بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

ذکری مسلمان نہیں، ان کا جنازہ، ذبیحہ جائز نہیں

سوال:۔

بلوچستان میں ایک قوم ’’ذکری‘‘ کے نام سے آباد ہے، یہ قوم اپنے آپ کو ’’ذکری مسلم‘‘ کہتے ہیں۔ یہ نہ نماز پڑھتے ہیں اور نہ روزے رکھتے ہیں، صرف پانچ وقت ذکر کرتے ہیں۔ یہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بھی مانتے ہیں، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارا نبی ’’اِمام مہدی‘‘ ہے، جو عنقریب آئے گا۔ یہ صرف فجر کے وقت ایک رُکوع، ایک سجدہ کرتے ہیں، اور صرف ذی الحجہ کے دس روزے رکھتے ہیں، ۲۷؍رمضان کو حج کرتے ہیں، ان کا حج بلوچستان کے شہر تربت کی ایک پہاڑی ہے جس کا نام ’’کوہِ مراد‘‘ بتاتے ہیں۔

یہ قوم قرآنِ حکیم بھی پڑھتی ہے، یہ اپنے جنازے کو بھی ذکر دیتے ہیں، ان کے ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے عبادت خانے میں گول دائرے کی صورت میں بیٹھ کر بیچ میں ایک اِمام بیٹھتا ہے۔ یہ عیدالاضحی کی قربانی فجر کی نماز سے پہلے کرتے ہیں، ان کا کلمہ بھی ہمارے کلمے سے الگ ہے۔ قربانی کرتے وقت بھی یہی کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس خلاصے کو پڑھنے اور غور کرنے کے بعد میرے مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب دیجئے:

سوال:۔

ہم انہیں مسلمان کہہ سکتے ہیں؟

سوال:۔

ان کے ساتھ کسی مسلمان مرد یا عورت کا بیاہ دینا صحیح ہے؟

سوال:۔

ان کے جنازے میں کوئی مسلمان شرکت کرسکتا ہے؟

سوال:۔

ان کے جنازے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا دُرست ہے؟

سوال:۔

ان کا ذبح کیا ہوا جانور کا گوشت کھانا صحیح ہے؟

جواب:۔

ان کے عقائد مسلمانوں سے الگ ہیں، اس لئے ان کو مسلمان کہنا صحیح نہیں، بلکہ وہ قادیانیوں کی طرح غیرمسلم ہیں۔(۱)

جواب:۔

کسی مسلمان مرد و عورت کا ان کے ساتھ نکاح صحیح نہیں۔(۲)

جواب:۔

ان کے جنازے میں شرکت جائز نہیں۔(۳)

جواب:۔

ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔(۴)

جواب:۔

ان کا ذبیحہ حلال نہیں۔(۵)

  1. (۱) ورد النص بأن ینکر الأحکام التی دلّت علیھا النصوص القطعیۃ من الکتاب والسُّنّۃ کحشر الأجساد مثـلًا کفر ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقائد ص:۱۶۶)۔
  2. (۲) وحرم نکاح الوثنیۃ وفی الشامیۃ: وفی شرح الوجیز وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ ۔۔۔ الخ۔ (شامی ج:۳ ص: ۴۵)۔
  3. (۳) الصلٰوۃ علی الجنازۃ ۔۔۔ وشرطھا اسلام المیّت ۔۔۔ الخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۶۲، الصلاۃ علی المیت)۔
  4. (۴) أما المرتد فلا یغسل ولَا یکفن وانما یلقٰی فی حفیرۃ کالکلب ۔۔۔ الخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۰۵)۔
  5. (۵) فلا توکل ذبیحۃ أھل الشرک والمرتد۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۲۸۵)۔