الجواب
منّت ماننا کیوں منع ہے؟
سوال:۔
بعض لوگوں سے سنا ہے کہ نذر کی شریعت میں ممانعت آئی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب:۔
حدیث میں نذر سے جو ممانعت کی گئی ہے، علماء نے اس کی متعدد توجیہات کی ہیں: ایک یہ کہ بعض جاہل یہ سمجھتے ہیں کہ نذر مان لینے سے وہ کام ضرور ہوجاتا ہے، حدیث میں اس خیال کی تردید کے لئے فرمایا گیا ہے کہ نذر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر نہیں ٹلتی۔
دوم: یہ کہ بندے کا یہ کہنا کہ: اگر میرے مریض کو شفا ہوجائے تو میں اتنے روزے رکھوں گا، یا اتنا مال صدقہ کروں گا، یہ ظاہری صورت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ سودے بازی ہے، اور یہ عبدیت کی شان نہیں۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ وابن عمر قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تنذروا فإن النذر لَا یغنی من القدر شیئًا، وإنما یستخرج بہ من البخیل۔ متفق علیہ۔ وفی الشرح: قال القاضی عادۃ الناس تعلیق النذور علٰی حصول المنافع ودفع المضار فنھی عنہ فإن ذٰلک فعل البخلاء۔۔۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۳ ص:۵۶۳ باب فی النذور)۔

