غلط عقائد رکھنے والے فرقے
ذکری فرقے کے کفریہ عقائد
سوال:۔
میرا تعلق ایک ایسے فرقے سے ہے جس کا کلمہ، نماز اور دُوسرے ارکان عام مسلمانوں سے الگ ہیں، زکوٰۃ پر عقیدہ نہیں رکھتے، حج اور قربانی بھی نہیں کرتے، برائے مہربانی جواب دیں کہ:
اس فرقے کے ماننے والوں کی بخشش ہوگی کہ نہیں
۲:۔ اس فرقے کے ماننے والے مسلمانوں کے زُمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟
دو روز قبل ایک دوست کی وساطت سے ایک پمفلٹ ملا جس میں درج ذیل عقائد تھے، وضو کی ہمیں ضرورت نہیں، اس لئے کہ دِل کا وضو ہوتا ہے۔ پانچ وقت فرض نماز کے بدلے میں تین وقت کی دُعا کافی ہے، اس میں قیام و رُکوع کی ضرورت نہیں ہے، قبلہ رُخ کی ضرورت نہیں ہے، ہر سمت رُخ کرکے پڑھ سکتے ہیں، جس کے لئے صرف تصوّر کافی ہے۔ روزہ تو اصل میں آنکھ، کان اور زبان کا ہوتا ہے، کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، ہمارا روزہ سوا پہر کا ہوتا ہے جو صبح دس بجے کھول لیا جاتا ہے، وہ بھی اگر کوئی رکھنا چاہے، ورنہ روزہ فرض نہیں ہے۔ زکوٰۃ کے بجائے آمدنی پر روپیہ میں دو آنہ فرض ہے۔ حج فرض نہیں، عبادت مالی تصرفات کرکے معاف کرائی جاسکتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کیا ایسے عقائد کے حامل لوگ مسلمان سمجھے جائیں گے۔
جواب:۔
جس فرد یا جماعت کے عقائد مسلمانوں کے نہیں اور دِینِ اسلام کے بنیادی ارکان (کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) کو بھی وہ تسلیم نہیں کرتے، وہ مسلمانوں کے زُمرے میں کیسے شامل ہوسکتے ہیں؟ اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے نازل کردہ دِین کو نہ مانیں، ان کی بخشش کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ جو اسلام کی کسی بات کا بھی قائل نہ ہو، وہ مسلمان کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟(۱)
- (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدین۔ (إکفار الملحدین ص:۱۲۱)۔ ان الْإیمان ھو تصدیق النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ ۔۔۔ ثم المراد من المعلوم ضرورۃ کونہ من الدین بحیث یعلمہ العامۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۰۴)۔ فمنکر الضروریات الدینیۃ کالأرکان الأربعۃ التی بنی الْإسلام علیھا: الصلٰوۃ والزکٰوۃ والصوم والحج وحجیۃ القرآن ونحوھما کافر آثم۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۱۱ طبع لکھنؤ)۔

