غلط عقائد رکھنے والے فرقے
اِمام کو خدا کا درجہ دینے والوں کا شرعی حکم
سوال:۔
میرا تعلق ایک خاص فرقے سے رہا ہے، لیکن اب خدا کے فضل سے میں نے اس مذہب کو چھوڑ دیا ہے، میں اس مذہب کے چند عقائد یہاں لکھ رہا ہوں۔
عقائد:۔ اس مذہب میں اِمام کو خدا کا درجہ دے دیا گیا ہے، اور اپنی تمام حاجات و خواہشات حتیٰ کہ گناہوں کی معافی بھی انہی سے مانگی جاتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز کی بجائے تین وقت کی ’’دُعا‘‘ پڑھی جاتی ہے، جو اِسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے سے بالکل مختلف ہے، نہ تو وضو کا کوئی تصوّر ہے اور نہ رُکوع و سجود کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے، اور جس طرح ان کے مرد اور عورتیں سج دھج کرکے جماعت خانے جاتے ہیں، وہ تو آپ نے خود بھی ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ روزہ، زکوٰۃ اور حج اس مذہب کے ماننے والوں پر فرض ہی نہیں۔ آپ کتاب و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا ان عقائد کے ساتھ کوئی شخص مسلمان رہ سکتا ہے؟
جواب:۔
آپ نے جو عقائد لکھے ہیں، وہ اسلام سے یکسر مختلف ہیں۔(۱) میرا خیال ہے کہ ان میں سے بہت سے سمجھدار اور پڑھے لکھے حضرات خود بھی محسوس کرتے ہوں گے کہ ان کے عقائد اسلام سے قطعی الگ ہیں، لیکن ایک خاندانی روایت کے طور پر وہ ان عقائد کو اَپنائے چلے آتے ہیں، جن لوگوں کے دِل میں آخرت کی فکر اور صحیح دِین اختیار کرنے کی خلش پیدا ہوجاتی ہے، ان کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق عطا فرمادیتے ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنے دُوسرے بھائیوں کی بھی اس ہدایت کی طرف رہنمائی کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نصیب فرمائی ہے۔
- (۱) ولَا نزاع فی اکفار منکر شیء من ضروریات الدِّین۔ (کلیات ابوالبقاء ص:۵۵۴، واکفار الملحدین ص: ۱۲۱)۔

