بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

فرقۂ مہدویہ کا شرعی حکم

سوال:۔

میں مہدویہ فرقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئی، میری شادی ایک سنی شخص سے ہوئی، میرے سسرال والے جانتے تھے، اس کے باوجود نکاح ہوا۔ بعد میں ان لوگوں نے میرے والدین اور نانا کے جنازوں میں شرکت نہ کی۔ اسی طرح میری دو چھوٹی بہنوں کی شادیوں میں بھی شرکت نہ کی۔ دارالعلوم کراچی سے فتویٰ منگواکر میرا تجدیدِ نکاح کردیا گیا۔ میری چھوٹی بہنوں کی شادیاں مہدویوں میں ہوئی ہے۔ مولانا عبدالرشید نعمانی سے بالمشافہ گفتگو میں معلوم ہوا کہ یہ لوگ (فرقہ مہدویہ) ان معنوں میں کافر نہیں ہیں، اس لئے ان کو اِیصالِ ثواب کرسکتے ہیں۔ اس وقت سے اپنے بڑوں کو اِیصالِ ثواب کرنے لگی ہوں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ :

۱:۔مہدویوں کی سنیوں سے شادی جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ میرے نانا نے شروع سے ہم بہنوں کو اپنے فرقے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ بہشتی زیور، قرآن اور نماز کی تعلیم دی ہے۔

۲:۔کیا میں اپنے والدین، دادا، دادی اور نانا، نانی کو اِیصالِ ثواب کرسکتی ہوں؟

جواب:۔

جن لوگوں کے عقیدے اسلام کے عقیدوں کے مطابق نہیں، وہ مسلمان نہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ‘‘ اس لئے جو لوگ صحیح اسلامی عقائد نہیں رکھتے، ارکانِ پنج گانہ کے قائل نہیں، ان کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔(۱)

آپ ایسا کریں کہ قرآن مجید پڑھ کر اِیصالِ ثواب کریں تو یوں دُعا کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ کل مسلمان مردوں اور عورتوں کو اس کا ثواب عطا فرمائے، واللہ اعلم!

  1. (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدِّین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱)۔ من أنکر المتواتر فقد کفر۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۳۶۵، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