بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

قبروں پر پھول ڈالنا بدعت ہے، مسئلہ کی تحقیق

روزنامہ ’’جنگ‘‘ ۱۲؍دسمبر ۱۹۸۰ء کے اسلامی صفحے میں راقم الحروف نے ایک سوال کے جواب میں قبروں پر پھول چڑھانے کو ’’خلافِ سنت‘‘ لکھا تھا، توقع نہ تھی کہ کوئی صاحب جو ’’سنت‘‘ کے مفہوم سے آشنا ہوں، اس کی تردید کی زحمت فرمائیں گے، مگر افسوس کہ شاہ تراب الحق صاحب نے اس کو اپنے معتقدات کے خلاف سمجھا اور ۱۹؍دسمبر کے جمعہ ایڈیشن میں اس کی پُرجوش تردید فرمائی، اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس مسئلے پر دلائل کی روشنی میں غور کیا جائے، چنانچہ راقم الحروف نے ۲؍جنوری ۱۹۸۱ء کے جمعہ ایڈیشن میں ’’مسئلے کی تحقیق‘‘ کے عنوان سے اس مسئلے پر طرفین کے دلائل کا جائزہ پیش کیا، جناب شاہ تراب الحق صاحب نے ۱۶؍جنوری کی اشاعت میں ’’مسئلے کی تحقیق کا جواب‘‘ پھر رقم فرمایا ہے، جہاں تک مسئلے کی تحقیق کا تعلق ہے، بحمداللہ! میری سابق تحریر ہی اس کے لئے کافی و شافی ہے۔ تاہم شاہ صاحب نے جو نئے نکات اُٹھائے ہیں، ذیل میں ان کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔

۱:۔ لفظِ ’’سنت‘‘ کی وضاحت پہلے بھی کرچکا ہوں، مگر شاہ صاحب نے اس اصطلاح کی اہمیت پر توجہ نہیں فرمائی۔ اس لئے اتنی بات مزید عرض کردینا مناسب ہے کہ جب ہم کسی چیز کو سنت کہتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی سے منسوب کرتے ہیں۔ کسی ایسی چیز کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات سے منسوب کرنا جائز نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کی ہو، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہو، نہ صحابہؓ و تابعینؒ نے، جو اِتباعِ سنت کے سب سے بڑے عاشق تھے، اس پر عمل کیا ہو۔

ہمارے زیرِ بحث مسئلے میں شاہ صاحب بھی یہ ثابت نہیں کرسکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بنفسِ نفیس قبروں پر پھول چڑھاتے تھے یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُمت کو اس کی ترغیب دی ہے، یا صحابہؓ و تابعینؒ نے اس پر عمل کیا ہو، یا اَئمہ مجتہدینؒ میں سے کسی نے قیاس و اِجتہاد ہی سے اس کے اِستحسان کا فتویٰ دیا ہو۔ یہ مسئلہ البتہ متأخرین کے زیرِ بحث آیا ہے اور بعض متأخرین شافعیہ نے حدیثِ جرید سے اس کا اِستحسان ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مگر محققین شافعیہ وحنفیہ و مالکیہ نے شدّ و مدّ سے ان کے اِستدلال کی تردید کردی ہے اور اسے بے اصل بدعت اور غیرمعتبر عند اہل العلم قرار دیا ہے۔ اگر شاہ صاحب بنظرِ انصاف غور فرماتے تو ایسی چیز کو جسے اَئمہ محققین بدعت فرمارہے ہیں، ’’سنت‘‘ کہنے پر اصرار نہ کرتے، کیونکہ ایک خودتراشیدہ بات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کی طرف منسوب کرنا سنگین جرم ہے۔

۲:۔ ہمارے شاہ صاحب نہ صرف یہ کہ اسے سنت کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف ایک غلط بات منسوب کر رہے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ انہوں نے قبروں پر پھول چڑھانے کو عقائد میں شامل فرمالیا ہے، جیسا کہ ان کے اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے:

’’حقیقتِ حال یہ ہے کہ اخبارات و رسائل میں ایسے اِستفسارات و مسائل کے جواب دئیے جائیں جس سے دُوسروں کے جذبات مجروح نہ ہوں اور ان کے معتقدات کو ٹھیس نہ پہنچے۔‘‘

شاہ صاحب کا مشورہ بجا ہے، مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ کسی کے نزدیک قبروں پر پھول چڑھانا بھی دِینِ حنیفی کے معتقدات میں شامل ہے یا اس کو ’’خلافِ سنت‘‘ کہنے سے اسلامی عقائد کی نفی ہوجاتی ہے۔ راقم الحروف نے اسلامی عقائد اور ملل و نحل کی جن کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، ان میں کہیں بھی یہ نظر سے نہیں گزرا کہ قبروں پر پھول چڑھانا بھی ’’اہلِ سنت والجماعت‘‘ کے معتقدات کا ایک حصہ ہے۔ یہ تو میں شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ سے نقل کرچکا ہوں کہ:

