بیان فرمائی گئی ہے، قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں اس کی تصدیق و تصویب فرمائی گئی ہے۔

اوّل:۔ یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بلاواسطہ مٹی سے ہوئی اور یہ ان کی تخلیق کا نقطئہ آغاز اور مبداء اوّل ہے، حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:

ﵟ إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٥٩ ﵞ (آل عمران ٥٩)

ترجمہ:۔ ’’بے شک حالتِ عجیبہ (حضرت) عیسیٰ کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشابہ حالتِ عجیبہ (حضرت) آدم کے ہے کہ ان (کے قالب) کو مٹی سے بنایا، پھر ان کو حکم دیا کہ (جاندار) ہوجا، پس وہ (جاندار) ہوگئے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

دوم:۔ یہ کہ اس مٹی کو پانی سے گوندھا گیا، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ﵟ إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ ﵞ (ص ٧١)

ترجمہ:۔ ’’جب آپ کے رَبّ نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ: میں گارے سے ایک انسان (یعنی اس کے پتلے کو) بنانے والا ہوں۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

سوم:۔ یہ کہ گارا ایک عرصہ تک پڑا رہا، یہاں تک کہ سیاہ ہوگیا، اور اس میں سے بو آنے لگی، چنانچہ ارشاد ہے:

ﵟ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ﵞ (الحجر ٢٦)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے، جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی تھی پیدا کیا۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

چہارم:۔ یہ کہ مزید پڑا رہنے سے اس گارے میں چپکنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی، ارشاد ہے:

ﵟ إِنَّا خَلَقۡنَٰهُم مِّن طِينٖ لَّازِبِۭ ﵞ (الصافات ١١)

ترجمہ:۔ ’’ہم نے ان لوگوں کو چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

پنجم:۔یہ کہ اس گارے سے قالب بنایا جو خشک ہوکر بجنے لگا، ارشاد ہے:

ﵟ وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ٢٨ ﵞ (الحجر ٢٨)

ترجمہ:۔ ’’اور جب آپ کے رَبّ نے ملائکہ سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے سے بنی ہوگی، پیدا کرنے والا ہوں۔‘‘

ﵟ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ كَٱلۡفَخَّارِ ١٤ وَخَلَقَ ٱلۡجَآنَّ مِن مَّارِجٖ مِّن نَّارٖ ١٥ ﵞ (الرحمن ١٤ و ١٥)

ترجمہ:۔ ’’اس نے انسان کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی، پیدا کیا، اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ششم:۔ یہ کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کا قالب مندرجہ بالا مدارج سے گزرچکا تو اس میں رُوح پھونکی گئی اور یہ ان کی تخلیق کی تکمیل تھی، ارشاد ہے:

ﵟ إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ ٧١ فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ ٧٢ ﵞ (ص ٧١ و ٧٢)

ترجمہ:۔ ’’جب آپ کے رَبّ نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں گارے سے ایک انسان (یعنی اس کے پتلے کو) بنانے والا ہوں، سو جب میں اس کو پورا بناچکوں اور اس میں اپنی طرف سے رُوح ڈال دُوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا

قرآنِ کریم میں یہ بھی صراحت فرمائی گئی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے فرمائی، چنانچہ ارشاد ہے:

ﵟ قَالَ يَٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ ﵞ (ص ٧٥)

ترجمہ:۔ ’’حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے اِبلیس! جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کو سجدہ کرنے سے تجھ کو کون سی چیز مانع ہوئی؟‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

یہ تو ظاہر ہے کہ ساری کائنات حق تعالیٰ شانہ‘ ہی کی پیدا کردہ ہے، مگر حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں جو اِرشاد فرمایا کہ: ’’میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے بنایا‘‘ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی عظمت و شرف کا اظہار مقصود ہے۔ یعنی ان کی تخلیق توالد و تناسل کے معروف طریقے سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدستِ خود مٹی سے بنایا اور ان میں رُوح پھونکی، چنانچہ اِمام ابوالسعود رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’أَيْ خَلَقَهُ بِالذَّاتِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُّطِ أَبٍ وَأُمٍّ ۔‘‘ (تفسیر ابی السعود ج:۷ ص:۳۲۶)

ترجمہ:۔ ’’یعنی میں نے ان کو ماں باپ کے واسطے کے بغیر بذاتِ خود پیدا فرمایا۔‘‘

اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں: ’’خَلَقْتُ بِیَدَیَّ‘‘ (بنایا میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے) فرمانا، اس حقیقت کبریٰ کا اظہار ہے کہ ان کی تخلیق تولید و تناسل کے معروف ذرائع سے نہیں ہوئی، یہیں سے اہلِ عقل کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جس شخصیت کی تخلیق میں ماں اور باپ کا واسطہ بھی قدرت کو منظور نہ ہوا، اس کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ: ’’وہ جمادات، نباتات، حیوانات اور بندروں کی ’’جون‘‘ تبدیل کرتے ہوئے انسانی شکل میں آیا‘‘ کتنی بڑی ستم ظریفی ہوگی۔۔۔! الغرض ’’خَلَقْتُ بِیَدَیَّ‘‘ کے قرآنی الفاظ سے جہاں حضرت آدم علیہ السلام کے توالد و تناسل کے ذریعہ پیدا ہونے کی نفی ہوتی ہے، وہاں ان کے جمادات، نباتات اور حیوانوں اور بندروں سے اِرتقائی مراحل طے کرتے ہوئے انسان بننے کی بدرجہ اَوْلیٰ نفی ہوتی ہے، اس لئے اہلِ ایمان کے نزدیک حق وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور جس کی تفصیلات اوپر گزر چکی ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں انبیائے کرام علیہم السلام کا عقیدہ

