بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

ذکری فرقہ غیرمسلم ہے

سوال:۔

میں ایک تعلیم یافتہ شخص ہوں۔ میرے آباء و اَجداد خود کو مسلمان کہلاتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ’’ذکری‘‘ہیں۔ میں نے اتنی ساری کتابیں پڑھی ہیں مگر کسی کتاب میں میں نے اس کا ذکر نہیں سنا۔ میں سعودیہ، کویت، قطر، دبئی بھی گیا ہوں، لیکن میں نے عربوں میں یہ فرقہ نہیں دیکھا۔ میں نے اپنی فٹ بال ٹیم کے ساتھ پنجاب، سرحد، بلوچستان اور اندرون سندھ کا بھی دورہ کیا ہے لیکن میں نے اس فرقے کا نام کہیں نہیں سنا۔ میں حیران ہوں کہ ہم قرآن مجید پر مکمل یقین رکھنے کا اعتراف کرتے ہیں اور اسی کو ایک سچی کتاب تصوّر کرنے کے باوجود نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج سے انحرافی ہیں۔ میں نے اپنے والد، والدہ، بڑے بھائی اور دیگر افراد سے اس بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے، مگر کسی نے مجھے تسلی بخش جواب نہیں دیا ہے۔ میرے والد صاحب کا عنقریب انتقال ہوگیا ہے، میں نے والدہ صاحبہ سے کہا کہ یہ کوئی مذہب نہیں، میں نماز پڑھوں گا، لیکن وہ مجھے روک رہی ہیں۔ آپ سے اِستدعا ہے کہ تفصیلی جواب سے نوازیں، آیا والدہ صاحبہ کو چھوڑ دُوں یا نماز پڑھوں، جبکہ وہ مجھ سے ناراض ہوں گی۔ آخر میں کیا کروں؟

جواب:۔

ذکری فرقے کے لٹریچر کا میں نے مطالعہ کیا ہے، وہ اپنے اُصول و فروع کے اعتبار سے مسلمان نہیں ہیں،(۱) بلکہ ان کا حکم قادیانیوں، بہائیوں اور مہدویوں کی طرح غیرمسلم اقلیت کا ہے۔ جو لوگ ذکریوں کو مسلمان تصوّر کرتے ہوئے ان میں شامل ہیں ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اس فرقۂ باطلہ سے براء ت کرنی چاہئے۔ آپ اپنی والدہ کی خدمت ضرور کریں، لیکن نماز روزہ اور دیگر احکامِ خداوندی میں ان کی اطاعت نہ کریں۔(۲)

  1. (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدین۔ (إکفار الملحدین ص:۱۲۱)۔ ان الْإیمان ھو تصدیق النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ ۔۔۔ ثم المراد من المعلوم ضرورۃ کونہ من الدین بحیث یعلمہ العامۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۰۴)۔ فمنکر الضروریات الدینیۃ کالأرکان الأربعۃ التی بنی الْإسلام علیھا: الصلٰوۃ والزکٰوۃ والصوم والحج وحجیۃ القرآن ونحوھما کافر آثم۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۱۱ طبع لکھنؤ)۔
  2. (۲) ﵟ وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ ﵞ ٠٠٠ فأمر بمصاحبۃ الوالدین المشرکین بالمعروف مع النھی عن طاعتھما فی الشرک، لأنہ لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۹۶)۔