’’ایں سخن اصلے ندارد در صدرِ اوّل نبود‘‘

یعنی اس کی کوئی اصل نہیں، اور صدرِ اوّل میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کیا میں شاہ تراب الحق صاحب سے بہ ادب دریافت کرسکتا ہوں کہ قبروں پر پھول چڑھانا دِینِ اسلام کے معتقدات میں کب سے داخل ہوا؟ اور یہ کہ کیا شاہ صاحب کے معتقدات صدرِ اوّل کے خلاف ہیں کہ جس چیز کا صدرِ اوّل میں کوئی وجود ہی نہ تھا، وہ ماشاء اللہ! آج شاہ صاحب کا جزوِ عقیدہ بن چکی ہے؟ قبروں پر پھول چڑھانے کو معتقدات میں داخل کرلینا افسوسناک غلوّ پسندی ہے اور یہ غلوّ پسندی بدعت کا خاصہ ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ بدعت رفتہ رفتہ ’’سنت‘‘ کی جگہ لیتی ہے اور پھر آگے بڑھ کر لوگوں کا جزوِ ایمان بن جاتی ہے اور لوگ اس بدعت کو بڑی عقیدت سے اسلام کا عظیم شعار سمجھ کر بجالاتے ہیں، اور جب اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ اس بدعت کے خلاف لب کشائی کرتا ہے تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص اسلام کی ایک سنت اور ایک عظیم شعار کی مخالفت کر رہا ہے۔ اِمام دارمیؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ارشاد نقل کیا ہے جو بدعت کی اس نفسیات کی تشریح کرتا ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب فتنۂ بدعت تم کو ڈھانک لے گا؟ بڑے اسی میں بوڑھے ہوجائیں گے اور بچے اسی میں جوان ہوں گے، لوگ اسی فتنے کو سنت بنالیں گے، اگر اسے چھوڑا جائے تو لوگ کہیں گے سنت چھوڑ دی گئی۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ: اگر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی تو لوگ کہیں گے کہ سنت تبدیل کی جارہی ہے)۔ عرض کیا گیا کہ: یہ کب ہوگا؟ فرمایا: جب تمہارے علماء جاتے رہیں گے، جہلا کی کثرت ہوجائے گی، حرف خواں زیادہ ہوں گے مگر فقیہ کم۔ اُمراء بہت ہوں گے، امانت دار کم۔ آخرت کے عمل سے دُنیا تلاش کی جائے گی اور غیرِدِین کے لئے فقہ کا علم حاصل کیا جائے گا۔‘‘ (۱) (مسند دارمی ج:۱ ص:۵۸، باب تغیر الزمان، طبع نشر السنۃ پاکستان)

اس لئے شاہ صاحب اگر قبروں پر پھولوں کو معتقدات میں شامل کرتے ہیں تو یہ وہی غلوّ پسندی ہے جو بدعت کی خاصیت ہے اور اس کی اصلاح پر شاہ صاحب کا ناراض ہونا وہی بات ہے جس کی نشاندہی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمائی ہے، حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ!

۳:۔ مسئلے کی تحقیق کے آخر میں میں نے شاہ صاحب کو توجہ دِلائی تھی کہ قبروں کے پھولوں کو ’’خلافِ سنت‘‘ کہنے کا جرم پہلی بار مجھ سے ہی سرزد نہیں ہوا، مجھ سے پہلے اکابر اَئمہ اَعلام اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ سخت الفاظ استعمال فرماچکے ہیں، اس لئے شاہ صاحب نے صرف مجھ ہی کو جاہل و نابلد نہیں کہا، بلکہ ان اکابر کے حق میں بھی گستاخی کی ہے۔

حق پسندی کا تقاضا یہ تھا کہ میرے اس توجہ دِلانے پر شاہ صاحب اس گستاخی سے تائب ہوجاتے اور یہ معذرت کرلیتے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پہلے اکابر بھی اس بدعت کو رَدّ کرچکے ہیں۔ لیکن افسوس! کہ شاہ صاحب کو اس کی توفیق نہیں ہوئی، البتہ میں نے اپنے الفاظ میں نرمی اور لچک کی جو تشریح بین القوسین کی تھی، اس کو غلط معنی پہناکر مجھ سے سوال کرتے ہیں:

الف:۔ ’’جب آپ کے نزدیک پھولوں کا ڈالنا جائز یا مستحسن ہے یا اس کے ہونے کی گنجائش ہے تو اس موضوع پر طوفان برپا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

جنابِ من! اس تشریح میں، میں پھولوں کے جواز یا اِستحسان کا فتویٰ نہیں دے رہا، بلکہ اپنے پہلے الفاظ ’’خلافِ سنت‘‘ میں جو نرمی اور لچک تھی اس کی تشریح کرتے ہوئے آپ کو سمجھانا مقصود تھا کہ آپ بھی اس کو عین ’’سنتِ نبوی‘‘ نہیں سمجھتے ہوں گے، زیادہ سے زیادہ اس کے جواز یا اِستحسان ہی کے قائل ہوں گے۔ یہ عقیدہ تو آپ کا بھی نہیں ہوگا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبروں پر پھول چڑھایا کرتے تھے، اس لئے آپ میرے الفاظ ’’خلافِ سنت‘‘ میں یہ تأویل کرسکتے تھے کہ گو یہ عمل سنت سے ثابت نہیں، مگر ہم اس کو مستحسن سمجھ کر کرتے ہیں، عین سنت سمجھ کر نہیں، مگر افسوس کہ آپ نے میری محتاط تعبیر کی کوئی قدر نہ کی، بلکہ فوراً اس کی تردید کے لئے کمربستہ ہوگئے اور بجائے علمی دلائل کے تجہیل و تحمیق کا طریقہ اپنایا۔

اب انصاف فرمائیے! کہ طوفان کس نے برپا کیا، میں نے یا خود آنجناب نے؟ اور جو عمل کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ سے ثابت نہ ہو، اس کو خلافِ سنت لکھنے کو جناب کا پھلجڑی چھوڑنے سے تعبیر کرنا بھی سوقیانہ اور بازاری زبان ہے، جو اہلِ علم کو زیب نہیں دیتی۔

اسی ضمن میں شاہ صاحب فرماتے ہیں:

ب:۔’’حیرت کی بات ہے کہ آپ اس اَمر کو خلافِ سنت قرار دے رہے ہیں اور دُوسری طرف آپ کو اس میں جائز بلکہ مستحب ہونے کی گنجائش نظر آتی ہے، اَز راہِ نوازش ایسی کوئی مثال پیش فرمائیں جس میں کسی اَمر کو باوجود خلافِ سنت ہونے کے مستحب قرار دیا گیا ہو۔‘‘

گویا شاہ صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، وہ مستحب تو کیا جائز بھی نہیں۔ اس لئے وہ مجھ سے اس کی مثال طلب فرماتے ہیں۔ جناب شاہ صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ ہزاروں چیزیں ایسی ہیں جو خلافِ سنت ہونے کے باوجود جائز ہیں۔ مثلاً: ترکی ٹوپی یا جناح کیپ سنت نہیں مگر جائز ہے، اور نماز کی نیت زبان سے کرنا خلافِ سنت ہے، مگر فقہاء نے اس کو مستحسن فرمایا ہے،(۲) لیکن اگر کوئی شخص اسی کو سنت کہنے لگے تو غلط ہوگا۔

