الجواب
اولیاء اللہ کے مزارات پر نذر
سوال:۔
کعبہ کی نیاز کے اونٹ کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ اولیاء اللہ کے مزارات پر اگر نذر سے مراد وہاں کے فقراء پر تصدق ہو اور ایصال ثواب صاحب مزار کو ہو تو یہ جائز ہے۔
بے شک ربط شیخ اور فیضان شیخ کے حصول کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے اور تمام مشائخ میں اس کا معمول ہے، مگر افسوس کہ ہمارے سلسلے میں اس کا فقدان ہے بلکہ منع کیا جاتا ہے، میں نے نہیں دیکھا اور سنا کہ کسی نے اپنے شیخ کے لئے صدقہ کیا ہو۔ نقد، کھانا، کپڑا کسی قسم کا بھی نہ گھر پر نہ مزار پر اور نہ دُوسرے اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کا اہتمام ہے، جب کہ حدیث شریف میں تو عام مؤمنین کی قبور کی زیارت کی تاکید کی گئی ہے، اسی طرح اور بہت سے طریقت کے اعمال جن سے تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب میں مدد ملتی ہے اور بغرض علاج ہر سلسلے میں رائج ہیں (بدعات کو چھوڑ کر) ہمارے سلسلے میں رائج نہیں، حلقہ بنا کر ذکر کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، نماز، روزہ اور دُوسرے فرائض و واجبات تو سالک وغیر سالک دونوں میں مشترک ہیں، تمام مشائخ اس بات پر متفق ہیں، خالی نماز روزہ وغیرہ سے نفس کا تزکیہ اور وصول نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ باطنی اعمال، تصحیح نیت، غنٰی، توکل ماسوا سے گریز اور دُوسری ریاضت و مجاہدات جو متقدمین میں رائج تھے، خصوصاً طعام، کلام، منام، اِختلاطِ اَنام کی تقلیل وغیرہ نہ ہو۔ مختصر یہ کہ مشائخ ہیں، خلفاء کی لمبی لمبی فہرستیں ہیں، مریدین کی فوج کی فوج ہے، مگر وہ رُوح نہیں اور نہ وہ آثار کسی میں نظر آتے ہیں، جو مجاہدات سے مرتب ہوتے ہیں، اِلَّاماشاء اللہ، جب کہ دُوسرے سلاسل مثلاً سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے بہت سے بزرگوں میں وہ صفات دیکھی گئی ہیں جو اس طریق کے لوازم میں سے ہیں، بعد وفات بھی اپنے مریدین اور عقیدتمندوں پر بذریعہ خواب یا مراقبہ یا واقعہ اپنے فیضان جاری رکھتے ہیں اور ان کی نگہداشت کرتے رہتے ہیں، اس طرح جیسے ایک چرواہا اپنی بکریوں کی۔
دُوسری بات یہ کہ شیخ اور پیر طریقت بننے کے لئے جن شرائط اور اوصاف اور باطنی کمالات کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ تمام مستند کتبِ تصوف میں لکھا ہے اور خاص طور پر اِمدادُ السلوک میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر یہ اوصاف شیخ میں نہ ہوں تو اس کا شیخ طریقت بننا حرام ہے، توجناب! یہ باتیں آج کل اکثر مشائخ میں نہیں پائی جاتیں (آپ جیسے کچھ بزرگ یقینا ان اوصاف کے حامل ہوں گے مگر میں اکثریت کی بات کر رہا ہوں)َ۔
جواب:۔
ربطِ شیخ بذریعہ ایصالِ ثواب اور بذریعہ زیارتِ قبور ضرور ہونا چاہئے، یہ کثیر النفع ہے، الحمد للہ! اس ناکارہ کو اس کا فی الجملہ اہتمام رہتا ہے۔
اِمدادُ السلوک کی شرط پر تو آج شاید ہی کوئی پورا اُترے، یہ ناکارہ حلفاً عرض کرے کہ اس شرط پر پورا نہیں اُترتا تو حانث نہیں ہوگا۔ اس لئے یہ ناکارہ مشائخِ حقہ کی طرف محول کرنا ضروری سمجھتا ہے، پہلے تو مطلقاً انکار کردیتا تھا کہ میں اہل نہیں ہوں، لیکن میرے بعض بڑوں نے مجھے بہت ڈانٹا کہ تم حضرت شیخ ؒکی اجازت کی توہین کرتے ہو، تب سے اپنی نااہلی کے باوجود بیعت لینے لگا اور اب تو بلاشبہ اور ڈھیٹ ہوگیا ہوں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم فرمائے، جن میں پیر اور شیخ اس رُوسیاہ جیسے لوگ ہوں، بس وہی قصہ ہے جو تذکرۃ الرشید میں حضرت گنگوہی قدس سرہ نے ایک ڈاکو کے پیر بننے کا لکھا ہے۔(۱)
