غلط عقائد رکھنے والے فرقے
’’بھائی، بھائی‘‘ کہلانے والے پانچ نمازوں کے منکرین کا شرعی حکم
سوال:۔
ہمارے ضلع بدین میں ایک شہر ٹنڈو غلام علی کے نزدیک گاؤں حاجی محب علی لغاری ہے، ہمارے گاؤں میں بھیل ہندو مذہب کے لوگ رہتے ہیں، یہ لوگ اپنا مذہب تبدیل کرکے اپنے آپ کو ’’بھائی، بھائی‘‘ یا ’’اشرفی‘‘ کہلواتے ہیں، مسلمانوں سے ملتے ہیں تو مسلمان کہلواتے ہیں، وہ ہر ایک مذہب کے آدمی سے کھاتے پیتے ہیں اور اپنے مذہب کی تبلیغ دُوسرے مذہب کے ہندوؤں میں کرتے ہیں، اور کوئی مسلمان ملتا ہے، اسے طرح طرح کی پیشکش کرتے ہیں۔
مثلاً: کہ ہمارے مذہب میں نماز کا ایک وقت، تمہارے مذہب میں پانچ وقت ہے۔ انہوں نے ایک مسلمان سے کہا: تم ہمارے ساتھ اِنڈیا چلو! اس نے پوچھا: کیسے؟ اس نے کہا: پاسپورٹ اور دُوسرے کاغذات میں تم لکھوانا کہ میں بھائی بھائی یا اشرفی ہوں، بس اتنا لکھوانا، رہوگے تم مسلمان، بس ہم گھوم کے آئیں گے۔ وہ آدمی تو کچھ پڑھا لکھا آدمی تھا اور جمعہ کی نماز پڑھتا تھا، اللہ کے کرم سے اس نے اس ہندو کو بھگادیا، اس نے ہم لوگوں سے بات کی، ہم نے کہا: بھئی تو تو خدا کا شکر ادا کر کہ اس کافر کی چال سے بچ گیا۔
جواب:۔
جب وہ خود مانتے ہیں کہ مسلمانوں کے دِین میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے، اور ان کے دِین میں صرف ایک وقت کی نماز، تو گویا وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں۔ باقی رہا یہ کہ وہ کون لوگ ہیں؟ یہ بات آپ کی تحریر سے واضح نہیں ہوئی۔(۱)
- (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدِّین۔ (اکفار الملحدین ص:۱۲۱ وایضًا فی اکفار الملحدین ص:۲، ۳)۔