۴:۔ آفتابِ سنت کے آگے بدعت کا چراغ بے نور ہوجاتا ہے۔ شاہ صاحب قبروں کے پھولوں کا کوئی ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ کے عمل سے پیش نہیں کرسکے، اور نہ میرے ان دلائل کا ان سے کوئی جواب بن پڑا جو میں نے اکابر اَئمہ سے اس کے بدعت ہونے پر نقل کئے تھے، اس لئے شاہ صاحب نے اس ناکارہ کی ’’کتاب فہمی‘‘ کی بحث شروع کردی۔ علامہ عینیؒ کی ایک سطر کا جو ترجمہ میں نے نقل کیا تھا، شاہ صاحب اس کو نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’راقم الحروف (شاہ صاحب) اہلِ علم کے سامنے اصل عربی عبارت پیش کر رہا ہے اور انصاف کا طالب ہے کہ لدھیانوی صاحب نے اس عبارت کا مفہوم صحیح پیش کیا ہے بلکہ ترجمہ بھی دُرست کیا ہے یا نہیں؟‘‘

شاہ صاحب اپنے قارئین کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک ایسا اناڑی آدمی جو عربی کی معمولی عبارت کا مفہوم تک نہیں سمجھتا، بلکہ ایک سطری عبارت کا ترجمہ تک صحیح نہیں کرسکتا، اس نے بڑے بڑے اکابر کی جو عبارتیں قبروں پر پھول ڈالنے کے خلافِ سنت ہونے پر نقل کی ہیں، ان کا کیا اعتبار ہے؟

راقم الحروف کو علم کا دعویٰ ہے نہ کتاب فہمی کا، معمولی طالب ہے، اور طالب علموں کی صفِ نعال میں جگہ مل جانے کو فخر وسعادت سمجھتا ہے:

گرچہ از نیکاں نیم لیکن بہ نیکاں بستہ ام

در ریاض آفرنیش رشتۂ گلدستہ ام

مگر شاہ صاحب نے اصل موضوع سے ہٹ کر بلاوجہ ’’کتاب فہمی‘‘کی بحث شروع کردی ہے، اس لئے چند اُمور پیش خدمت ہیں:

اوّل:۔ شاہ صاحب کو شکایت ہے کہ میں نے علامہ عینیؒ کی عبارت کا نہ مفہوم سمجھا، نہ ترجمہ صحیح کیا ہے۔ میں اپنا اور شاہ صاحب کا ترجمہ دونوں نقل کئے دیتا ہوں، ناظرین دونوں کا موازنہ کرکے دیکھ لیں کہ میرے ترجمہ میں کیا سقم تھا۔

شاہ صاحب کا ترجمہ:

’’اور اسی طرح (اس کا بھی انکار کیا ہے) جو اکثر لوگ کرتے ہیں۔ یعنی تر اشیاء مثلاً: پھول اور سبزیاں وغیرہ قبروں پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ کچھ نہیں اور بے شک سنت گاڑنا ہے۔‘‘

راقم الحروف کا ترجمہ:

’’اسی طرح جو فعل کہ اکثر لوگ کرتے ہیں، یعنی پھول اور سبزہ وغیرہ رطوبت والی چیزیں قبروں پر ڈالنا، یہ کوئی چیز نہیں (لَيْسَ بِشَيْءٍ) سنت اگر ہے تو صرف شاخ کا گاڑنا ہے۔‘‘

اس امر سے قطع نظر کہ ان دونوں ترجموں میں سے کون سا سلیس ہے اور کس میں گنجلک ہے؟ کون سا اصل عربی عبارت کے قریب تر ہے اور کون سا نہیں؟ آخر دونوں کے مفہوم میں بنیادی فرق کیا ہے؟ دونوں سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ شاخ کا گاڑنا تو سنت ہے مگر پھول اور سبزہ وغیرہ ڈالنا کوئی سنت نہیں، اس ہیچ مدان کے ترجمے میں شاہ صاحب کو کیا سقم نظر آیا؟ جس کے لئے وہ اہلِ علم سے انصاف طلبی فرماتے ہیں۔

دوم:۔ اس عبارت کے آخری جملے ’’وَإِنَّمَا السُّنَّةُ الْغَرْزُ‘‘ کا ترجمہ موصوف نے یہ فرمایا: ’’اور بے شک سنت گاڑنا ہے‘‘ حالانکہ عربی کے طالب علم جانتے ہیں کہ ’’إِنَّمَا‘‘ کا لفظ حصر کے لئے ہے، جو بیک وقت ایک شے کی نفی اور دُوسری شے کے اثبات کا فائدہ دیتا ہے۔ اسی حصر کے اظہار کے لئے راقم الحروف نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ: ’’سنت اگر ہے تو صرف شاخ کا گاڑنا ہے‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ پھول اور سبزہ وغیرہ تر اشیاء ڈالنا کوئی سنت نہیں، صرف شاخ کا گاڑنا سنت ہے۔ لیکن شاہ صاحب ’’إِنَّمَا‘‘ کا ترجمہ ’’بے شک‘‘ فرماتے ہیں۔ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ! اور لطف یہ کہ اُلٹا راقم الحروف کو ڈانٹتے ہیں کہ تو نے ترجمہ غلط کیا ہے۔