قرآنَ کریم کے ارشاد: ’’خَلَقْتُ بِیَدَیَّ‘‘ (بنایا میں نے اس کو اپنے ہاتھوں سے) کے مفہوم کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے بعد اب اس پر بھی غور فرمائیے کہ اس بارے میں حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کا عقیدہ کیا تھا؟

حدیث کی قریباً تمام معروف کتابوں (صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابنِ ماجہ، مؤطا اِمام مالک اور مسندِ احمد وغیرہ) میں حضرت موسیٰ اور حضرت آدم علیہما السلام کا مباحثہ مذکور ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا:

’’أَنْتَ آدَمُ الَّذِیْ خَلَقَکَ اللہُ بِیَدِہٖ وَنَفَخَ فِیْکَ مِنْ رُّوْحِہٖ وَأَسْجَدَ لَکَ مَلٰئِکَتَہٗ وَأَسْکَنَکَ فِیْ جَنَّتِہٖ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۱۹)

ترجمہ:۔ ’’آپ وہی آدم (علیہ السلام) ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے رُوح ڈالی اور آپ کو اَپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اَپنی جنت میں ٹھہرایا۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں ٹھیک وہی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو مذکورۃ الصدر آیتِ شریفہ میں وارِد ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنانا اور ان کے قالب میں اپنی جانب سے رُوح ڈالنا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قالب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور اس میں رُوح ڈالی، وہ توالد و تناسل کے معروف مراحل سے گزر کر انسان نہیں بنے، نہ جمادات و نباتات اور حیوانوں اور بندروں سے شکل تبدیل کرتے ہوئے آدمی بنے۔

محشر کے دن اہلِ ایمان بھی اسی عقیدے کا اظہار کریں گے

حدیثِ شفاعت میں آتا ہے کہ اہلِ ایمان قیامت کے دن شفاعتِ کبریٰ کے لئے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان سے عرض کریں گے:

’’أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ خَلَقَکَ اللہُ بِیَدِہٖ وَأَسْکَنَکَ جَنَّتَہٗ وَأَسْجَدَ لَکَ مَلٰئِکَتَہٗ وَعَلَّمَکَ أَسْمَاءَ کُلَّ شَیْئٍ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۸۸)

ترجمہ:۔ ’’آپ آدم ہیں، تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا، اور آپ کو تمام اشیاء کے ناموں کی تعلیم فرمائی۔‘‘

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اہلِ ایمان بھی اسی عقیدے کا اظہار کریں گے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق حق تعالیٰ شانہ‘ نے براہِ راست اپنے دستِ قدرت سے فرمائی۔ مٹی سے ان کا قالب بناکر اس میں رُوح پھونکی اور ان کو جیتا جاگتا انسان بنایا، ان کی تخلیق میں نہ توالد و تناسل کا واسطہ تھا، اور نہ وہ جمادات سے بندر تک اِرتقائی مراحل سے گزر کر ’’انسان آدم‘‘ بنے۔

قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ طیبات، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرمودات، اور میدانِ محشر میں اہلِ ایمان کی تصریحات آپ کے سامنے موجود ہیں، جو شخص ان تمام اُمور پر بشرطِ فہم و انصاف غور کرے گا اس پر آفتابِ نصف النہار کی طرح یہ حقیقت روشن ہوجائے گی کہ حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق کے بارے میں حقیقتِ واقعیہ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی اور ان صاحب کا فلاسفہ طبیعیین کی تقلید میں تخلیقِ آدم علیہ السلام کو کرشمۂ اِرتقا قرار دینا، صریح طور پر غلط اور نصوصِ قطعیہ سے انحراف ہے، وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ!

اَمرِ دوم:احادیثِ نبویہ کے بارے میں اس شخص کے خیالات کا جائزہ

اس شخص کا یہ کہنا کہ: ’’اس مسئلے میں احادیثِ نبویہ لائقِ توجہ اور درخورِ اِعتنا نہیں‘‘ چند وجوہ سے جہلِ مرکب کا شکار ہے:

اوّلاً:۔ اُوپر قرآنِ کریم کی جو آیاتِ بینات ذکر کی گئی ہیں انہیں ارشاداتِ نبویہ کے ساتھ ملاکر پڑھئے تو واضح ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تخلیقِ آدم علیہ السلام کے سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے، وہ ان آیاتِ بینات ہی کی شرح و تفصیل ہے، اور جس مسئلے میں قرآن و حدیث دونوں متفق ہوں، کسی مؤمن کے لئے اس سے انحراف کی گنجائش نہیں رہتی، اور جو شخص فرمانِ اِلٰہی اور ارشادِ نبوی کو تسلیم کرنے سے ہچکچاتا ہے، انصاف فرمائیے کہ ایمان و اسلام میں اس کا کتنا حصہ ہے۔۔۔؟

