غلط عقائد رکھنے والے فرقے
مہدیٔآخرالزماںاورفرقۂمہدویہ
سوال:۔
اُمید ہے کہ مزاجِ گرامی بخیریت ہوں گے، ایک عرصے سے خیال تھا آپ کو خط لکھنے کا لیکن عمل کی توفیق آج ہوئی ہے۔ میں بڑے شوق وذوق سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں آپ کا دِینی کالم پڑھتا ہوں، اور آپ کی اسی سلسلے کی کتاب کی چھ جلدیں بھی میرے پاس ہیں۔
میرے نام اور ملازمت کا تو آپ کو اس لیٹرہیڈ سے علم ہوگیا۔ مزید اپنا تعارف کرانے کے لئے عرض ہے کہ میں آپ کے ایک شاگرد (خود بقول ان کے) مولانا حافظ محمد اشرف عاطف صاحب سے میری بہت اچھی سلام دُعا ہے، اور ان سے یہاں ہفتہ وار ایک درس میں ان سے برابر ملاقات ہوتی ہے۔ یہ درس مفتی اشرف صاحب خود دیتے ہیں، جی ہاں! حضرت مفتی بھی ہیں۔ اُمید ہے آپ کو یاد آگئے ہوں گے، میں آپ دونوں کا مداح ہوں اور آپ حضرات کے علم سے بہت متأثر بھی۔
میرے دِماغ میں ایک مسئلہ بڑے عرصے سے کھلبلی مچائے ہوئے ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت اِمام مہدی سے متعلق کیا حقیقت ہے، میں نے آپ کی کتاب میں اس سلسلے کے سوال جواب پڑھے ہیں، جو میں اس خط کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں، تاکہ آپ کو زحمت نہ ہو تلاش کرنے کی۔ اسی کے ساتھ میں ایک کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے ان صفحات کی کاپی بھی روانہ کر رہا ہوں، جن میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اِمام مہدی آئے اور چلے گئے، دونوں کو موازنہ کریں تو مجھ جیسے کم علم انسان کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس کو دُرست مانیں؟
آپ نے یقینا فرقۂ مہدویہ کے بارے میں سنا اور پڑھا ہوگا، ان کے عقیدے کے مطابق اہلِ سنت والجماعت کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اور بھی بہت سارے مسائل میں اِختلافات ہیں، اور سب سے بڑا تو یہی کہ سنی فرقے کے مطابق اِمام مہدی کا ظہور ابھی تک ہوا ہی نہیں ہے۔ میں آباؤ اجداد کے توسط سے اسی فرقے سے تعلق رکھتا ہوں، تاہم میں یہاں باجماعت نماز پڑھتا ہوں کیونکہ نماز میں دونوں فرقوں کا کوئی فرق نہیں ہے، لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ مجھے ہر نماز میں ۲۶ نمازوں کا مفت ثواب گنوانا چاہئے۔
آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ان دنوں کسی کو قائل کرنے کے لئے ٹھوس دلائل درکار ہیں، لہٰذا ایسا کچھ مواد میرے پاس ہو تو میں اپنے خاندان اور پھر آگے یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید اپنے فرقہ والوں کو بتاسکوں کہ حقیقت کیا ہے؟ آپ ملاحظہ کریں گے مذکورہ بالا ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے صفحات میں اِمام مہدی کی ولادت کے ثبوت میں قرآنی آیات کا حوالہ ہے۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ ایک اِنتہائی مصروف اِنسان ہیں، تاہم جب بھی آپ چند لمحات نکال سکیں تو ضرور میری مدد فرمائیے۔ آپ کی طرف سے کوئی جواب آئے تو میں اسے کتابِ مذکورہ کے مؤلف سے رابطہ کروں گا تاکہ ان کو قائل کیا جاسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
آپ کا مخلص: معین ہاشمی
جواب:۔
جناب محترم سیّد ولی معین ہاشمی صاحب زیدت عنایاتہم۔ بعد اَزسلامِ مسنون گزارش ہے کہ آنجناب کا گرامی نامہ موصول ہوا، جس میں آپ نے حضرت مہدیٔ آخرالزماں کے بارے میں اِستفسار فرمایا ہے، اور اس کے ساتھ میری کتاب ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ جلد اوّل کے فوٹو بھیجے ہیں، جن میں اِمام مہدی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ نیز فرقۂ مہدویہ کی کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے فوٹو بھی اِرسال فرمائے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ مہدیٔ آخرالزماں سیّد محمد جونپوری تھے، جو ربیع الاوّل ۸۴۷ھ میں جونپور میں پیدا ہوئے، اور ۶۳ سال کی عمر پاکر ۹۱۰ھ میں اِنتقال کرگئے۔