سوم:۔ جس عبارت کا میں نے ترجمہ نقل کیا تھا، شاہ صاحب نے اس کے ماقبل و مابعد کی عبارت بھی نقل فرمادی۔ حالانکہ اس کو ’’قبروں پر پھول‘‘ کے زیرِ بحث مسئلے سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن ان سے افسوسناک تسامح یہ ہوا کہ انہوں نے ’’وَكَذٰلِكَ مَا يَفْعَلُهُ أَكْثَرُ النَّاسِ‘‘ سے لے کر آخر عبارت ’’فَافْہَمْ‘‘ تک کو اِمام خطابیؒ کی عبارت سمجھ لیا ہے، حالانکہ یہ اِمام خطابیؒ کی عبارت نہیں، بلکہ علامہ عینیؒ کی عبارت ہے۔ اِمام خطابیؒ کا حوالہ انہوں نے صرف ’’وَضْعُ الْيَابِسِ الْجَرِيْدِ‘‘ کے لئے دیا ہے۔ حدیث کے کسی طالبِ علم کے سامنے یہ عبارت رکھ دیجئے، اس کا فیصلہ یہی ہوگا۔ کیونکہ اوّل تو ہر مصنف کا طرزِ نگارش ممتاز ہوتا ہے، اِمام خطابیؒ جو چوتھی صدی کے شخص ہیں، ان کا یہ طرزِ تحریر ہی نہیں، بلکہ صاف طور پر یہ علامہ عینیؒ کا اندازِ نگارش ہے۔ علاوہ ازیں اِمام خطابیؒ کی معالم السنن موجود ہے، جن جن حضرات نے اِمام خطابیؒ کا حوالہ دیا ہے وہ ’’معالم‘‘ ہی سے دیا ہے، شاہ صاحب تھوڑی سی زحمت اس کے دیکھنے کی فرمالیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اِمام خطابیؒ نے کیا لکھا ہے اور حافظ عینیؒ نے ان کا حوالہ کس حد تک دیا ہے؟ ان تمام اُمور سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر ’’وَكَذٰلِكَ مَا يَفْعَلُهُ أَكْثَرُ النَّاسِ ۔۔۔ الخ‘‘ کی عبارت کو ’’أَنْكَرَهُ الْخَطَّابِيُّ‘‘ کے تحت داخل کیا جائے (جیسا کہ شاہ صاحب کو خوش فہمی ہوئی ہے) تو عبارت قطعی بے جوڑ بن جاتی ہے، شاہ صاحب ذرا مبتدا و خبر کی رعایت رکھ کر اس عبارت پر ایک بار پھر غور فرمالیں اور حدیث کے کسی طالبِ علم سے بھی اِستصواب فرمالیں۔

چہارم:۔ یہ تو شاہ صاحب کے جائزہ کتاب فہمی کی بحث تھی، اب ذرا ان کے ’’صحیح ترجمہ‘‘ پر بھی غور فرمالیا جائے۔

حافظ عینیؒ کی عبارت ہے:

’’وَمِنْهَا: أَنَّهُ قِيْلَ هَلْ لِلْجَرِيْدِ مَعْنًى يُخَصُّهُ فِي الْغَرْزِ عَلَى الْقَبْرِ لِتَخْفِيْفِ الْعَذَابِ؟ اَلْجَوَابُ: إِنَّهُ لَا مَعْنًى يُخَصُّهُ، بَلِ الْمَقْصُوْدُ أَنْ يَكُوْنَ مَا فِيْهِ رُطُوْبَةٌ مِنْ أَيِّ شَجَرٍ كَانَ۔ وَلِهٰذَا أَنْكَرَ الْخَطَّابِيُّ وَمَنْ تَبِعَهُ وَضْعَ الْجَرِيْدِ الْيَابِسِ۔‘‘ (عمدۃ القاری ج:۳ ص:۱۲۱ طبع دار الفکر، بیروت)

شاہ صاحب اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:

’’اس حدیث سے متعلق مسائل میں سے یہ بھی ہے کہ بعض حضرات یہ دریافت کرتے ہیں کہ تخفیفِ عذاب کے لئے قبر پر خصوصی طور پر شاخ ہی کا گاڑنا ہے؟

تو جواب یہ ہے کہ شاخ کی کوئی خصوصیت نہیں، بلکہ ہر وہ چیز جس میں رطوبت ہو، مقصود ہے۔ خطابیؒ اور ان کے متبعین نے خشک شاخ کے قبر پر رکھنے کا انکار کیا ہے ۔۔ الخ۔‘‘

شاہ صاحب کا یہ ترجمہ کس قدر پُرلطف ہے؟ اس کا اصل ذائقہ تو عربی دان ہی اُٹھاسکتے ہیں! تاہم چند لطیفوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔

الف:۔ علامہ عینیؒ نے اس حدیث سے متعلقہ احکام و مسائل ص:۱۱۸ سے ص:۱۲۱ تک ’’بَيَانُ اسْتِنْبَاطِ الْأَحْكَامِ‘‘ کے عنوان سے بیان فرمائے ہیں، اور ص:۱۲۰ سے ص:۱۲۱ تک’’الأَسْئِلَةُ وَالأَجْوِبَةُ‘‘ کا عنوان قائم کرکے اس حدیث سے متعلق چند سوال و جواب ذکر کئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک سوال و جواب وہ ہے جو شاہ صاحب نے نقل کیا ہے۔ آپ ’’مِنْہَا‘‘ کا ترجمہ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث سے متعلقہ مسائل میں سے یہ بھی ہے‘‘ شاہ صاحب غور فرمائیں کہ کیا یہاں ’’حدیث کے مسائل‘‘ ذکر کئے جارہے ہیں۔۔؟

ب:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معذَّب قبروں پر ’’جرید‘‘ نصب فرمائی تھی، اور ’’جرید‘‘ شاخِ خرما کو کہا جاتا ہے۔ علامہ عینیؒ نے جو سوال اُٹھایا وہ یہ تھا کہ کیا شاخِ کھجور میں کوئی ایسی خصوصیت ہے جو دفعِ عذاب کے لئے مفید ہے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصب فرمایا؟ یا یہ مقصود ہر درخت کی شاخ سے حاصل ہوسکتا تھا؟ علامہ عینیؒ جواب دیتے ہیں کہ: نہیں! شاخِ کھجور کی کوئی خصوصیت نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ تر شاخ ہو، خواہ کسی درخت کی ہو۔ یہ تو تھا علامہ عینیؒ کا سوال و جواب۔ ہمارے شاہ صاحب نے سوال وجواب کا مدعا نہیں سمجھا، اس لئے شاہ صاحب سوال و جواب کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:

’’بعض حضرات یہ دریافت کرتے ہیں کہ تخفیفِ عذاب کے لئے قبر پر خصوصی طور پر شاخ ہی کا گاڑنا ہے؟

تو جواب یہ ہے کہ شاخ میں کوئی خصوصیت نہیں بلکہ ہر وہ چیز جس میں رطوبت ہو، مقصود ہے۔‘‘

اگر شاہ صاحب نے مجمع البحار یا لغت حدیث کی کسی اور کتاب میں ’’جرید‘‘ کا ترجمہ دیکھ لیا ہوتا یا شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ کی شرح مشکوٰۃ سے اس حدیث کا ترجمہ ملاحظہ فرمالیا ہوتا تو ان کو علامہ عینیؒ کے سوال و جواب کے سمجھنے میں اُلجھن پیش نہ آتی، اور وہ یہ ترجمہ نہ فرماتے۔