ثانیاً:۔ بالفرض قرآنِ کریم سے ان احادیث کی تائید نہ ہوتی تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد کو سن کر یہ کہنا کہ: ’’یہ لائقِ توجہ اور درخورِ اِعتنا نہیں!‘‘ بارگاہِ رسالت میں نہایت جسارت اور حد درجے کی گستاخی ہے، جس کے سننے کی بھی کسی مؤمن کو تاب نہیں ہوسکتی کہ اس کے سنتے ہی رُوحِ ایمان لرز جاتی ہے! کجا کہ کوئی مسلمان ایسے موذی الفاظ زبان پر لانے کی جرأت کرے، ذرا سوچئے کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تخلیقِ آدم علیہ السلام کے بارے میں ان حقائق کو بیان فرما رہے تھے، کوئی شخص (بالفرض یہی صاحب) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ کہہ دیتا کہ: ۔نعوذ باﷲ۔ ’’یہ آپ کا میدانِ کار نہیں، بلکہ یہ ڈارون کا میدانِ تحقیق ہے!‘‘ تو فرمائیے کہ ایسا شخص کس صف میں شمار کیا جاتا۔۔۔؟

حافظ ابنِ حزمؒ لکھتے ہیں:

’’وَكُلُّ مَنْ يَكْفُرْ بِمَا بَلَغَهُ وَصَحَّ عِنْدَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْمُؤْمِنُوْنَ مِمَّا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهُوَ كَافِرٌ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالٰى: ﵟ وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ ﵞ۔‘‘ (المحلّٰی ج:۱ ص:۱۲)

ترجمہ:۔ ’’اور ہر وہ شخص جس نے کسی ایسی بات کا انکار کیا جو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی اور اس کے نزدیک اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح تھا، یا اس نے ایسی بات کا انکار کیا جس پر اہلِ ایمان کا اِجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے، تو ایسا شخص کافر ہے! چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: اور جس نے مخالفت کی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی، بعد اس کے کہ اس پر صحیح بات کھل گئی اور وہ چلا اہلِ ایمان کا راستہ چھوڑ کر، تو ہم اسے پھیر دیں گے جدھر پھرتا ہے، اور ہم اسے جھونک دیں گے جہنم میں۔‘‘

ثالثاً:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی جو تفصیلات بیان فرمائی ہیں ان کے بارے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا علم کس ذریعے سے ہوا؟ ظاہر ہے کہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس وحیٔ اِلٰہی کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں، لہٰذا دلیلِ عقل سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ بیان فرمایا اس کا سرچشمہ وحیٔ اِلٰہی ہی ہوسکتا ہے، اور اس کو رَدّ کرنا گویا وحیٔ خداوندی کو رَدّ کرنا ہے، ظاہر ہے کہ یہ شیوہ کسی کافر و منافق کا ہوسکتا ہے، کسی مسلمان کا نہیں! خصوصاً جب یہاں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ اس دور کا ہے جس کو مؤرخین ’’قبل اَز تاریخ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، جب اس وقت کوئی انسانی وجود ہی نہیں تھا تو اس دور کی تاریخ اور اس واقعے کی تفصیلات کون قلم بند کرتا؟ ہاں! اللہ تعالیٰ جو آدم علیہ السلام کی تخلیق فرما رہے تھے، یہ پورا واقعہ ان کے سامنے تھا اور اس کی ضروری تفصیلات سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ فرمایا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تفصیلات سے اُمت کو آگاہی بخشی، اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشاداتِ صحیحہ کو رَدّ کردینا اور فلاسفہ کی ہفوات کی تقلید کرنا، کیا کسی صاحبِ ایمان کی شان ہوسکتی ہے۔۔۔؟

رابعاً:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ’’حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس طرح ہوئی‘‘ یہ ایک خبر ہے، اور خبر یا تو واقعے کے مطابق ہوگی، یا واقعے کے خلاف ہوگی، جو خبر واقعے کے مطابق ہو وہ سچی کہلاتی ہے، اور خبر دینے والا سچا سمجھا جاتا ہے، اور جو خبر واقعے کے خلاف ہو وہ جھوٹی کہلاتی ہے، اور خبر دینے والا جھوٹا قرار پاتا ہے۔ اب یہ صاحب جو کہہ رہے ہیں کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں جو خبریں دی ہیں، وہ واقعے کے خلاف ہیں‘‘ اہلِ عقل غور فرمائیں کہ اس کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح تکذیب نہیں؟ اور کیا یہ بات عقلاً ممکن ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کو غلط بھی سمجھتا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان بھی رکھتا ہو۔؟ ہرگز نہیں! ’’ضِدَّانِ لَا يَجْتَمِعَانِ!‘‘ (یہ دونوں ضدیں ہیں، جو کبھی جمع نہیں ہوسکتیں)۔

خامساً:۔ ان صاحب کا یہ کہنا کہ: ’’حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ اُمورِ دُنیا میں سے ہے، اس لئے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد لائقِ التفات نہیں!‘‘ ان کی دلیل کا صغریٰ و کبریٰ دونوں غلط ہیں، اس لئے کہ گفتگو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں ہے، اور ہر شخص جانتا ہے کہ تخلیق اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور خالقیت اس کی صفت ہے۔ اب ان صاحب سے دریافت کیا جائے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی صفات و اَفعال کو بیان کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب ہے یا ۔۔۔نعوذباﷲ۔۔۔ ڈارون کا میدانِ کار۔۔۔؟ اور یہ کہ اگر صفاتِ اِلٰہیہ کے بیان میں بھی ۔۔۔بقول اس کے۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ عالیہ لائقِ التفات نہیں تو پھر اور کس چیز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات لائقِ اعتماد ہوگی؟ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ سُوءِ الْفَهْمِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ!

