بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

قبروں پر پھول ڈالنے کے بارے میں شاہ تراب الحق کا مؤقف

گزشتہ جمعہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۸۰ء روزنامہ جنگ میں سوالات و جوابات کے کالم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے قبروں پر پھول ڈالنے کو خلافِ سنت قرار دیا ہے۔ بحیثیت ایک سنی مذہبی خیالات رکھنے کے پیشِ نظر ہمارا فرض ہے کہ ہم صحیح مسئلے کی نشاندہی کریں۔ واضح ہو کہ قبر پر پھول ڈالنا قطعی خلافِ سنت نہیں ہے۔ جیسا کہ حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ: ان دونوں قبروں پر عذاب ہو رہا ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تر شاخ لی اور اس کو چیر کر دونوں قبروں پر ایک ایک گاڑ دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب تک یہ تر رہیں گی، ان پر عذاب میں کمی رہے گی۔ (مشکوٰۃ شریف باب آداب الخلاء فصل اوّل)

اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ: اس حدیث سے ایک جماعت نے دلیل پکڑی ہے کہ قبروں پر سبزی، پھول اور خوشبو ڈالنے کا جواز ہے۔ مُلَّا علی قاری نے مرقات میں اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا کہ مزاروں پر تر پھول ڈالنا سنت ہے۔ نیز علامہ عبدالغنی نابلسیؒ نے بھی ’’کشف النور‘‘ میں اس کی تصریح فرمائی۔ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں صفحہ:۳۶۴ میں ہے کہ: ہمارے بعض متأخرین اصحاب نے اس حدیث کی رُو سے فتویٰ دیا کہ خوشبو اور پھول قبر پر چڑھانے کی جو عادت ہے، وہ سنت ہے۔ فقہ حنفیہ کی مشہور و معروف کتاب فتاویٰ عالمگیری کتاب الکراہیت جلد پنجم، باب زیارت القبور میں قبروں پر پھول ڈالنے کو اچھا فعل لکھا ہے۔ نیز علامہ شامی نے بھی شامی میں جو فقہ حنفیہ کی معروف کتاب ہے، جلد اوّل بحث زیارت القبور میں اسے مستحب کہا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ قبروں پر پھول ڈالنے کو خلافِ سنت کہنا سخت جہالت اور علمِ دِین کی کتب احادیث و کتب فقہ سے نابلد ہونے کی دلیل ہے۔ ہمارے خیال میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کو اس قسم کی دِل آزاری والی بحث سے بچنا چاہئے اور جواب دینے والوں کو بھی تنبیہ کردینا چاہئے۔ شاہ تراب الحق قادری

مسئلے کی تحقیق یعنی قبروں پر پھول ڈالنا بدعت ہے

سوال:۔

روزنامہ ’’جنگ‘‘ ۱۲؍دسمبر کی اشاعت میں آپ نے جو ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا کہ: ’’قبروں پر پھول چڑھانا خلافِ سنت ہے‘‘ ۱۹؍دسمبر کی اشاعت میں ایک صاحب شاہ تراب الحق قادری نے آپ کو جاہل اور کتاب و سنت سے بے بہرہ قرار دیتے ہوئے اس کو سنت لکھا ہے، جس سے کافی لوگ تذبذب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ براہ کرم یہ خلجان دُور کیا جائے۔

جواب:۔

اس مسئلے کی تحقیق کے لئے چند اُمور کا پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے:

۱:۔ ’’سنت‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معمول کو کہتے ہیں۔(۱) خلفائے راشدینؓ اور صحابہؓ و تابعینؒ کے عمل کو بھی سنت کے ذیل میں شمار کیا جاتا ہے۔(۲) جو عمل خیرالقرون کے بعد اِیجاد ہوا ہو وہ سنت نہیں کہلاتا۔ قبروں پر پھول ڈالنا اگر ہمارے دِین میں سنت ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ اس پر عمل پیرا ہوتے، لیکن پورے ذخیرۂ حدیث میں ایک روایت بھی نہیں ملتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی خلیفہ راشد، کسی صحابیؓ یا تابعیؒ نے قبروں پر پھول چڑھائے ہوں، اس لئے یہ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نہ خلفائے راشدینؓ کی، نہ صحابہؓ کی، نہ تابعینؒ کی۔

