غلط عقائد رکھنے والے فرقے
مودودی کو گمراہ کہنے والے جی ایم سیّد کے بارے میں کیوں خاموش ہیں؟
سوال:۔
مولانا صاحب! میں نے ایک معافی نامہ لکھا، مگر آپ نے اس کو طنز بنایا، آخر کیوں؟ میں نے ایک کتاب ’’مودودی صاحب اور ان کی تحریرات کے متعلق چند اہم مضامین‘‘ تعجب ہے کہ آپ لوگوں نے تو مولانا مودودی کے لئے کفر کا فتویٰ صادر کردیا، مگر سندھ میں جی ایم سیّد بیٹھا ہے، اس نے لکھا ہے کہ نعوذ باللہ کہ: ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) عرب کا چالاک ترین انسان تھا، اس نے اپنی چالاکی سے کام لے کر معصوم عربوں کو اپنی مٹھی میں بند کرلیا‘‘ اور یہ کہا کہ: ’’مذہب، قیامت، حساب و کتاب نہیں ہے، انسان پیدا ہوا ہے، مرجائے گا، اور جب اس کے اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں یا کوئی حادثہ ہوجائے تو آدمی مرجاتا ہے‘‘ انسان کا ناتا بندر سے جوڑتا ہے۔ کیا ایسا شخص مسلمان کہلاتا ہے؟ مگر صد حیف! کہ آپ لوگوں نے اس کے نظریات کے بابت کوئی تنقید نہیں کی، میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ آپ کی جماعت کو اس سے کوئی خطرہ نہیں، ظاہر ہے وہ حکومت میں نہیں آسکتا، لیکن مودودی مرحوم کی چونکہ ایک منظم تحریک ہے، اور وہ بالکل سیدھے راستے پر جارہی ہے، اور اِقامتِ دِین کی کوشش کر رہی ہے، اس لئے آپ نے ہر دور میں سخت نقصان پہنچایا، گزارش ہے کہ جی ایم سیّد کے بارے میں اس پر کچھ روشنی ڈالئے، مشکور ہوں گا۔
جواب:۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے، مودودی صاحب کو کافر تو نہیں کہا گیا، البتہ ان کے غلط نظریات کی تردید ضرور کی گئی ہے۔
جی ایم سیّد کے نظریات اس کے حلقے تک محدود ہیں، اس کی تردید کے معنی عام لوگوں میں اس کا تعارف کرانے کے ہوں گے! خدانخواستہ اس کے نظریات بھی مودودی صاحب کی طرح پھیلنے لگیں تو ان کی تردید اس سے بڑھ کر کرنی پڑے گی۔(۱)
یہ جناب کا حسنِ ظن ہے کہ ’’ہماری جماعت‘‘ کو فلاں سے خطرہ ہے، اس لئے اس کی تردید کرتے ہیں، فلاں سے نہیں، اس لئے اس کے درپے نہیں ہوتے۔ اختلاف الگ چیز ہے، مگر مجھے توقع نہ تھی کہ آپ علمائے اُمت کے بارے میں ایسے پاکیزہ خیالات رکھتے ہیں۔ دُعا کے سوا اور کیا عرض کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اہلِ حق سے وابستہ کرے، اور دُنیا و آخرت میں اپنے نیک بندوں کا ساتھ نصیب فرمائے۔ میرے خیال میں ہم اب بے کار مشغلے میں مبتلا ہوگئے ہیں، اس لئے اس کو ترک کردیا جائے۔
- (۱) مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: جی ایم سیّد کے ملحدانہ نظریات، ص: ۱۷۹، گمراہ کن عقائد و نظریات ، طبع مکتبہ لدھیانوی۔