اور اگر شدّتِ مصروفیت کی بنا پر انہیں کتابوں کی مراجعت کا موقع نہیں ملا تو کم از کم اتنی بات پر تو غور فرمالیتے کہ اگر علامہ عینیؒ کا مدعا یہ ہوتا کہ شاخ کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ ہر رطوبت والی چیز سے یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے تو اگلے ہی سانس میں وہ پھول وغیرہ ڈالنے کو ’’لَیْسَ بِشَیْءٍ‘‘ کہہ کر اس کی نفی کیوں کرتے؟ ترجمہ کرتے ہوئے تو یہ سوچنا چاہئے تھا کہ علامہؒ کے یہ دونوں جملے آپس میں ٹکرا کیوں رہے ہیں؟

ج:۔ چونکہ شاہ صاحب کے خیالِ مبارک میں علامہ عینیؒ شاخ کی خصوصیت کی نفی کرکے ہر رطوبت والی چیز کو مقصود قرار دے رہے ہیں، اس لئے انہوں نے علامہؒ کی عبارت سے ’’مِنْ أَيِّ شَجَرٍ كَانَ‘‘ کا ترجمہ ہی غائب کردیا۔

د:۔ پھر علامہ عینیؒ نے ’’وَلِهٰذَا أَنْكَرَ الْخَطَّابِيُّ‘‘ کہہ کر اپنے سوال و جواب پر تفریع پیش کی تھی، شاہ صاحب نے ’’لِھٰذَا‘‘ کا ترجمہ بھی حذف کردیا، جس سے اس جملے کا ربط ہی ماقبل سے کٹ گیا۔

ہ:۔ ’’وَكَذٰلِكَ مَا يَفْعَلُهُ أَكْثَرُ النَّاسِ‘‘ سے علامہ عینیؒ نے اس سوال و جواب کی دُوسری تفریع ذکر فرمائی تھی، ہمارے شاہ صاحب نے اسے اِمام خطابیؒ کے انکار کے تحت درج کرکے ترجمہ یوں کردیا: ’’اور اسی طرح اس کا بھی انکار کیا ہے جو اکثر لوگ کرتے ہیں‘‘ اس ترجمہ میں ’’اس کا بھی انکار کیا ہے‘‘ کے الفاظ شاہ صاحب کا خود اپنا اضافہ ہے۔

و:۔ علامہ عینیؒ نے قبروں پر پھول وغیرہ ڈالنے کو ’’لَیْسَ بِشَيْءٍ‘‘ (یہ کوئی چیز نہیں) کہہ کر فرمایا تھا: ’’إِنَّمَا السُّنَّةُ الْغَرْزُ‘‘ یعنی ’’سنت صرف شاخ کا گاڑنا ہے‘‘ اس پر ایک اعتراض ہوسکتا تھا، اس کا جواب دے کر اس کے آخر میں فرماتے ہیں: ’’فَافْھَمْ‘‘ جس میں اشارہ تھا کہ اس جواب پر مزید سوال و جواب کی گنجائش ہے۔ مگر ہمارے شاہ صاحب چونکہ یہ سب کچھ اِمام خطابیؒ کے نام منسوب فرما رہے ہیں، اس لئے وہ بڑے جوش سے فرماتے ہیں:

’’پھر بے چارے خطابی نے بحث کے اختتام پر ’’فَافْھَمْ‘‘ کے لفظ کا اضافہ بھی کیا مگر افسوس کہ مولانا صاحب موصوف نے اس طرف توجہ نہ فرمائی۔‘‘

یہ ناکارہ، جناب شاہ صاحب کے توجہ دِلانے پر متشکر ہے، کاش! شاہ صاحب خود بھی توجہ کی زحمت فرمائیں کہ وہ کیا سے کیا سمجھ اور لکھ رہے ہیں۔

شاید علامہ عینیؒ کا یہ ’’فَافْھَمْ‘‘ بھی اِلہامی تھا، حق تعالیٰ شانہ‘ کو معلوم تھا کہ علامہ عینیؒ کے ۵۴۵ سال بعد ہمارے شاہ صاحب، علامہؒ کی اس عبارت کا ترجمہ فرمائیں گے، اس لئے ان سے’’فَافْھَمْ‘‘ کا لفظ لکھوادیا، تاکہ شاہ صاحب، علامہؒ کی اس وصیت کو پیشِ نظر رکھیں اور ان کی عبارت کا ترجمہ ذرا سوچ سمجھ کر کریں۔

پنجم:۔ ’’کتاب فہمی‘‘ اور ’’صحیح ترجمہ‘‘ کے بعد اب شاہ صاحب کے طریقِ استدلال پر بھی نظر ڈال لی جائے، موصوف نے علامہ عینیؒ کی مندرجہ بالا عبارت سے چند فوائد اس تمہید کے ساتھ اخذ کئے ہیں:

’’مذکورہ بالا ترجمے سے لدھیانوی صاحب کی کتاب فہمی اور طریقِ استدلال کا اندازہ ہوجائے گا۔ لیکن ناظرین کے لئے چند اُمور درج ذیل ہیں۔‘‘

۱:۔ شاہ صاحب نمبر:۱ کے تحت لکھتے ہیں:

’’شاخ لگانا ہی مسنون نہیں، اس چیز کو تر ہونا چاہئے۔ لہٰذا خشک چیز کا لگانا مسنون نہیں، البتہ شاخیں سبز اور پھول تر ہونے کے باعث مسنون ہیں۔‘‘

پھول ڈالنے کا مسنون ہونا علامہ عینیؒ کی عبارت سے اخذ کیا جارہا ہے، جبکہ ان کی عبارت کا ترجمہ خود شاہ صاحب نے یہ کیا ہے:

’’اور اسی طرح اس کا بھی انکار کیا ہے جو اکثر لوگ کرتے ہیں یعنی تر اشیاء مثلاً پھول اور سبزیاں وغیرہ قبروں پر ڈال دیتے ہیں، یہ کچھ نہیں اور بے شک سنت گاڑنا ہے۔‘‘

پھول اور سبزہ وغیرہ تر اشیاء قبر پر ڈالنے کو علامہ عینیؒ خلافِ سنت اور لَيْسَ بِشَيْءٍ فرماتے ہیں، لیکن شاہ صاحب کا اچھوتا طریقِ استدلال اس عبارت سے پھولوں کا مسنون ہونا نکال لیتا ہے۔ شاید شاہ صاحب کی اصطلاح میں ’’لَيْسَ بِشَيْءٍ‘‘ (کچھ نہیں، کوئی چیز نہیں) کے معنی ہیں: ’’مسنون چیز‘‘۔

۲:۔ شاہ صاحب کا فائدہ نمبر:۲ اس سے بھی زیادہ دِلچسپ ہے کہ:

’’وضع یعنی ڈالنا مسنون نہیں بلکہ غرز یعنی گاڑنا مسنون ہے، اور خطابی نے انکار پھولوں اور سبزیوں کے ڈالنے کا کیا ہے نہ کہ گاڑنے کا جیسا کہ اگلی عبارتوں سے ظاہر ہے، اس طرح دو بنیادی اشیاء مسنون ہیں: ایک تو رطب ہونا، دُوسرے غرز۔‘‘

شاہ صاحب کی پریشانی یہ ہے کہ علامہ عینیؒ (اور شاہ صاحب کے بقول اِمام خطابیؒ) تو پھولوں کے ڈالنے کو لَيْسَ بِشَيْءٍ اور غیرمسنون فرما رہے ہیں، اور شاہ صاحب کو بہرحال پھولوں کا مسنون ہونا ثابت کرنا ہے، اس لئے اپنے مخصوص اندازِ استدلال سے ان کے قول کی کیا خوبصورت تأویل فرماتے ہیں کہ خطابیؒ کے بقول پھولوں کا ڈالنا تو مسنون نہیں، ہاں! ان کا گاڑنا ان کے نزدیک بھی مسنون ہے۔ اللّٰهُ الصَّمَدُ!

شاہ صاحب نے کرنے کو تو تأویل کردی لیکن اوّل تو یہ نہیں سوچا کہ ہماری بحث بھی تو پھولوں کے ڈالنے ہی سے متعلق ہے، اور اس کا غیرمسنون ہونا جناب نے خود ہی رقم فرمادیا۔ پس اگر اس ناکارہ نے قبر پر پھول ڈالنے کو خلافِ سنت کہا تھا تو کیا جرم کیا۔۔۔؟

پھر اس پر بھی غور نہیں فرمایا کہ جو حضرات اولیاء اللہ کے مزارات پر پھول ڈال کر آتے ہیں، وہ تو آپ کے ارشاد کے مطابق بھی خلافِ سنت فعل ہی کرتے ہیں، کیونکہ سنت ہونے کے لئے آپ نے دو بنیادی شرطیں تجویز فرمائی ہیں: ایک اس چیز کا رطب یعنی تر ہونا، اور دُوسرے اس کا گاڑنا، نہ کہ ڈالنا۔

پھر اس پر بھی غور نہیں فرمایا کہ قبر پر گاڑی تو شاخ جاتی ہے، پھولوں اور سبزیوں کو قبر پر کون گاڑا کرتا ہے؟ ان کو تو لوگ بس ڈالا ہی کرتے ہیں، پس جب پھولوں کا گاڑنا عادۃً ممکن ہی نہیں اور نہ کوئی ان کو گاڑتا ہے اور خود شاہ صاحب بھی لکھ رہے ہیں کہ کسی چیز کا قبر پر گاڑنا سنت ہے، ڈالنا سنت نہیں تو جناب کے اس فقرے کا آخر کیا مطلب ہوگا کہ:

’’خطابی نے انکار پھولوں اور سبزیوں کے ڈالنے کا کیا ہے نہ کہ گاڑنے کا۔‘‘

کیا کسی ملک میں شاہ صاحب نے قبروں پر پھولوں کے گاڑنے کا دستور دیکھا، سنا بھی ہے؟ اور کیا یہ ممکن بھی ہے؟ اگر نہیں تو بار بار غور فرمائیے کہ آخر آپ کا یہ فقرہ کوئی مفہومِ محصل رکھتا ہے۔۔۔؟

پھر جیسا کہ اُوپر عرض کیا گیا، شاہ صاحب یہ ساری باتیں اِمام خطابیؒ سے زبردستی منسوب کر رہے ہیں، ورنہ اِمام خطابیؒ کی عبارت میں پھولوں کے گاڑنے اور ڈالنے کی ’’باریک منطق‘‘ کا دُور دُور کہیں پتا نہیں۔ مناسب ہے کہ یہاں اِمام خطابیؒ کی اصل عبارت پیشِ خدمت کروں، شاہ صاحب اس پر غور فرمالیں، حدیث ’’جرید‘‘ کی شرح میں اِمام خطابیؒ لکھتے ہیں:

’’وَأَمَّا غَرْسُهُ شَقَّ الْعَسِيبِ عَلَى الْقَبْرِ، وَقَوْلُهُ: لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا، فَإِنَّهُ مِنْ نَاحِيَةِ التَّبَرُّكِ بِأَثَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُعَائِهِ بِالتَّخْفِيفِ عَنْهُمَا، وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ مُدَّةَ بَقَاءِ النَّدَاوَةِ فِيهِمَا حَدًّا لِمَا وَقَعَتْ بِهِ الْمَسْأَلَةُ مِنْ تَخْفِيفِ الْعَذَابِ عَنْهُمَا، وَلَيْسَ ذٰلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ فِي الْجَرِيدِ الرَّطْبِ مَعْنًى لَيْسَ فِي الْيَابِسِ، وَالْعَامَّةُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْبُلْدَانِ تُفْرِشُ الْخُوصَ فِي قُبُورِ مَوْتَاهُمْ، وَأَرَاهُمْ ذَهَبُوا إِلَى هٰذَا، وَلَيْسَ لِمَا تَعَاطَوْهُ مِنْ ذٰلِكَ وَجْهٌ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ!‘‘ (معالم السنن ج:۱ ص:۲۷ طبع المکتبۃ الأثریۃ، پاکستان)