آنجناب دریافت فرماتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات صحیح ہے؟ فرقۂ مہدویہ کے مطابق مہدیٔ آخر الزمان آئے اور چلے گئے؟ یا ان کو کسی آئندہ زمانے میں آنا ہے؟
جواباً گزارش ہے کہ فرقۂ مہدویہ کو مہدیٔ آخرالزمان کی تعیین میں غلط فہمی ہوئی ہے، سیّد محمد جونپوری مہدیٔ آخرالزمان نہیں تھے۔ یہ موضوع بہت تفصیل چاہتا ہے، لیکن میں چند واضح باتیں عرض کردیتا ہوں، اگر کوئی عاقل وفہیم حق طلبی کے جذبے سے ان پر غور کرے گا تو اس پر حقیقتِ حال عیاں ہوجائے گی، اور اس سے پہلے دو باتیں بطورِ تمہید عرض کرنا چاہتا ہوں۔
اوّل:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے میں ایک خلیفۃ المسلمین کے ظہور کی پیش گوئی فرمائی، جس کو ’’الْإِمَامُ الْمَهْدِيُّ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے، جیسا کہ ان سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔
گزشتہ صدیوں میں بہت سے طالع آزماؤں نے اس پیش گوئی کا مصداق بننے کے لئے مسندِ مہدویت بچھائی، لیکن چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا مصداق نہیں تھے، اس لئے بالآخر بصد ناکامی پر دۂ عدم میں رُوپوش ہوگئے، ان مدعیانِ مہدویت کی ایک مختصر سی فہرست مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ کی کتاب ’’اَئمۂ تلبیس‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس قسم کے لوگوں میں کچھ تو عیار تھے، جن کا مقصد دامِ ہمرنگ زمین بچھاکر خلقِ خدا کو گمراہ کرنا تھا، اور کچھ لوگ پہلے بہت نیک تھے، ان کی نیکی وپارسائی کے حوالے سے شیطان نے ان کو دھوکا دِیا، اور انہوں نے اِلقائے شیطانی کو اِلہامِ رحمانی سمجھ لیا، اور غلط فہمی میں مہدیٔ آخرالزماں ہونے کا دعویٰ کردیا، ان کو مرتے وقت اپنی غلطی معلوم ہوگئی ہوگی، مگر افسوس کہ اِصلاح کا وقت گزر چکا تھا۔ بہرحال ایسے لوگ بھی اپنے زُہد وتقدس کے فریب میں مبتلا ہوکر بہت سے لوگوں کا اِیمان برباد کرکے چلتے بنے۔
ان برخود غلط مدعیانِ مہدویت ومسیحیت کے دعووں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُمت اِفتراق واِنتشار کا شکار ہوکر رہ گئی۔ کچھ تو ان مدعیوں کی ملمع کاری سے مسحور ہوگئے، اور ان کے دعوے کو زَرِخالص سمجھ کر نقدِ اِیمان ان کے ہاتھ فروخت کربیٹھے۔ کچھ جدید طبقے کے لوگوں کو ان جھوٹے مہدیوں کا طرزِ عمل دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی پر اِیمان نہ رہا، وہ ’’ظہورِ مہدی‘‘ کے عقیدے سے دستبردار ہوگئے، اور انہوں نے اس سلسلے کی تمام احادیث کو من گھڑت افسانہ قرار دے دیا۔ لیکن اُمتِ اِسلامیہ کا سوادِ اَعظم ۔۔۔اہلِ سنت والجماعت۔۔۔ جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود تھی، وہ نہ تو جھوٹے مدعیوں کی ملمع کاریوں پر فریفتہ ہوا، اور نہ چند جھوٹوں کے دعووں کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیش گوئی سے منکر ہوا۔
دوم:۔ کسی مدعیٔ مہدویت کے سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ صحیحہ کی کسوٹی پر پیش کرکے دیکھا جائے کہ مہدیٔ آخرالزماں کی علامات اس شخص میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو حق وباطل کا فیصلہ بڑی آسانی سے ہوسکتا ہے۔
مقامِ شکر ہے کہ فرقۂ مہدویہ کے حضرات بھی اسی معیارِ نبوی کو تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ جناب کی مرسلہ کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے صفحہ:۱۸۷ پر لکھتے ہیں:
’’آیاتِ قرآنی کے علاوہ اَحادیث کے معتبر کتب میں تواترِ معنوی کو پہنچی ہوئی حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے وجود اور آپ کے پیدا ہونے سے متعلق صدہا صحیح احادیث موجود ہیں۔
چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’مہدیٔ موعود کا پیدا ہونا ضروریاتِ دِین سے ہے‘‘ اور ’’تاوقتیکہ مہدی پیدا نہ ہو، قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ اور ’’ساری دُنیا ختم ہوکے اگر ایک بھی دن باقی رہے گا تو اس دن کو اللہ جل شانہ‘ دراز کرے گا تاآنکہ اس میں ایسے شخص کا ظہور ہوجائے تو جو میرے اہلِ بیت سے ہو اور میرا ہم نام ہو اور اس کے ماں باپ کے نام میرے ہی ماںباپ کے نام ہوں۔‘‘ (سنن ابوداؤد)
اور ’’کیونکر ہلاک ہوگی میری اُمت کہ میں اس کے اوّل ہوں، اور عیسیٰ اس کے آخر اور مہدی میرے اہلِ بیت سے اس کے وسط میں۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)
اور ’’مہدی خلیفۃ اللہ ہوں گے‘‘ اور ’’مہدیٔ موعود کا حکم خدا اور رسول کے حکم کے موافق ہوگا۔‘‘ اور ’’مہدی خطا نہیں کریں گے۔‘‘ ’’مہدی مجھ سے ہے میرے قدم بقدم چلے گا اور خطا نہ کرے گا۔‘‘ اور ’’مہدی کی ذات معصوم عن الخطا ہوگی وہ کبھی خطا نہیں کریں گے۔‘‘ (مصنف نے اس پیراگراف کی احادیث کے لئے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ ناقل)
اور ’’مہدی دافع ہلاکت ہوں گے‘‘ اور ’’تم مہدی سے بیعت کرو گو تم کو ان کے پاس برف پر سے ہوکر گزرنا پڑے۔‘‘ (ابنِ ماجہ)
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے مجیٔ کی خبر معجزے کے طور پر فرمائی ہے، جو مغیبات میں سے ہے، اور ان اُمور کا وقوع میں آنا اَشد ضروری ہے جن کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیبات کے طور پر فرمایا ہے۔‘‘ (چراغ دین نبوی ص:۱۸۷)
اس عبارت سے چند اُمور واضح ہوجاتے ہیں:
۱۔ حضرت مہدیؓ کے بارے میں جو اَحادیث وارِد ہوئی ہیں، وہ متواترِ معنوی ہیں۔
۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہورِ مہدی کی جو پیش گوئی فرمائی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دی۔
۳۔ اور وہ تمام اُمور جن کے ظہور کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی، ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔
۴۔ اگر کوئی واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کے مطابق وقوع میں نہ آئے تو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ معجزۂ نبوی باطل ہوجائے گا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ۔۔۔نَعُوْذُ بِاللهِ ثُمَّ نَعُوْذُ بِاللهِ۔۔۔ غلط ٹھہرے گی، جو قطعاً محال ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ جس طرح اہلِ سنت کے نزدیک مہدیٔ آخرالزماں کی خبر متواتر ہے، اسی طرح حضراتِ مہدویہ بھی اس کو متواتر مانتے ہیں، اور جس طرح اہلِ سنت کے نزدیک مہدیٔ آخرالزماں کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ہونا ضروری ہے، اسی طرح یہ بات فرقۂ مہدویہ کے نزدیک بھی ضروری ہے۔ اس تمہید کے بعد آئیے غور کریں کہ سیّد محمد جونپوری پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی صادق آتی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ کیا موصوف کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تھا یا نہیں؟
چونکہ آپ کی مرسلہ کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ میں فرقۂ مہدویہ کے نظریے کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اور اس کی منقولہ بالا عبارت میں حدیث کی تین کتابوں ۔۔۔ابوداؤد، مشکوٰۃ شریف اور ابنِ ماجہ۔۔۔ کا حوالہ دِیا گیا ہے، اس لئے مناسب ہوگا کہ ہم بحث کا دائرہ سمیٹنے کے لئے انہی کتابوں کے حوالے پر اِکتفا کریں۔

