بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

عیسائی بیوی کے بچے مسلمان ہوں گے یا عیسائی؟

سوال:۔

اگر کوئی مسلمان آدمی کسی عیسائی مذہب کی عورت سے محبت کرتا ہو اور پھر وہ اس عورت کے مذہب کا ہوکر شادی کرے اور جب شادی کے بعد بچے ہوں تو آدھے مسلمان اور آدھے عیسائی یعنی وہ عورت شادی سے پہلے کہہ دیتی ہے کہ دو بچے عیسائی ہوں گے اور دو بچے مسلمان۔ اب اس کے دو بچے عیسائی ہیں اور دو مسلمان۔ یعنی ایک لڑکا اور ایک لڑکی عیسائی اور ایک لڑکا اور ایک لڑکی مسلمان۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ یہ کہاں تک صحیح ہے کہ ایک ہی گھر میں دو بچے مسلمان اور دو بچے کافر ہوں؟ اور وہ آدمی اب شادی کے اتنے عرصہ بعد کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، یہ کہاں تک دُرست ہے کہ ایسی شادیاں ہوجاتی ہیں اور ان کی اولاد کہاں تک عیسائی اور کہاں تک مسلمان ہے؟

جواب:۔

اگر کسی مسلمان نے اہلِ کتاب سے شادی کی اور اس سے اولاد پیدا ہو تو وہ مسلمان ہوگی، (۱)یہ شرط کرنا کہ آدھی مسلمان ہوگی اور آدھی کافر، قطعاً غلط ہے۔ اور ایسی شرط کرنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے،(۲) کیونکہ اولاد کے کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے،(۳) اور اگر ایسی شرط نہ رکھی تب بھی اگر اولاد کے کافر ہوجانے کا خطرہ ہو تو عیسائی عورت سے شادی کرنا گناہ ہے۔(۴)

  1. (۱) والولد یتبع خیر الأبوین دینًا ۔۔۔ فانہ باسلام احدھما یصیر الولد مسلمًا۔ (فتاویٰ شامی ج:۳ ص:۱۹۶)۔
  2. (۲) ومن أضمر الکفر أو ھمّ بہ فھو کافر ۔۔۔ من عزم علٰی أن یأمر غیرہ بالکفر کان بعزمہ کافرًا ۔۔۔ وقد عثرنا علٰی روایۃ أبی حنیفۃ أن الرضا بکفر الغیر کفر من غیر تفصیل۔ وفی کتاب ’’التخبیر عن کلمات التکفیر‘‘ ان رضی یکفر غیرہ لیعذب علی الخلود لَا یکفر، وان رضی بکفرہ لیقول فی اللہ ما لَا یلیق بصفاتہ یکفر وعلیہ الفتویٰ۔ (فتاویٰ تاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۱۳)۔
  3. (۳) والرضاء بالکفر، کفر۔ (قاضی خان علیٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۷۳)۔
  4. (۴) ففی الفتح: ویجوز تزوّج الکتابیات، والأوْلٰی أن لَا یفعل ۔۔۔ فقولہ والأوْلٰی أن لَا یفعل یفید کراھۃ التنزیھیۃ فی غیر الحربیۃ، وما بعدہٗ یفید کراھۃ التحریم فی الحربیۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۳ ص:۴۵ کتاب النکاح فصل فی المحرمات)۔