ترجمہ:۔ ’’رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شاخِ خرما کو چیر کر قبر پر گاڑنا اور یہ فرمانا کہ: ’’شاید کہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو جب تک کہ یہ شاخیں خشک نہ ہوں‘‘ تو یہ تخفیف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اثر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعائے تخفیف کی برکت کی وجہ سے ہوئی، اور ایسا لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اِن قبروں کے حق میں تخفیف عذاب کی دُعا کی تھی، ان شاخوں میں تری باقی رہنے کی مدّت کو اس تخفیف کے لئے حد مقرّر کردیا گیا تھا، اور اس تخفیف کی یہ وجہ نہیں تھی کہ کھجور کی تر شاخ میں کوئی ایسی خصوصیت پائی جاتی ہے جو خشک میں نہیں پائی جاتی، اور بہت سے علاقوں کے عوام اپنے مُردوں کی قبروں میں کھجور کے پتے بچھادیتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ اسی کی طرف گئے ہیں (کہ تر چیز میں کوئی ایسی خصوصیت پائی جاتی ہے جو تخفیف عذاب کے لئے مفید ہے) حالانکہ جو عمل کہ یہ لوگ کرتے ہیں، اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم!‘‘

۳:۔ شاہ صاحب نے تیسرا اِفادہ عینیؒ کی عبات سے یہ اَخذ کیا ہے:

’’قبروں پر پھول ڈالنے کا سلسلہ کوئی نیا نہیں، بلکہ خطابیؒ کے زمانے سے چلا آتا ہے، اور یہ بھی نہیں کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہوں بلکہ خطابیؒ کا بیان ہے کہ یہ فعل ’’أَكْثَرُ النَّاسِ‘‘ کا ہے۔‘‘

شاہ صاحب اس نکتہ آفرینی سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خطابیؒ کے زمانے سے قبروں پر پھول چڑھانے پر سوادِ اعظم کا اِجماع ہے، اور اس ’’اِجماع‘‘ کے خلاف لب کشائی کرنا گویا اِلحاد و زَندقہ ہے، جس سے سوادِ اعظم کے معتقدات کو ٹھیس پہنچی ہے، مگر قبلہ شاہ صاحب اس نکتہ آفرینی سے پہلے مندرجہ ذیل اُمور پر غور فرمالیتے تو شاید انہیں اپنے طرزِ استدلال پر افسوس ہوتا۔

اوّلاً:۔ وہ جس عبارت پر اپنے اس نکتے کی بنیاد جما رہے ہیں، وہ اِمام خطابیؒ کی نہیں بلکہ علامہ عینیؒ کی ہے، اس لئے قبروں پر پھول چڑھانے کو اِمام خطابیؒ کے زمانے کے ’’أَكْثَرُ النَّاسِ‘‘ کا فعل ثابت کرنا بناء الفاسد علی الفاسد ہے، ہاں! یوں کہئے کہ اِمام خطابیؒ کے زمانے کے ’’عوام‘‘ مُردے کی قبر میں کھجور کے تر پتے بچھایا کرتے تھے، علامہ عینیؒ کے زمانے تک یہ سلسلہ کھجور کے پتوں سے گزر کر پھول چڑھانے تک پہنچ گیا۔

ثانیاً:۔ جب سے یہ سلسلہ عوام میں شروع ہوا اسی وقت سے علمائے اُمت نے اس پر نکیر کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ خطابیؒ نے ’’اس کی کوئی اصل نہیں‘‘ کہہ کر اس کے بدعت ہونے کا اعلان فرمایا اور علامہ عینیؒ نے ’’لَيْسَ بِشَيْءٍ‘‘ کہہ کر اس کو خلافِ سنت قرار دیا۔ کاش! کہ جناب شاہ صاحب بھی حضرات علمائے اُمت کے نقشِ قدم پر چلتے، او رعوام کے اس فعل کو بے اصل اور خلافِ سنت فرماتے۔ بہرحال! اگر جناب شاہ صاحب خطابیؒ یا عینیؒ کے زمانے کے عوام کی تقلید فرما رہے ہیں تو اس ناکارہ کو بحول اللہ وقوّتہ اکابر علمائے اُمت اور اَئمہ دِین کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعادت حاصل ہے اور وہ اِمام خطابیؒ اور علامہ عینیؒ کی طرح اس عامیانہ فعل کے خلافِ سنت ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔

جناب شاہ صاحب کو اگر تقلیدِ عوام پر فخر ہے تو یہ ہیچ مدان، اَئمۂ دِین کے اِتباع پر نازاں ہے اور اس پر شکر بجالاتا ہے، یہ اپنا اپنا نصیب ہے کسی کے حصے کیا آتا ہے:

ہر کسے را بہر کارے ساختند

ثالثاً:۔ جناب شاہ صاحب نے علامہ عینیؒ کی عبارت خطابیؒ کی طرف منسوب کرکے یہ سراغ تو نکال لیا کہ پھولوں کا چڑھانا خطابیؒ کے زمانے سے چلا آتا ہے، کاش! وہ کہیں سے یہ بھی ڈھونڈ لاتے کہ چوتھی صدی (خطابیؒ کے زمانے) کے عوام نے جو بدعتیں اِیجاد کی ہوں، وہ چودہویں صدی میں نہ صرف ’’سنت‘‘ بن جاتی ہیں، بلکہ اہلِ سنت کے عقائد و شعار میں بھی ان کو جگہ مل جاتی ہے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ!

جناب شاہ صاحب نے اگر میرا پہلا مضمون پڑھا ہے تو اِمام شہیدؒ کا ارشاد بھی ان کی نظر سے گزرا ہوگا جو اِمامِ ربانی مجدد الف ثانی ؒ نے فتاویٰ غیاثیہ سے نقل کیا ہے کہ متأخرین (جن کا دور چوتھی صدی سے شروع ہوتا ہے) کے اِستحسان کو ہم نہیں لیتے۔ غور فرمائیے! جس دور کے اکابر اہلِ علم کے اِستحسان سے بھی کوئی سنت ثابت نہیں ہوتی، شاہ صاحب اس زمانے کے عوام کی اِیجاد کردہ بدعات کو ’’سنت‘‘ فرما رہے ہیں اور اصرار کیا جارہا ہے کہ ان بدعات کے بارے میں اس زمانے کے اکابر اہلِ علم نے خواہ کچھ ہی فرمایا ہو، ہمیں اس کے دیکھنے کی ضرورت نہیں، چونکہ صدیوں سے عوام اس بدعت میں ملوّث ہیں، لہٰذا اس کو خلافِ سنت کہنا روا نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس ’’لاجواب منطق‘‘ سے شاہ صاحب نے اپنے ضمیر کو کیسے مطمئن کرلیا۔

