غلط عقائد رکھنے والے فرقے
شیعہ کو حدودِ حرم میں داخلے سے منع کرنا سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے
سوال:۔
ایک دو ماہ قبل شیعہ رافضی، خمینی، پیروکاروں کے لئے ’’الفرقان‘‘ لکھنؤ، ’’بینات‘‘ و ’’اقرأ ڈائجسٹ‘‘ کراچی اور ’’المسلمون‘‘ سعودی عرب کے شماروں میں متعدّد ممالک کے مفتیانِ کرام نے کفر کے فتوے صادر فرمائے، عالمِ اسلام کے شیخ الاسلام اور مفتیٔ اعظم سعودی عرب جناب الشیخ عبدالعزیز بن باز نے خمینی کے خارج از اسلام اور مرتد ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا۔ اور اس فتوے کی تائید رابطہ عالمِ اسلامی کے عالمی اجلاس منعقدہ اکتوبر ۱۹۸۷ء نے بھی کردی (بحوالہ ’’المسلمون‘‘ مکہ مکرّمہ)۔ قرآن و احادیثِ مبارکہ کے فرمان کے مطابق کسی کافر، مشرک، مرتد کو حدودِ حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، جبکہ شیعہ ذُرّیت اس سال پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر حج کے بہانے حدودِ حرم میں داخل ہوکر اپنے کمینے پن کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، جبکہ عالمِ اسلام پر شیعہ ذُرّیت کے کفر و گندے عزائم کھل چکے ہیں۔ پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ اب شیعہ لوگ کسی بہانے حدودِ حرم میں داخل ہوجائیں تو اس شدید گستاخی کے معاونین میں سے کس کو بڑا مجرم گردانا جائے گا؟ (الف) اس مسلم ملک کے سربراہ کو جس نے حج و عمرہ یا کسی بہانے شیعوں کو اپنے ملک سے مکہ مکرّمہ جانے کی اجازت دی؟ (ب) سعودی عرب کی حکومت و انتظامیہ کو جس نے حدودِ حرم میں شیعوں کو داخل ہونے کی اجازت دی؟ (ج) اس مسلم ملک کے عوام کو جو شیعہ کے کفر و گندے ارادوں سے باخبر ہوکر بھی اپنے ملک کے سربراہ کو مجبور کرکے شیعہ کافر لوگوں پر مکہ مکرّمہ جانے پر پابندی نہ لگوائیں؟ نیز جو مسلمان حکومت شیعوں کو حج پر جانے کی اجازت دے گی جبکہ کافروں کا نہ حج مقبول، نہ حدودِ حرم میں داخل ہونے کی اجازت، تو کیا وہ حکومت یہ عذر پیش کرکے کہ ملک کے قانون میں کوئی دفعہ ایسی نہیں جس کی گرفت سے ہم شیعوں کو حج سے روک سکیں، کیا شریعتِ مطہرہ اس حکومت کا یہ عذر قبول کرے گی؟ جو لوگ شیعوں کے کفر و ناپاک عزائم سے آگاہ ہوکر بھی ان کو کافر نہ سمجھیں یا علی الاعلان نہ کہہ دیں، غیرتِ اسلام ان بزدلوں کو کس نام سے پکارتی ہے؟
جواب:۔
شیعوں کے بہت سے کفریہ عقیدے ہیں، مثلاً: وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں، کلمۂ اسلام میں ’’عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلِ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَا فَصْلٍ‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں، جس کی کوئی اصل نہیں۔ کلمہ شریف صرف ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ہے، اور بعد کے الفاظ بے اصل ہیں، اور ان بعد کے الفاظ کو مدارِ ایمان قرار دینا سخت ترین گناہ ہے۔ اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے ہیں، جن کی براء ت سورۂ نور میں آئی ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں، بلکہ تمام صحابہ کرامؓ کو کافر و مرتد کہتے ہیں۔ جبکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کے ایمان کی شہادت دی ہے اور ان سے راضی ہونے کا اعلان فرمایا ہے، رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تو قرآن پاک میں حضور علیہ السلام کا خاص صحابی قرار دیا ہے: ﵟ إِذۡ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحۡزَنۡ ﵞ اس لئے یہ شیعہ قطعی طور پر کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں،(۱) ان کا داخلہ حدودِ حرم میں بند کرنا حکومتِ سعودیہ کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ لوگ حج کی غرض سے بھی نہیں بلکہ دُوسرے مسلمانوں کا حج ہلڑبازی کرکے خراب کرنے کی غرض سے حجازِ مقدس جاتے ہیں، اور فسادی کا داخلہ کعبہ شریف بلکہ مسجدوں تک سے بند کرنا جائز ہے۔ ہر مسلمان حکومت اور علماء و عوام سب کی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ذمہ داری ہے کہ ان کا حدودِ حرم میں داخلہ بند کریں اور کرائیں۔ ورنہ سب درجہ بدرجہ گناہگار ہوں گے۔(۲)
- (۱) الرافضی اذا کان یسب الشیخین ویلعنھما ۔۔۔العیاذ باللہ۔۔۔ فھو کافر ۔۔۔۔۔۔ وھٰؤلَاء القوم خارجون عن ملّۃ الْإسلام وأحکامھم أحکام المرتدین۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۴ طبع بلوچستان بک ڈپو، کوئٹہ)۔
- (۲) وقولہ:ﵟ أُوْلَٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمۡ أَن يَدۡخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ﵞ، یدل علٰی ان علی المسلمین إخراجھم منھا إذا دخلوھا لو لَا ذٰلک ما کانوا خائفین بدخلوھا والوجہ الثانی قولہ ﵟ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآ ﵞوذٰلک یکون أیضًا من وجھین: احدھما ان یخربھا بیدہ والثانی إعتقادہ وجوب تخریبھا لأن دیاناتھم تقتضی ذٰلک وتوجیہ ثم عطف علیہ قولہﵟ أُوْلَٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمۡ أَن يَدۡخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ﵞوذٰلک یدل علٰی منعھم منھا علٰی ما بینا۔ (أحکام القرآن للجصَّاص ج:۱ ص:۶۱ طبع سہیل اکیڈمی)۔ أن قولہﵟ مَا كَانَ لَهُمۡ أَن يَدۡخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ﵞوإن کان لفظہ لفظ الخبر لٰـکن المراد منہ النھی عن تمکینھم من الدخول۔ (التفسیر الکبیر ج:۴ ص:۱۱ طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔

