غلط عقائد رکھنے والے فرقے
پاکستان کے علماء مودودی کے مخالف کیوں ہیں؟ نیز مودودی کی کتب کے حوالے کیوں نہیں ملتے؟
سوال:۔
مودودیت کے بارے میں علمائے کرام کے اور بھی بے شمار رسائل پڑھ چکا ہوں، واقعی مودودیت نہیں بلکہ یہودیت، مردودیت تو لائق اسی کے ہے۔ میرے یہاں چند دوست ذی فہم لیکچرار ودِینیات کے پروفیسر و ڈاکٹر وغیرہ کچھ مودودیت کی حمایت میں ہیں، اس لئے کہ انہوں نے مودودیت کی کتابیں پڑھی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کبھی نہ کبھی مودودیت پر اچھی خاصی بحث ہوجاتی ہے، یہ حضرات عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ علمائے کرام جو مودودی کی عبارات پر تنقید کرکے نام اور رسالہ صفحہ نمبر دیتے ہیں، ہم نے وہی رسالہ مودودی کا اُٹھایا یا وہی صفحہ دیکھا لیکن وہ تنقیدی عبارت نظر نہیں آئی۔
ایک لیکچرار صاحب نے مولانا مفتی محمد شفیع کا بحوالہ ’’معارف القرآن‘‘ کہا کہ معارف القرآن میں مودودیت پر جو تنقید درج تھی، مودودی کا وہی رسالہ وہی صفحہ دیکھا لیکن وہ تنقیدی عبارت اس میں نہیں تھی، ساتھ ہی یہ بھی بے لاگ کہہ دیتے ہیں کہ علمائے کرام کی مودودی سے ذاتی رنجش ہے، ناحق بہتان لگا رہے ہیں۔ میں ناچیز گناہگار تو اس اَمر کو بالکل تسلیم نہیں کرسکتا کہ ایسے علمائے حق کسی دُوسرے عالم پر خواہ وہ جیسا بھی ہو، یہ ناحق بہتان باندھتے رہیں، بلکہ جہاں تک اس ناکارہ کا مطالعہ ہے تو تقریباً پاکستان کے پچانوے فیصد علمائے کرام مودودی پر کفر و گمراہی کا فتویٰ دے چکے ہیں۔ ان حضرات کو کیا جواب دیا جائے؟ آیا مودودی آئندہ دُوسری طباعت میں اس عبارت کو حذف کردیتا ہے، یا چھاپے خانوں کی اپنی اپنی چھپائی کی وجہ سے صفحات آگے پیچھے ہوجاتے ہیں؟
نیز کچھ حضرات یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر مولانا مودودی ایسا ویسا گمراہ، غلط کار ہوتا تو ملکِ عرب خصوصاً حجاز میں اس کی عزّت نہ ہوتی، وہ سب اس کو بہت بڑا صحیح عالم تصوّر کرتے ہیں، لیکن پاکستان والے نہ سمجھے۔ ’’فتنۂ مودودیت‘‘ تو مشہور ہے، ہمارے پاس موجود ہے، کئی صاحبان سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ آخر پاکستان میں کئی بڑے بڑے عالم مودودی کی حمایت میں ہیں، آخر یہ بھی تو عالم ہیں، ان کو مودودیت کی غلطی نظر کیوں نہیں آتی؟ مذکورہ بالا اِعتراضات کا ان کو کیا جواب دیا جائے؟ اُمید ہے کہ تسلی کرائیں گے۔
جواب:۔
مودودی صاحب کی کتابوں کے صفحے نہ ملنا اس وجہ سے بھی ہوسکتا ہے کہ کتابیں نئی چھپتی ہیں تو ان میں صفحات بدل جاتے ہیں، اور بعض اوقات عبارتیں بھی بدل دی جاتی ہیں۔ جناب مودودی صاحب سے علماء کو ذاتی رنجش نہیں، اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو اس کو جواب دینے کی ضرورت نہیں، کل قیامت میں حقیقت کھل جائے گی۔ اہلِ حجاز اگر مودودی صاحب کے معتقد ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ موصوف کی زیادہ تر کتابیں اُردو میں ہیں۔ بہرحال اگر کوئی بات غلط ہو تو بقول مودودی صاحب کے ’’اس کو غلط ہی کہا جائے گا‘‘۔