حق تعالیٰ شانہ‘ کی صفات و افعال وہ میدان ہے جہاں دانش و خرد کے پاؤں شل ہیں، یہ وہ فضا ہے جہاں عقل و فکر کے پَر جلتے ہیں، اور عقلِ انسانی ان حقائقِ اِلٰہیہ کا ٹھیک ٹھیک اِدراک کرنے سے عاجز و درماندہ ہے، جہاں سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ فرمانے پر مجبور ہوں:

’’اَللّٰھُمَّ لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ!‘‘

ترجمہ:۔ ’’یا اللہ! میں تیری تعریف کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوں، آپ بس ویسے ہی ہیں جیسا کہ آپ نے خود اپنی ثنا فرمائی ہے۔‘‘

وہاں کسی دُوسرے کی عقلِ نارسا کے عجز و درماندگی کا کیا پوچھنا؟ یہی وجہ ہے کہ جن فلاسفہ نے انبیائے کرام علیہم السلام کا دامن چھوڑ کر محض اپنی عقلِ نارسا کے گھوڑے پر سوار ہوکر اس میدان میں ترکتازیاں کیں، حیرت و گمراہی کے سوا ان کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ حق تعالیٰ شانہ‘ کا اِنعام ہے کہ اس نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے ان حقائقِ اِلٰہیہ میں سے اتنے حصے کو بیان فرمادیا جس کا انسانوں کی عقل تحمل کرسکتی تھی۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایک مسلمانی کا دعویدار اس اِنعامِ اِلٰہی کا یہ شکر ادا کر رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نالائقِ التفات قرار دے کر فلاسفۂ ملحدین کی دُم پکڑنے کی تلقین کر رہا ہے۔

سادساً:۔ ان صاحب کا یہ کہنا کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں فرمایا‘‘ خالص جھوٹ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِفتراء ہے، کیونکہ گزشتہ سطور میں آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری وضاحت اور کامل تشریح کے ساتھ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رُوئے زمین کی مٹی لے کر اس کو پانی سے گوندھا، پھر اس گارے سے آدم علیہ السلام کا ساٹھ ہاتھ کا قالب بنایا، پھر اس قالب میں رُوح ڈالی، وغیرہ وغیرہ۔

ان تمام صراحتوں اور وضاحتوں کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ: ’’اس مسئلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں فرمایا‘‘، اور اگر اتنی صراحت و وضاحت اور تاکید و اِصرار کے ساتھ بیان فرمائے ہوئے مسئلے کے بارے میں بھی یہ کہا جائے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں فرمایا‘‘ تو بتایا جائے کہ اس سے زیادہ ’’واضح موقف‘‘ کن الفاظ میں بیان کیا جاتا۔۔۔؟

’’أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ!‘‘ کی تشریح

ان صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ!‘‘ سے یہ کلیہ کشید کرلیا کہ دُنیا کے کسی کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد لائقِ اِلتفات نہیں، اس سلسلے میں بھی چند گزارشات گوش گزار کرتا ہوں:

اوّل:۔ ان صاحب نے اس حدیث کو دیکھنے اور اسے غلط معنی پہنانے سے پہلے اگر قرآنِ مبین کو اُٹھاکر دیکھنے کی زحمت کی ہوتی تو اسے اس حدیث کو غلط معنی پہنانے کی جرأت نہیں ہوتی۔

قرآنِ کریم میں حق تعالیٰ شانہ‘ کا ارشاد ہے:

ﵟ وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗا ٣٦ ﵞ (الأحزاب ٣٦)

ترجمہ:۔ ’’اور کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان دار عورت کو گنجائش نہیں جبکہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کسی کام کا حکم دے دیں کہ (پھر) ان (مؤمنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار باقی رہے، اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں جا پڑا۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

یہ آیتِ شریفہ ایک دُنیوی معاملے کے بارے میں نازل ہوئی، جس کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا عقد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہا، چونکہ زید غلام رہ چکے تھے، ادھر حضرت زینب بنت جحشؓ قریش کے اعلیٰ ترین خاندان کی چشم و چراغ تھیں، اس لئے ان کے خاندان والوں کو خاندانی وقار کے لحاظ سے یہ رشتہ بے جوڑ محسوس ہوا، اور حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے اس رشتے کی منظوری سے عذر کردیا، اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی تو دونوں بہ جان و دِل سمع و طاعت بجا لائے۔

یہاں دو باتیں بطورِ خاص لائقِ غور ہیں، ایک یہ کہ کسی لڑکی کا رشتہ کہاں کیا جائے اور کہاں نہ کیا جائے؟ ایک خالص ذاتی اور نجی قسم کا دُنیوی معاملہ ہے، لیکن کسی شخص کے خالص ذاتی اور نجی معاملے میں دخل دیتے ہوئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ رشتہ منظور فرمادیا تو قرآنِ کریم کی اس نصِ قطعی کی رُو سے اس خاندان کو اپنے ذاتی دُنیوی معاملے میں بھی اختیار نہیں رہا، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز کو بہ دِل و جان منظور کرلینا شرطِ ایمان قرار پایا۔

دُوسری قابلِ غور بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتے کی جو تجویز فرمائی تھی، کسی روایت میں نہیں آتا کہ یہ تجویز وحیٔ اِلٰہی سے تھی، لیکن قرآنِ کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ذاتی تجویز کو ’’اللہ و رسول کا فیصلہ‘‘ قرار دے کر تمام لوگوں کو آگاہ کردیا کہ کسی دُنیوی معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تجویز بھی فیصلۂ خداوندی ہے، جس سے اِنحراف کرنا کسی مسلمان کے لئے روا نہیں!

