بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

ذکری فرقے کے عقائد

سوال:۔

ذکری فرقہ اور اس کے عقائد کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔

جواب:۔

ذکری فرقہ جس کے افراد بلوچستان کے علاوہ کراچی میں بھی پائے جاتے ہیں اور جو ملا محمد اٹکی کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے، اس فرقے کے بارے میں عام لوگوں کو، بلکہ خود اس فرقے کے لوگوں کو بھی معلومات بہت کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فرقے کی مذہبی کتابیں مخطوطوں کی شکل میں ہیں اور وہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ چونکہ اس فرقے کے لوگ اپنا تعارف ’’مسلمان‘‘ کی حیثیت سے کراتے ہیں، اس لئے بعض لوگ ناواقفی کی وجہ سے ان کو مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھ لیتے ہیں۔

جناب مولانا احتشام الحق آسیاآبادی بلوچستان کے ایک محقق عالم ہیں، موصوف نے برسہا برس تک اس فرقے کے بارے میں تحقیق کی اور اس فرقے کے مذہبی پیشواؤں کا قلمی لٹریچر فراہم کیا، جس کی روشنی میں انہوں نے ایک مفصل اِستفتاء مرتب فرمایا ہے، یہ اِستفتاء تمام تر ذکری لٹریچر کے حوالوں پر مشتمل ہے جس کے مطالعے سے واضح ہوجاتا ہے کہ:

۱:۔ ذکری فرقہ مُلّا محمد اٹکی کو مہدی معہود سمجھتا ہے۔

۲:۔ یہ فرقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتا، بلکہ مُلّا محمد اٹکی کو خاتم النبیین سمجھتا ہے۔

۳:۔ اس فرقے کے نزدیک مُلّا محمد اٹکی نورِ خدا ہے، رسول و نبی ہے، سیّدالمرسلین ہے اور تمام انبیائے کرام اور ملائکہ عظام مُلّا محمد اٹکی کے خدام ہیں۔

۴:۔ یہ فرقہ شریعتِ محمدیہ کو منسوخ سمجھتا ہے، یہ لوگ اسلام کے اہم ترین رکن نماز کی ادائیگی کو کفر سمجھتے ہیں اور نماز پڑھنے والوں کو ’’چوتڑ اُٹھانے والے‘‘ کہہ کر ان کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ یہ لوگ روزۂ رمضان کے منکر ہیں، اس کے بجائے انہوں نے مختلف اوقات کے روزے تجویز کر رکھے ہیں۔ شرعی زکوٰۃ کا اِنکار کرتے ہیں، اس کے بجائے کم سے کم دس فیصد اپنے مذہبی پیشواؤں کو ٹیکس دیتے ہیں۔ حجِ اسلام کے منکر ہیں، اس کے بجائے تربت (بلوچستان) میں واقع کوہِ مراد کا حج کرتے ہیں اور یہی ان کے نزدیک ’’مقامِ محمود‘‘ ہے۔

۵:۔ ذکریوں کے بقول قرآنِ کریم کے چالیس اجزاء تھے اور مُلّا محمد اٹکی کو یہ اِختیار دیا گیا کہ ان چالیس اجزاء میں سے جو چاہیں اپنے لئے انتخاب کرلیں، چنانچہ مُلّا محمد اٹکی نے ان میں سے دس اجزاء اپنے لئے منتخب کرلئے جو اسرارِ خداوندی پر مشتمل تھے، باقی اہلِ ظاہر کے لئے چھوڑ دئیے، اس موقع پر یہ شعر بھی نقل کیا ہے:

من ز قرآن مغز را برداشتم

استخوان بہ پیش سگاں بگذاشتم

(میں نے قرآن کا مغز لے لیا اور ہڈیاں کتوں کے آگے چھوڑ دیں)

۶:۔ اس فرقے کے نزیک ’’مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ‘‘ سے مراد مُلّا محمد اٹکی ہے، (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ’’احمد‘‘ تھا، ’’محمد‘‘ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ مُلّا محمد اٹکی ہے)۔

۷:۔ یہ فرقہ تمام مسلمانوں کو جو مُلّا محمد اٹکی کو نہیں مانتے، کافر قرار دیتا ہے۔

یہ تمام عقائد اس اِستفتاء میں باحوالہ درج کئے گئے ہیں، مولانا موصوف نے اپنے اِستفتاء میں ذکریوں کے یہ تمام عقائد باحوالہ درج کرکے علمائے اُمت سے اِستفتاء کیا ہے کہ:

