بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

جماعت المسلمین والوں سے رشتہ ناتہ؟

سوال:۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بھانجی کا رشتہ جو کہ مسلمان ہے (دیوبندی) ’’جماعت المسلمین‘‘ کے ایک لڑکے کو دے دیا ہے، وہ لڑکا میرا سالہ ہے، اُس کا باپ میرا چچازاد بھائی ہے، وہ بھی ’’جماعت المسلمین‘‘ سے تعلق رکھتا ہے، اُن کے باقی گھر والے ہماری طرح مسلمان ہیں۔ گاؤں کے لوگ اس منگنی پر مخالفت کرتے ہیں، یہاں تک کہ ہمارے اِمامِ مسجد بھی دبی آواز میں مخالفت کرتے ہیں، اور باقی لوگوں کی وجہ سے نکاح پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ہم نے مولوی صاحب سے کہا ہے کہ آپ فتویٰ دیں کہ ’’جماعت المسلمین‘‘ والے غیرمسلم ہیں، اگر واقعی وہ غیرمسلم ہیں تو ہم ’’جماعت المسلمین‘‘ والوں کو رشتہ نہیں دیں گے۔ لیکن مولوی صاحب کہتے ہیں کہ: ہم ان کو غیرمسلم نہیں کہہ سکتے۔ پھر بھی مولوی صاحب نکاح پڑھنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، اور ہمیں کہتے ہیں کہ رشتہ دینے سے انکار کردیں۔

مذکورہ بالا حالات میں ہم کس طرح انکار کرسکتے ہیں؟ اس کے لئے ہمیں شرعی جواز درکار ہے۔ آپ سے اِستدعا ہے کہ آپ واضح فتویٰ دیں کہ آیا ’’جماعت المسلمین‘‘ کے لڑکے سے نکاح مسلمان لڑکی کا ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اُمید ہے کہ آپ جلد اس سلسلے میں ہماری راہنمائی فرمائیں گے، شکریہ۔

جواب:۔

’’جماعت المسلمین‘‘ والے تو غیرمسلم نہیں، لیکن آپ کو، مجھ کو اور تمام مسلمانوں کو کافر اور ’’غیرمسلمین‘‘ کہتے ہیں۔ قیامت کے دن اگر اللہ تعالیٰ نے یہ پوچھ لیا کہ ایسے لوگوں میں کیوں رشتہ کیا تھا؟ تو کیا جواب ہوگا۔۔۔؟