قرآنِ کریم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی رائے کو بھی اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ قرار دیتا ہے، مگر اس بدمذاقی کی داد دیجئے کہ کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کسی دُنیوی کام میں معتبر نہیں!‘‘

پھر قرآنِ کریم اُمت کو تلقین کرتا ہے:

ﵟ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ ﵞ (الحشر ٧)

ترجمہ:۔ ’’رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں جو کچھ دے دیں اسے لے لو، اور جس سے روک دیں رُک جاؤ!‘‘

لیکن آج بتایا جاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جو خبر دیں اسے قبول نہ کرو، بلکہ ڈارون کی تقلید میں انسان کو بندر کی اولاد قرار دو، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ!

دوم:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی زندگی کے بے شمار پہلوؤں میں انسانیت کی راہ نمائی کی اور اُمورِ دُنیا کی ہزارہا ہزار گتھیوں کو سلجھایا، جس کو علمائے اُمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں شمار کیا ہے۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَمِنْ مَعْجِزَاتِهِ الْبَاهِرَةِ مَا جَمَعَهُ اللّٰهُ لَهُ مِنَ الْمَعَارِفِ وَالْعُلُومِ، وَخَصَّهُ بِهِ مِنَ الْاِطِّلَاعِ عَلٰى جَمِيعِ مَصَالِحِ الدُّنْيَا وَالدِّينِ۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (شرح الشفاء للقاضی عیاض ص:۲۹۸)

ترجمہ:۔ ’’اور من جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن معجزات کے ایک وہ علوم و معارف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جمع فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (انسانی ضرورت کے) تمام مصالح دُنیا و دِین کی اطلاع کے ساتھ مخصوص فرمایا۔‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں جو ہمہ گیر تعلیمات فرمائی ہیں، بلاشبہ اسے معجزۂ نبوّت اور تعلیمِ اِلٰہی ہی کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر طب و معالجات کا باب لیجئے! ظاہر ہے کہ علاج معالجہ ایک خالص بدنی و جسمانی اور دُنیوی چیز ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طب کے ایسے اُصول و کلیات اور فروع و جزئیات بیان فرمائے ہیں کہ عقل حیران ہے، حافظ شیرازی رحمہ اللہ کے بقول:

نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت

بغمزہ مسئلہ آموز صد مدرس شد

اہلِ علم نے طبِ نبوی کے نام سے ضخیم کتابیں لکھی ہیں، اور حافظ ابنِ قیمؒ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں اس کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع کردیا ہے، یہاں بے ساختہ اس واقعے کا ذکر کرنے کو جی چاہتا ہے، جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، ترمذی اور حدیث کی بہت سی کتابوں میں مروی ہے کہ: ایک صاحب آئے اور عرض کیا کہ: میرے بھائی کو اِسہال کی تکلیف ہے۔ فرمایا: اسے شہد پلاؤ! اس نے شہد پلایا اور آکر عرض کیا کہ: میں نے شہد پلایا تھا مگر اس سے اِسہال اور بڑھ گئے۔ فرمایا: اس کو شہد پلاؤ! چار بار یہی قصہ پیش آیا کہ اس کے اِسہال میں اضافہ ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا کہ:

’’صَدَقَ اللّٰهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيك!‘‘ (جامع الاصول ج:۷ ص:۵۱۷)

v

اس نے پھر شہد پلایا تو اِسہال بند ہوگئے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا جو واقعہ ارشاد فرمایا، اس کے مقابلے میں ان صاحب کا یہ کہنا کہ: ’’حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس طرح نہیں ہوئی‘‘ اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ:

’’صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ! وَكَذَبَ دَارْوِینُ وَالدُّكْتُورُ۔!‘‘

ترجمہ:۔’’اللہ و رسول کا فرمان برحق ہے! اور ڈارون اور ڈاکٹر جھوٹ بولتے ہیں!‘‘

اور ایک طب اور معالجے پر ہی کیا منحصر ہے، زندگی کے کسی ایک شعبے کا تو نام لیجئے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے راہ نمائی نہ فرمائی ہو، اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات سے محروم رہا ہو، چلنا پھرنا، اُٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، بیوی بچوں، عزیز و اقارب اور دوست احباب سے ملنا جلنا، صلح و امن، حرب و ضرب، نکاح و طلاق، بیع و شراء، سیاست و ادب، الغرض دُنیوی اُمور میں سے کون سا امر ایسا ہے جس میں معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات و تعلیمات کے نقوش ثبت نہ ہوں؟ صحیح مسلم ابوداؤد، نسائی اور ترمذی کی حدیث میں ہے کہ: یہود اور مشرکین نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا:

’’قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخَرَاءَةَ؟ قَالَ: أَجَلْ!‘‘ (جامع الاصول ج:۷ ص:۱۳۳)

ترجمہ:۔ ’’تمہیں تو تمہارا نبی ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ ہگنا موتنا بھی؟ فرمایا: ہاں! (ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بول و براز کے یہ آداب سکھائے ہیں)۔‘‘

