بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

الجواب

کیا نبی کی نیاز، اللہ کی نیاز کہلائے گی؟

سوال:۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، ان کی نیاز بھی رَبِّ کعبہ ہی کی نیاز ہے۔ اسی طرح تمام اولیاء کی نیاز سے پھر کیوں منع کیا جاتا ہے؟

جواب:۔

بہت نفیس سوال ہے، ہدی کے جانور رَبِّ کعبہ کی نیاز ہے، ان کی نیاز کی جگہ مشاعرِ حج یعنی حرم شریف ہے، اس لئے مجازاً ان کو کعبہ کی نیاز کے جانور کہا جاتا ہے، بخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کرامؒ کے کہ ان کی نیاز اللہ کے لئے شرع میں معہود نہیں، اس لئے درمختار(۱) میں لکھا ہے کہ اولیاء اللہ کے مزارات پر جو نذریں لائی جاتی ہیں، اگر اس سے مقصد وہاں کے فقراء پر صدقہ ہو تو یہ نذر اللہ کے لئے ہے، اس لئے جائز ہے اور اگر خود اولیاء اللہ کی نذر گزارنی مقصود ہو تو یہ حرام ہے، کیونکہ نذر عبادت ہے اور عبادت غیر اللہ کی جائز نہیں، اس کی مثال بیت اللہ کی طرف سجدہ ہے کہ سجدہ تو حق تعالیٰ شانہ کو کیا جاتا ہے اور جہت سجدہ بیت اللہ ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ جائز نہیں۔

  1. (۱) وفی الدر المختار: اعلم ان النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الدراھم والشمع والزیت ونحوھا إلٰی ضرائح الأولیاء الکرام تقربًا إلیھم فھو بالْإجماع باطل وحرام۔ وفی الشامیۃ: قولہ باطل وحرام، لوجوہ: منھا أنہ نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لَا یجوز لأنہ عبادۃ، والعبادۃ لَا تکون لمخلوق۔ (ردالمختار ج:۲ ص:۴۳۹ مطلب فی النذر الذی یقع للأموات)۔