۱:۔ جو فرقہ اور جو فرد ایسے عقائد رکھتا ہو کیا وہ مسلمان ہے یا نہیں؟

۲:۔ آیا ان سے رشتہ کرنا دُرست ہے یا نہیں؟

۳:۔ اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟

راقم الحروف نے اس اِستفتاء کے جواب میں قرآنِ کریم، احادیثِ نبوی اور اکابرِ اُمت کے فیصلوں کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ:

۱:۔ ایسے عقائد رکھنے والے لوگ قطعاً مسلمان نہیں، بلکہ ان کا حکم مرتدین کا ہے۔

۲:۔ کسی مسلمان کا ان کے ساتھ رشتہ ناتا جائز نہیں۔

۳:۔ ان کا ذبیحہ حلال نہیں، بلکہ مردار ہے۔

ذکری مذہب کے عقائد کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ عجیب انکشاف ہوا کہ ذکری مذہب اور قادیانی مذہب کے درمیان حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے، اتنی شدید مشابہت کہ گویا قادیانیت، ذکری مذہب کا نیا ایڈیشن یا اس کا چربہ ہے۔ ان دونوں کے درمیان مشابہت کی تفصیلات ایک مستقل رسالے کا موضوع ہے، حق تعالیٰ شانہ‘ کو منظور ہوا تو اس موضوع پر مفصل لکھا جائے گا، سرِدست ان دونوں کے درمیان مشابہت کا ایک اِجمالی خاکہ پیشِ خدمت ہے:

۱:۔ ذکری مذہب مُلّا محمد اٹکی کو مہدیٔ آخر الزمان مانتا ہے، اور قادیانی مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدیٔ معہود اور مہدیٔ آخرالزمان قرار دیتا ہے۔

۲:۔ ذکری مذہب مُلّا محمد اٹکی کو اللہ تعالیٰ کا نور و ظہور مانتا ہے، اور قادیانی مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کو خدا کا نور و ظہور مانتا ہے، چنانچہ مرزا قادیانی کا ایک اِلہامی نام ’’نوراللہ‘‘ ہے۔ (تذکرہ ص:۱۴۲) نیز مرزا قادیانی کا ایک اِلہام ہے: ’’ظہورک ظہوری‘‘ (تیرا ظہور میرا ظہور ہے) (تذکرہ ص:۷۰۰)۔

۳:۔ ذکری مذہب مُلّا محمد اٹکی کو تمام رسولوں سے افضل مانتا ہے، اور قادیانی مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعوے پر اِیمان رکھتا ہے:

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

من بعرفان نہ کمترم زکسے

آنچہ داد است ہر نبی را جام

داد آں جام را مرا بہ تمام

زندہ شد ہر نبی بآمدنم

ہر رسولے نہاں بہ پیر ہنم

ترجمہ:۔ ’’نبی اگرچہ بہت ہوئے ہیں، مگر میں معرفتِ الٰہی میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔

جو جام کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو دیا ہے، وہ پورے کا پورا مجھے دے دیا ہے۔

میرے آنے سے ہر نبی زندہ ہوگیا، ہر رسول میرے کرتے میں پوشیدہ ہے۔‘‘

۴:۔ ذکریوں کا عقیدہ ہے کہ قرآنِ کریم کے چالیس پارے تھے، جن میں سے دس پارے مُلّا محمد اٹکی کے ساتھ مخصوص کردئیے گئے، اور قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی نے دس پاروں کا نہیں بلکہ بیس پاروں کا قرآنی وحی پر اِضافہ کیا ہے، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱)

۵:۔ ذکری مذہب کے عقیدے میں نجات صرف مُلَّا محمد اٹکی کی پیروی میں ہے، اور قادیانی عقیدہ ہے کہ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی مدارِ نجات ہے۔

۶:۔ ذکری لوگ مُلّا محمد اٹکی کے نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، اور قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں، قادیانیوں کا خلیفۂ دوم مرزا محمود لکھتا ہے:

’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینۂ صداقت ص:۳۵)

مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

۷:۔ ذکریوں کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین منسوخ ہے، اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر دِینِ اسلام لعنتی، شیطان، قابلِ نفرت اور مردہ ہے (ضمیمہ براہین احمدیہ ص:۱۳۹، ۱۸۳)۔

ان چند کلمات سے اندازہ ہوگا کہ دسویں صدی کے جھوٹے مہدی مُلّا محمد اٹکی اور چودہویں صدی کے جھوٹے مہدی کے دعویٰ ونظریات کے درمیان کس قدر مشابہت ہے؟ پس جس طرح قادیانی اپنے عقائدِ کفریہ کی وجہ سے مسلمان نہیں، ٹھیک اسی طرح ذکری لوگ بھی مسلمان نہیں، حق تعالیٰ شانہ‘ اُمتِ مسلمہ کو تمام فتنوں سے محفوظ رکھے۔