بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

شیعوں کے تقیہ کی تفصیل

سوال:۔

شیعوں کی یہاں تقیہ کی کیا صورت ہے؟ شیعہ ایک مثال دیتے ہیں کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے بادشاہِ وقت کے خلاف فتویٰ دیا، جب ان کو لوگ گرفتار کرنے کے لئے آئے تو وہ مسجد میں عبادت کر رہے تھے، جب ان سے پوچھا گیا تو دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا کہ: ابھی یہاں تھے! یہ واقعہ میں نے اپنے کسی مولوی صاحب سے سنا ہے، شیعہ اس کو سنی حضرات کا تقیہ کہتے ہیں، لہٰذا آپ بتائیں کہ تقیہ کس کو کہتے ہیں؟

جواب:۔

شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کا جو واقعہ آپ نے لکھا، اس کی تو مجھے تحقیق نہیں، البتہ اسی قسم کا واقعہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانیٔ دارالعلوم دیوبند کا ہے، اور یہ تقیہ نہیں ’’توریہ‘‘ کہلاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا فقرہ کہا جائے کہ مخاطب اس کا مطلب کچھ اور سمجھے اور متکلم کی مراد دُوسری ہو، بوقتِ ضرورت جھوٹ سے بچنے کے لئے اس کی اجازت ہے۔(۱)

رہا شیعوں کا تقیہ! وہ یہ ہے کہ اپنے عقائد کو چھپایا جائے اور عقائد و اعمال میں بظاہر اہلِ سنت کی موافقت کی جائے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ۳۰ برس تک اہلِ سنت کے دِین پر عمل کرتے رہے اور انہوں نے شیعہ دِین کے کسی مسئلے پر بھی کبھی عمل نہیں فرمایا، یہی حال ان باقی حضرات کا رہا جن کو شیعہ اَئمہ معصومین مانتے ہیں، تقیہ کی ایجاد کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ شیعوں پر یہ بھاری الزام تھا کہ اگر حضرت علیؓ اور ان کے بعد کے وہ حضرات جن کو شیعہ اَئمہ معصومین کہتے ہیں (رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِيْنَ) ان کے عقائد وہی تھے جو شیعہ پیش کرتے تھے تو یہ حضرات، مسلمانوں کے ساتھ شیر و شکر کیوں رہے؟ اور سوادِ اعظم اہلِ سنت کے عقائد و اعمال کی موافقت کیوں کرتے رہے؟ شیعوں نے اس الزام کو اپنے سر سے اُتارنے کے لئے ’’تقیہ‘‘ اور ’’کتمان‘‘ کا نظریہ ایجاد کیا۔ مطلب یہ کہ یہ حضرات اگرچہ ظاہر میں سوادِ اعظم (صحابہؓ وتابعینؒ اور تبع تابعینؒ) کے ساتھ تھے، لیکن یہ سب کچھ ’’تقیہ‘‘ کے طور پر تھا، ورنہ درپردہ ان کے عقائد عام مسلمانوں کے نہیں تھے، بلکہ وہ شیعی عقائد رکھتے تھے اور خفیہ خفیہ ان کی تعلیم بھی دیتے تھے، مگر اہلِ سنت کے خوف سے وہ ان عقائد کا برملا اظہار نہیں کرتے تھے۔ ظاہر میں ان کی نمازیں خلفائے راشدین (اور بعد کے اَئمہ) کی اقتدا میں ہوتی تھیں، لیکن تنہائی میں جاکر ان پر تبرا بولتے تھے، ان پر لعنت کرتے تھے، اور ان کو ظالم و غاصب اور کافر و مرتد کہتے تھے، پس کافروں اور مرتدوں کے پیچھے نماز پڑھنا بربنائے ’’تقیہ‘‘ تھا، جس پر یہ اکابر اَبًا عَنْ جَدٍ عمل پیرا تھے۔

یہ ہے شیعوں کے ’’تقیہ‘‘ اور ’’کتمان‘‘ کا خلاصہ۔ ہم اس طرزِ عمل کو نفاق سمجھتے ہیں، جس کا نام شیعہ نے تقیہ رکھ چھوڑا ہے، ہم ان اکابر کو ’’تقیہ‘‘ کی تہمت سے بَری سمجھتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ان اکابر کی پوری زندگی اہلِ سنت کے مطابق تھی، وہ اسی کے داعی بھی تھے، شیعہ مذہب پر ان اکابر نے ایک دن بھی عمل نہیں کیا۔(۲)

  1. (۱) قوله ويورى، التورية أن يظهر خلاف ما أضمر في قلبه... اتقاني قال في العناية: فجاز أن يراد بها هنا اطمئنان القلب وأن يراد الاتيان بلفظ يحتمل معنيين۔(فتاوى شامی ج ۶ ص : ۱۳۴ ، مطلب بيع المكره فاسد...الخ).
  2. (۲) تفصیل کیلئے حضرت شہیدؒ کی کتاب ’’شیعہ سنی اختلاف‘‘ دیکھئے۔