اس اعتراض سے یہود ی کا مقصود ۔۔۔واﷲ اعلم۔۔۔ یا تو مسلمانوں پر نکتہ چینی کرنا تھا کہ تم ایسے نادان اور کودن ہو کہ تمہیں ہگنا موتنا بھی نہیں آتا، تم اس کے لئے بھی نبی کی تعلیم کے محتاج ہو؟ یا اس لعین کا مقصد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا تھا کہ انبیائے کرام علیہم السلام علومِ عالیہ سکھانے کے لئے آتے ہیں، یہ کیسا نبی ہے کہ لوگوں کو ہگنے موتنے کے طریقوں کی تعلیم دیتا ہے۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اس کے اس بے ہودہ اعتراض سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ یہ فرمایا کہ: ’’ہاں! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بول و براز کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں فلاں فلاں آداب کی تعلیم دی ہے۔‘‘ اگر اس کا مقصود مسلمانوں پر اعتراض کرنا تھا تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت الخلاء میں جانے کا طریقہ سیکھ لیا، تم اپنی فکر کرو کہ تم جانوروں کی طرح یہ طبعی حوائج پوری کرتے ہو، مگر تم انسانوں کے طریقے سے ابھی تک محروم ہو۔

اور اگر اس کا مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نکتہ چینی کرنا تھا تو جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال یہ ہے کہ ان طبعی انسانی ضرورتوں کی ایسی تعلیم فرماتے ہیں کہ انسان کی یہ طبعی حاجات بھی تقرّب الی اللہ کا ذریعہ بن جائیں، اور یہ چیزیں بھی عبادات کے زُمرے میں شمار ہونے لگیں، بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی رعایت کرتے ہوئے استنجاخانے میں جانا بھی عبادت کے زُمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ ہمارے شیخ المشائخ شاہ عبدالغنی مجدّدی دہلوی مہاجر مدنی قدس سرہٗ حاشیہ ابنِ ماجہ میں لکھتے ہیں:

’’قَالَ عُلَمَاؤُنَا إِنَّ إِتْيَانَ السُّنَّةِ وَلَوْ كَانَ أَمْرًا يَسِيرًا كَإِدْخَالِ الرِّجْلِ الْأَيْسَرِ فِي الْخَلَاءِ ابْتِدَاءً أَوْلٰى مِنَ الْبِدْعَةِ الْحَسَنَةِ وَإِنْ كَانَ أَمْرًا فَخِيمًا كَبِنَاءِ الْمَدَارِسِ‘‘(حاشیہ ابنِ ماجۃ ص:۳)

ترجمہ:۔ ’’ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ: سنت کا بجالانا اگرچہ وہ معمولی بات ہو، مثلاً: بیت الخلا میں جاتے ہوئے بایاں پاؤں پہلے رکھنا، بدعتِ حسنہ سے بہتر ہے، اگرچہ وہ عظیم الشان کام ہو، جیسے مدارس کا بنانا۔‘‘

خلاصہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ اور کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کی راہ نمائی نہ فرمائی ہو، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:

’’إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ بِمَنْزَلَۃِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُکُمْ!‘‘ (ابوداؤد ص:۳)

ترجمہ:۔ ’’میں تو تمہارے لئے بمنزلہ والد کے ہوں، میں تم کو تعلیم دیتا ہوں!‘‘

اس لئے ان صاحب کا یہ کہنا کہ: ’’اُمورِ دُنیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا میدان نہیں تھا، اس لئے اُمورِ دُنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ۔۔۔نعوذ باﷲ۔۔۔ لائقِ التفات نہیں‘‘ قطعاً غلط در غلط ہے۔۔۔!

سوم:۔ یہ صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ‘‘ کا مدعا ہی نہیں سمجھے، اس لئے اس سے کشید کرلیا کہ دُنیوی معاملات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد لائقِ التفات نہیں۔ خوب سمجھ لیا جائے کہ اس واقعے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا وہ بطور مشورہ کے تھا، شیخ المشائخ شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حاشیہ ابنِ ماجہ میں اس سلسلے کی روایات کو جمع کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

’’فَعُلِمَ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ مِنْهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِطَرِيقِ الْاِجْتِهَادِ وَالْمَشُورَةِ، فَمَا كَانَ وَاجِبَ الْاِتِّبَاعِ۔‘‘ (حاشیہ ابن ماجۃ ص:۱۷۸)

ترجمہ:۔ ’’پس معلوم ہوا کہ اس واقعے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ بطورِ رائے اور مشورہ کے تھا، اس لئے واجب الاتباع نہیں تھا۔‘‘

مشورہ اور حکم کے درمیان فرق حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے قصے سے واضح ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہؓ کو آزاد کردیا، یہ شادی شدہ تھیں، آزادی کے بعد انہوں نے اپنے شوہر مغیثؓ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش فرمائی کہ: بریرہ! تم مغیث کو قبول کرلو! انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ حکم ہے یا مشورہ؟ فرمایا: حکم تو نہیں، مشورہ ہے! عرض کیا کہ: اگر مشورہ ہے تو میں قبول نہیں کرتی!(۱)

اس واقعے سے بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم خواہ کسی دُنیوی اَمر میں ہو، واجب التعمیل ہے۔ البتہ اگر بطورِ مشورہ کچھ ارشاد فرمائیں تو اس کا معاملہ دُوسرا ہے۔