- (۱) ایک روز اِرشاد فرمایا کہ: ایک قزاق تھا، لوٹ مار میں بہت مشہور تھا، تمام عمر اس نے قزاقی میں گزاری، آخر جب بوڑھا اور ضعیف ہوگیا، تو دِل میں سوچا کہ اب اگر کہیں چوری کی تو پکڑا جائے گا، کوئی اور حیلہ ایسا کرنا چاہئے جس سے بڑھاپا آرام سے گزر جائے۔ بہت سوچا، آخر خیال آیا کہ سوائے پیری مریدی کے اور کوئی پیشہ ایسا نہیں جس میں یہ آخری عمر راحت سے کٹے۔ بس یہ سوچ کر وہ شخص ایک گاؤں کے قریب جنگل میں بر لبِ دریا تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھ گیا۔ پانچوں وقت فریضۂ نماز اَدا کرتا، لوگ جو اِدھر کو آتے جاتے، وہ اس کو دیکھا کرتے، آخر چند روز کے بعد گاؤں والوں میں اس کی عقیدت پیدا ہونے لگی، باہم تذکرے ہونے لگے کہ یہ کوئی بزرگ ہماری خوش نصیبی سے اِدھر آنکلے۔ رفتہ رفتہ لوگوں کی آمد شروع ہوگئی، اور لگے اِن کی خاطر مدارات کرنے، یہاں تک کہ دونوں وقت کھانا آتا، اور ہر ایک یوں چاہتا کہ میں ان کی خدمت کروں۔ ایک جھونپڑا بھی ان کے رہنے کو لوگوں نے وہیں دریا کے کنارے پر بنادیا۔ اِس شخص نے کم گوئی اِختیار کرلی تھی، مشائخ کی سی صورت بناکر کچھ وظیفہ بھی شروع کردیا تھا۔ غرض لوگ زیارت کو آتے آتے بیعت کی خواہش بھی کرنے لگے، اِس نے ان کو مرید بنایا اور ذِکر کرنے کے لئے کلمۂ توحید تلقین کردیا۔ مرید بیعت ہونے کے بعد اپنا کام کرنے لگے، اور یوں سوچ کر کہ میاںصاحب تنِ تنہا جنگل میں پڑے رہتے ہیں، رات برات کو تکلیف ہوتی ہوگی، لاؤ دریا کے کنارے ان کے قدموں میں رہائش اِختیار کریں۔ وہ بھی یہیں آپڑے۔ اب تمام شب نفی اِثبات کا ذِکر ہونے لگا، غرض کثرتِ ذِکر سے جنگل معمور ومنور ہوگیا، لوگ دُور دَراز سے ان کی خدمت میں آتے اور نذریں پیش کیا کرتے، فتوحات کی جب زیادتی ہوئی تو خدام نے لنگر بنایا اور آئند وروند کو روٹی دینے لگے، پھر تو آنے والوں کی تعداد اور بھی بڑھ گئی۔ خدا کی شان! وہ دس بیس خدام بباعث اِعتقاد تھوڑے عرصے میں منزلِ مقصود کو پہنچ گئے، اس وقت ان خادموں نے مشورہ کیا کہ لاؤ خیال تو کریں کہ حضرت کس مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ لگے خوض کرنے، چھ ماہ تک فکر کیا، مگر پیر کے مقام کا پتا نہ لگا، آخر کہنے لگے کہ حضرت کے مقامات اس درجہ عالی ہیں کہ ہمارا کمندفکر وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ سب نے متفق ہوکر مرشد کی خدمت میں عرض کیا کہ: حضرت! ہم خدام نے چھ ماہ تک غور کیا، مگر آپ کے مقامات کا پتا نہ چلا، آپ ہم کو برائے خدا اپنے مرتبے سے مطلع فرمادیں۔ پیر صاحب میں نیک لوگوں کی صحبت اور کثرتِ نماز وروزہ سے حق گوئی کی خصلت پیدا ہوگئی تھی، اس لئے جواب دیا: ’’بھائیو! میں ایک قزاق ہوں، عمر بھر لوٹ مارکر کھاتا رہا، اب بڑھاپے میں جب مجھ سے یہ پیشہ نہ ہوسکتا تو کھانے کا یہ حیلہ اِختیار کیا، باقی درویشی کے فن سے مجھے کچھ بھی مناسبت نہیں۔‘‘ خادموں نے کہا: اجی نہیں! حضرت تو کسرِ نفسی سے ایسے الفاظ فرماتے ہیں، تب اس شخص نے قسم کھائی اور کہا: ’’واللہ! میں نے جو کچھ کہا ہے، سچ کہا ہے، اس میں اِنکسار نہیں ہے، میں ہرگز اس قابل نہیں ہوں کہ کوئی بیعت ہو، میں نہایت گنہگار اور نااہل شخص ہوں، تم لوگ محض حسنِ عقیدت کی بنا پر اس مرتبۂ کمال کو پہنچ گئے ہو۔‘‘ اس وقت ان لوگوں نے پیر کے اِرشاد کو حق سمجھ کر جنابِ باری تعالیٰ میں اِلتجا کی کہ: ’’بارِ اِلٰہ! جن کے باعث تو نے اپنی رحمتِ کاملہ سے ہم کو ہدایت فرمائی ہے، اُن کو بھی اپنے خاص بندوں میں شامل فرمالے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی دُعا سن لی اور پیر کو بھی اپنے پاک لوگوں میں شامل فرمالیا۔ اس قصے کو نقل فرماکر حضرت اِمامِ ربانی قدس سرہٗ نے اِرشاد فرمایا: ’’مجھے بھی کچھ آتا جاتا نہیں ہے، لوگوں کو توبہ کرادیا کرتا ہوں کہ یہی وسیلہ میری نجات کا ہو۔‘‘ (تذکرۃ الرشید، حصہ دوم ص:۲۴۱، ۲۴۲ طبع مکتبہ بحرالعلوم، جونا مارکیٹ، کراچی)۔

