بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

ذکریوں کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرنا دُرست نہیں

سوال:۔

ہمارے بلوچوں میں ایک مذہب ہے ’’ذکری‘‘، یہ لوگ خود کو اِسلام کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں۔ باقی عقائد کو چھوڑ کر یہ لوگ رمضان المبارک کے روزوں کو فرض نہیں سمجھتے، اور ان کے مذہب کا مرکز ’’کوہِ مراد‘‘ تربت شہر کے قریب ہے، یہاں یہ ۲۷ویں رمضان کو ایک خاص فریضہ ادا کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ یہاں دن دہاڑے کھاتے پیتے ہیں اور رمضان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اور طرفہ یہ کہ یہ سب کچھ حکومتِ پاکستان کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ رمضان کی توہین و خلافِ ورزی بڑے پیمانے پر سرِ عام اور حکومت کی فورس کی باقاعدہ نگرانی میں ہر سال ہوتی ہے۔

جواب:۔

ان کے عقائد پر میرا ایک مستقل رسالہ موجود ہے، جو میرے مجموعہ رسائل کی پہلی جلد میں شامل ہے۔(۱) خلاصہ یہ ہے کہ ان کے عقائد مسلمانوں کے نہیں، ان کو مسلمان سمجھنا، اور مسلمانوں کا سا برتاؤ ان کے ساتھ کرنا دُرست نہیں۔

تمام مسلمان اس بات سے واقف ہیں کہ اسلام کے ارکان پانچ ہیں، ان میں سے کسی ایک رُکن کا انکار بھی انسان کو کفر کی سرحد تک پہنچادیتا ہے۔(۲) ذکری لوگوں کے بارے میں جہاں تک مجھے علم ہے وہ کلمۂ اِسلام کے بھی قائل نہیں، نماز روزے کے بھی منکر ہیں، زکوٰۃ کی جگہ اپنے ملائی کو پیسے دیتے ہیں، اور بیت اللہ کی جگہ ’’کوہِ مراد‘‘ کا حج کرتے ہیں، ان عقائد کے باوجود ان کا مسلمان ہونا عقل وفہم سے بالاتر ہے، واللہ اعلم!

  1. (۱) بنام ’’کیا ذکری مسلمان ہیں؟‘‘ ’’رسائل یوسفی‘‘ میں شامل ہے، طبع مکتبہ لدھیانوی کراچی۔
  2. (۲) ورد النصوص بأن ینکر الأحکام التی دلّت علیھا النصوص القطعیۃ من الکتاب والسُّنّۃ کحشر الأجساد مثـلًا کفر ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقائد ص:۱۶۶)۔