بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’مشکل کشا‘‘ کہنا

سوال:۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’مشکل کشا‘‘ کہنا جائز ہے؟

جواب:۔

’’مشکل کشا‘‘ کا لفظ جس معنی و مفہوم میں آج کل استعمال ہوتا ہے، وہ تو قطعاً جائز نہیں۔ لیکن ’’حل مشکلاتِ بخاری‘‘، ’’حل مشکلاتِ قرآن‘‘، ’’حل مشکلاتِ حدیث‘‘، ’’حل مشکلاتِ فقہ‘‘ وغیرہ وغیرہ کے الفاظ علمائے اُمت کے زبان زد ہیں۔ اور مسائلِ مشکلہ کے حل کرنے کے خاص ملکہ کی وجہ سے کسی نے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو ’’مشکل کشا‘‘ یعنی مشکل مسائل کی گرہ کشائی کرنے والے، کہا ہو تو اس میں کوئی اِشکال نہیں۔ اب روایت تو یاد نہیں، کہیں شاید پڑھا تھا کہ ’’حل عویصات‘‘ کا یہ لقب حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔

بہرحال اگر کسی خوش عقیدہ عالم یا بزرگ نے یہ لقب استعمال کیا ہو تو اس کا یہی مفہوم ہے، اور عوام کالاَنعام اگر استعمال کریں تو ان کی اور بات ہے۔