آیت سے غلط استدلال

اس شخص کا آیتِ شریفہ: ’’وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ نَبَاتٗا‘‘سے ڈارون کے نظریۂ اِرتقا پر استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ: ’’حضرت آدم علیہ السلام بھی جمادات و نباتات اور حیوانات کے مراحل سے گزر کر ’’انسان آدم‘‘ بنے تھے‘‘ سراسر مہمل اور لایعنی ہے، کیونکہ:

اوّلاً:۔ یہ شخص خود تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیقِ جسمانی کی ایک کیفیت بیان فرمائی ہے، جو ان صاحب کے ذکر کردہ نظریے سے متضاد ہے۔ اب ان صاحب کو دو باتوں میں سے ایک بات تسلیم کرنی ہوگی۔ یا تو یہ کہ خود صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔نعوذ باﷲ۔۔۔ قرآن کی اس آیت کا صحیح مفہوم نہیں سمجھے، کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا وہ مفہوم منکشف ہوگیا ہوتا جو ان صاحب کو اِلقا ہوا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیقِ جسمانی کے بارے میں اس سے متضاد اور مختلف کیفیت بیان نہ فرماتے۔ یا ان صاحب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ذہن سے تراش کر جو معنی قرآنِ کریم کو پہنانا چاہتے ہیں وہ سراسر لغو و لایعنی ہے، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بَری ہیں۔

ممکن ہے کہ یہ شخص بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ وہ قرآن کے حقائق و معارف کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر بیان کرسکتا ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کے بارے میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں، بدیہی البطلان ہے۔‘‘ (کرامات الصادقین ص:۱۹، مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۷ ص:۶۱)

الغرض کسی آیتِ شریفہ سے کسی ایسے نظریے کا اِستنباط کرنا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریحات کے خلاف ہو، اس سے دو باتوں میں سے ایک بات لازم آتی ہے، یا تو اس سے ۔۔۔ نعوذ باﷲ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیل لازم آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ یا اپنی خام خیالیوں کو قرآنِ کریم میں ٹھونسنا لازم آتا ہے، جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِرَأْیِہٖ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ!‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۵)

ترجمہ:۔۔ ’’جس شخص نے اپنی رائے سے کوئی مفہوم قرآن میں ٹھونسا، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے!‘‘

ثانیاً:۔ یہ آیتِ شریفہ، جس سے ان صاحب نے نظریۂ اِرتقا کو حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق پر چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے، سورۂ نوح کی آیت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلٰاةُ وَالسَّلَامُ) کا وہ خطاب نقل کیا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے کافروں سے فرمایا تھا۔ جو شخص معمولی غور و فکر سے بھی کام لے گا، اس سے یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے افراد کو ڈارون کے نظریۂ اِرتقا کی تعلیم و تلقین نہیں فرمارہے، بلکہ ان لوگوں میں سے ایک ایک فرد کی تخلیق میں حق تعالیٰ شانہ‘ نے اپنی قدرت کے جن عجائبات کا اظہار فرمایا ہے اس کو ذکر فرما رہے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ‘ نے زمین کی مٹی سے غذائیں پیدا فرمائیں، ان غذاؤں سے اس قطرۂ آب کی تخلیق ہوئی جس سے تم پیدا ہوئے ہو، پھر اس قطرۂ آب کو شکمِ مادر میں مختلف شکلوں میں تبدیل کرکے اس میں رُوح ڈالی اور تم زندہ انسان بن گئے، پھر نفخِ رُوح کے بعد بھی شکمِ مادر میں زمین سے پیدا شدہ غذاؤں کے ذریعے تمہارے نشوونما کا عمل جاری رہا، یہاں تک کہ شکمِ مادر سے تمہاری پیدائش ہوئی اور پھر پیدائش کے بعد بھی تمہارے نشوونما کا سلسلہ جاری رہا، اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے زمین کی مٹی اور اس سے پیدا شدہ غذاؤں کے ذریعہ کیا۔

الغرض ’’وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ نَبَاتٗا ‘‘ میں انسانی افراد کے اس طویل سلسلۂ نشوونما کی جانب اشارہ فرمایا گیا ہے جس سے گزرتے ہوئے ہر اِنسان نشوونما کے مدارج طے کرتا ہے، اس سلسلے کی ابتدا مٹی سے ہوتی ہے اور اس کی انتہا نشوونما کی تکمیل پر۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں ’’خلاصۂ تفسیر‘‘ کے عنوان سے اس آیتِ شریفہ کی حسب ذیل تفسیر فرمائی ہے، جو حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کی ’’بیان القرآن‘‘ سے ماخوذ ہے:

’’اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا، (یا تو اس طرح کہ حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے اور یا اس طرح کہ انسان نطفہ سے بنا، اور نطفہ غذا سے، اور غذا عناصر سے بنی اور عناصر میں غالب اجزا مٹی کے ہیں)۔‘‘ (معارف القرآن ج:۸ ص:۵۶۲)

لہٰذا اس آیتِ شریفہ سے (یا دُوسری آیاتِ کریمہ سے) ڈارون کے نظریۂ اِرتقا کو کشید کرنا اپنی عقل و فہم سے بھی زیادتی ہے اور قرآنِ کریم کے ساتھ بھی بے انصافی ہے۔

ان صاحب کے جو دلائل آپ نے ذکر کئے ہیں، ان کی علمی حیثیت واضح کرنے کے بعد اب میں آپ کے سوالات کے جواب عرض کرتا ہوں، چونکہ بحث طویل ہوگئی، اس لئے نمبروار آپ کا سوال نقل کرکے اس کے ساتھ مختصر سا جواب لکھوں گا۔

جواب:۔

اس شخص کے یہ عقائد اہلِ سنت والجماعت کے عقائد نہیں، اَئمۂ اہلِ سنت بالاجماع اسی کے قائل ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیقِ جسمانی کے بارے میں احادیثِ نبویہ میں بیان کیا گیا ہے، اس لئے اس شخص کا یہ نظریہ بدترین بدعت ہے۔

جواب:۔

حضرت آدم علیہ السلام کی جسمانی تخلیق سے متعلق وارِد شدہ احادیث کے بارے میں اس شخص کا رویہ بلاشبہ گستاخانہ ہے، جس کی تفصیل اُوپر عرض کرچکا ہوں، اور یہ رویہ بلاشبہ گمراہی و کج روی کا ہے۔

جواب:۔

حضرت آدم علیہ السلام کو نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ سلف کے علی الرغم ’’حیوان آدم‘‘ کہنا اور ان کا سلسلۂ نسب بندروں کے ساتھ ملانا ’’اشرف المخلوقات‘‘ حضرتِ انسان کی توہین ہے، اور یہ نہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کی شان میں گستاخی ہے، بلکہ ان کی نسل سے پیدا ہونے والے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی بھی توہین و تنقیص ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے باپ ہیں، اب اگر کسی کے باپ کو ’’جانور‘‘ یا ’’بندر‘‘ کہا جائے تو سوچنا چاہئے کہ یہ گالی ہے یا نہیں؟ اسی طرح اگر کسی (مثلاً: انہی صاحب کو) ’’جانور کی اولاد‘‘ یا ’’بندر کی اولاد‘‘ کہا جائے تو یہ صاحب اس کو گالی سمجھیں گے یا نہیں؟ اور اس کو اپنی توہین وتنقیص تصوّر کریں گے یا نہیں؟

جواب:۔

اُوپر ذکر کرچکا ہوں کہ اپنے مزعومہ نظریہ پر قرآنِ کریم کی آیاتِ شریفہ کا ڈھالنا تفسیر بالرائے ہے اور یہ شخص، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی: ’’فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ!‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۵) کا مستحق ہے، یعنی اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔

جواب:۔

اُوپر ذکر کرچکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قالب مٹی سے بنایا گیا، پھر اس قالب میں رُوح ڈالی گئی تو وہ جیتے جاگتے انسان بن گئے، فلاسفہ طبیعیین نے اس بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ محض اَٹکل مفروضے ہیں، جن کی حیثیت اَوہام و ظنون کے سوا کچھ نہیں، اور ظن و تخمین کی حق و تحقیق کے بازار میں کوئی قیمت نہیں، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ﵟ وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـٔٗا ٢٨ ﵞ (النجم ٢٨)

ترجمہ:۔ ’’اور ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں، صرف بے اصل خیالات پر چل رہے ہیں، اور یقینا بے اصل خیالات اَمرِ حق کے مقابلے میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔‘‘

جو قومیں نورِ نبوّت سے محروم ہیں، وہ اگر قبل اَز تاریخ کی تاریک وادیوں میں بھٹکتی ہیں تو بھٹکا کریں، اور ظن و تخمین کے گھوڑے دوڑاتی ہیں تو دوڑایا کریں، اہلِ ایمان کو ان کا پس خوردہ کھانے اور ان کی قے چاٹنے کی ضرورت نہیں! ان کے سامنے آفتابِ نبوّت طلوع ہے، وہ جو کچھ کہتے ہیں، دن کی روشنی میں کہتے ہیں۔ ان کو قرآن و سنت کی روشنی نے ظن و تخمین سے بے نیاز کردیا ہے۔

جواب:۔

اُوپر کی تفصیل سے واضح ہوچکا ہے کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی برحق ہے، اور اس شخص کا فلاسفہ کی تقلید میں ارشاداتِ نبویہ سے اِنحراف، اس کی کج روی و گمراہی کی دلیل ہے، اس لئے اس شخص کو لازم ہے کہ اپنے عقائد و نظریات سے توبہ کرکے رُجوع الی الحق کرے اور ندامت کے ساتھ تجدیدِ ایمان کرے، اور کسی شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتا ہو، اس شخص کی ہم نوائی جائز نہیں، اگر کوئی مسلمان اس کی بیعت میں داخل ہے تو اس کے خیالات و نظریات کا علم ہوجانے کے بعد اس کی بیعت کا فسخ کردینا لازم ہے۔

  1. (۱) عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لھا فی بریرۃ خذیھا فاعتقیھا وکان زوجھا عبدًا فتخیّرھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فاختارت نفسھا ولو کان حرًّا لم یخیّرھا۔ متفق علیہ۔ وعن ابن عباس قال: کان زوج بریرۃ عبدًا أسود یقال لہ مغیث کأنی أنظر إلیہ یطوف خلفھا فی سکک المدینۃ یبکی ودموعہ تسیل علٰی لحیتہٖ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم للعباس: یا عبّاس! ألَا تعجب من حبّ مغیث بریرۃ، ومن بغض بریرۃ مغیثًا، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لو راجعتیہ، فقالت: یا رسول اللہ! تأمرنی؟ قال: إنما أشفع! قالت: لَا حاجۃ لی فیہ۔ رواہ البخاری۔ مشکوٰۃ، کتاب النکاح، بابٌ الفصل الأوّل ص:۲۷۶۔