رابعاً:۔ہمارے شاہ صاحب تو اِمام خطابیؒ کے زمانے کے عوام کو بطورِ حجت و دلیل پیش فرما رہے ہیں اور علمائے اُمت کی نکیر کے علی الرغم ان کے فعل سے سند پکڑ رہے ہیں۔ آئیے! میں آپ کو اس سے بھی دو صدی پہلے کے ’’عوام‘‘ کے بارے میں اہلِ علم کی رائے بتاتا ہوں۔

صاحبِ در مختار نے باب الاعتکاف سے ذرا پہلے یہ مسئلہ ذکر کیا ہے کہ اکثر عوام جو مُردوں کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہیں اور اولیاء اللہ کی قبور پر روپے پیسے اور شمع، تیل وغیرہ کے چڑھاوے ان کے تقرّب کی غرض سے چڑھاتے ہیں، یہ بالاجماع باطل و حرام ہے، اِلَّا یہ کہ فقراء پر صَرف کرنے کا قصد کریں۔(۳) اس ضمن میں انہوں نے ہمارے اِمام محمد بن الحسن الشیبانی مدوّنِ مذہبِ نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۸۹ھ) کا ارشاد نقل کیا ہے:

’’وَلَقَدْ قَالَ الْإِمَامُ مُحَمَّدٌ: لَوْ كَانَتِ الْعَوَامُّ عَبِيدِي لَأَعْتَقْتُهُمْ وَأَسْقَطْتُ وَلَائِي، وَذٰلِكَ لِأَنَّهُمْ لَا يَهْتَدُونَ، فَالْكُلُّ بِهِمْ يَتَعَيَّرُونَ۔‘‘ (درمختار ج:۲ ص:۴۴۰)

ترجمہ:۔ ’’اور اِمام محمدؒ نے فرمایا کہ: اگر عوام میرے غلام ہوتے تو میں ان کو آزاد کردیتا اور ان کو آزاد کرنے کی نسبت بھی اپنی طرف نہ کرتا، کیونکہ وہ ہدایت نہیں پاتے، اس لئے ہر شخص ان سے عار کرتا ہے۔‘‘

علامہ شامیؒ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:

’’اہلِ فہم پر مخفی نہیں کہ اِمامؒ کی مراد اس کلام سے عوام کی مذمت کرنا اور اپنی طرف ان کی کسی قسم کی نسبت سے دُوری اختیار کرنا ہے، خواہ ولاء (نسبت آزادی) کے ساقط کرنے سے ہو، جو قطعی طور پر ثابت ہے اور اس اظہارِ براء ت کا سبب عوام کا جہلِ عام ہے، اور ان کا بہت سے اَحکام کو تبدیل کردینا، اور باطل و حرام چیزوں کے ذریعہ تقرّب حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ پس ان کی مثال اَنعام کی سی ہے کہ اَعلام و اکابر اِن سے عار کرتے ہیں، اور ان عظیم شناعتوں سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۴۰)(۴)

یہ اِمام محمدؒ کے زمانے کے عوام ہیں جن کے افعال و بدعات سے امام محمدؒ اور دیگر اَعلام و اکابر براء ت کا اظہار فرماتے ہیں، لیکن اس کے دو صدی بعد کے عوام کی بدعات ہمارے شاہ صاحب کے لئے عین دِین بن جاتی ہیں اور بڑے اطمینان کے ساتھ فرماتے ہیں کہ پھول چڑھانے کا سلسلہ تو اِمام خطابیؒ کے دور سے چلا آتا ہے، اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ وہی عوام ہیں جن کے جہلِ عام اور تغیرِ اَحکام کی شکوہ سنجی ہمارے اَعلام و اکابر کرتے چلے آئے ہیں۔

یہ اس ناکارہ کے مضمون پر شاہ صاحب کی تنقیدات کے چند نمونے قارئین کی خدمت میں پیش کئے گئے ہیں، جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ شاہ صاحب اور ان کے ہم ذوق حضرات بدعات کی ترویج و اشاعت کے لئے کیسی کیسی تأویلات ایجاد فرماتے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ‘ سنت کے نور سے ہمارے دِل و دِماغ اور رُوح و قلب کو منوّر فرمائیں اور بدعات کی ظلمت و نحوست سے اپنی پناہ میں رکھیں۔

  1. (۱) عن عبداللہ قال: قال: کیف أنتم إذا لبستکم فتنۃ یھرم فیھا الکبیر، ویربو فیھا الصغیر، إذا ترک منھا شیء قیل ترکت السُّنَّۃ (وفیہ روایۃ متقدمۃ: فإذا غیرت قالوا: غیرت السُّنَّۃ) قال: ومتٰی ذاک؟ قال: إذا ذھبت علماؤکم وکثرت جھلاؤکم وکثرت قراؤکم، وقلت فقھاؤکم وکثرت أمراؤکم وقلت أمناؤکم والتمست الدنیا بعمل الآخرۃ وتفقہ لغیر الدین۔ (مسند دارمی ج:۱ ص:۵۸، باب تغیر الزمان وما یحدث فیہ، طبع نشر السُّنَّۃ ملتان، پاکستان)۔
  2. (۲) النیۃ بالْإجماع وھی الْإرادۃ والتلفظ عند الْإرادۃ بھا مستحب ھو المختار۔ (الدر المختار مع شرحہ ج:۱ ص:۴۱۵)۔
  3. (۳) واعلم أن بالنذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الدراھم والشمع ۔۔۔ فھو بالْإجماع باطل ۔۔۔ الخ۔ (درمختار ج:۲ ص:۴۳۹، قبیل باب الْإعتکاف)۔
  4. (۴) ولَا یخفی علٰی ذوی الأفھام أن مراد الْإمام بھٰذا الکلام انما ھو ذم العوام والتباعد عن نسبتھم الیہ بأی وجہ یرام ولو باسقاط الولَاء الثابت الْانبرام وذٰلک بسبب جھلھم العام وتغییرھم لکثیر من الأحکام، وتقربھم بما ھو باطل وحرام، فھم کالأنعام یتعیر بھم الأعلام، ویتبرؤن من شنائعھم العظام۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۴۰، مطلب فی النذر الذی یقع للأموات ۔۔۔إلخ)۔