۲:۔ ہمارے دِین میں قرآن و حدیث اور اِجماعِ اُمت کے بعد اَئمہ مجتہدین کا اِجتہاد بھی شرعی حجت ہے۔ پس جس عمل کو کسی اِمامِ مجتہد نے جائز یا مستحسن قرار دیا ہو، وہ بھی سنت ہی سے ثابت شدہ چیز سمجھی جائے گی۔ قبروں پر پھول چڑھانے کو کسی اِمامِ مجتہد نے بھی مستحب قرار نہیں دیا۔ فقہِ حنفی کی تدوین ہمارے اِمامِ اعظمؓ اور ان کے عالی مرتبت شاگردوں کے زمانے سے شروع ہوئی، اور ہمارے اَئمہ فقہاء نے تمام سنن و آداب کو ایک ایک کرکے مدوّن فرمایا، مگر ہمارے پورے فقہی ذخیرے میں کسی اِمام کا یہ قول ذکر نہیں کیا گیا کہ قبروں پر پھول چڑھانا بھی سنت ہے یا مستحب ہے، اور نہ کسی اِمام و فقیہ سے یہ منقول ہے کہ انہوں نے کسی قبر پر پھول چڑھائے ہوں۔

۳:۔ جیسا کہ علامہ شامیؒ نے لکھا ہے، تین صدیوں کے بعد سے متأخرین کا دور شروع ہوتا ہے، یہ حضرات خود مجتہد نہیں تھے،(۳) بلکہ اَئمہ مجتہدین کے مقلد تھے، ان کے اِستحسان سے کسی فعل کا سنت یا مستحب ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ چنانچہ اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانیؒ مکتوباتِ شریفہ میں فتاویٰ غیاثیہ سے نقل کرتے ہیں کہ:(۴)

’’شیخ اِمام شہیدؒ نے فرمایا کہ: ہم مشائخِ بلخ کے اِستحسان کو نہیں لیتے، بلکہ ہم صرف اپنے متقدمین اَصحاب کے قول کو لیتے ہیں، کیونکہ کسی علاقے میں کسی چیز کا رواج ہوجانا اس کے جواز کی دلیل نہیں۔ جواز کی دلیل وہ تعامل ہے جو صدرِ اوّل (زمانۂ خیرالقرون) سے چلا آتا ہو، تاکہ یہ دلیل ہو اس بات کی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس عمل پر برقرار رکھا تھا، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہی تشریح ہوگی، لیکن جو تعامل کہ صدرِ اوّل سے متواتر چلا نہ آتا ہو تو بعد کے لوگوں کا فعل حجت نہیں، اِلَّا یہ کہ اس پر تمام ملکوں کے تمام انسانوں کا تعامل ہو، یہاں تک کہ اِجماع ہوجائے اور اِجماع حجت ہے۔ دیکھئے! اگر لوگوں کا تعامل شراب فروشی یا سودخوری پر ہوجائے تو اس کے حلال ہونے کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔‘‘ (مکتوب:۵۴ دفتر دوم)

اِمام شہیدؒ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ اگر مشائخِ متأخرین نے قبروں پر پھول چڑھانے کے اِستحسان کا فتویٰ دیا ہوتا، تب بھی ہم اس فعل کو ’’سنت‘‘ نہیں کہہ سکتے تھے۔ لیکن ہمارے متأخرین مشائخ میں سے بھی کسی نے کبھی قبروں پر پھول چڑھانے کے جواز یا اِستحسان کا فتویٰ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مُلَّا علی قاریؒ اور علامہ شامیؒ نے متأخرینِ شافعیہ کا فتویٰ تو نقل کیا ہے (جیسا کہ آگے معلوم ہوگا) مگر انہیں کسی حنفی فقیہ کا متأخرین میں سے کوئی بھی قول نہیں مل سکا۔ اب انصاف کیا جاسکتا ہے کہ جو عمل نہ تو صاحبِ شریعت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، نہ صحابہؓ و تابعینؒ سے، نہ ہمارے اَئمہ مجتہدینؒ سے، نہ ہمارے متقدمین و متأخرین سے، کیا اس کو سنت کہا جاسکتا ہے۔؟

۴:۔ شاہ صاحب نے مشکوٰۃ آداب الخلاء(۵) سے جو حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قبروں پر شاخیں گاڑی تھیں، اس سے عام قبروں پر پھول چڑھانے کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ حدیث میں صراحت ہے کہ یہ شاخیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں یا گناہگار مسلمانوں کی ایسی قبروں پر گاڑی تھیں جو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب کا مورد تھیں۔ عام قبروں پر شاخیں گاڑنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا معمول نہیں تھا۔

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاملہ شاذ و نادر فساق کی مقہور و معذَّب قبروں کے ساتھ فرمایا، وہی سلوک اولیاء اللہ کی قبورِ طیبہ کے ساتھ روا رکھنا، ان اکابر کی سخت اہانت ہے اور پھر اس کو ’’سنت‘‘ کہنا ستم بالائے ستم ہے۔ سنت تو جب ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ گاروں کی قبروں کے بجائے (جن کا معذَّب ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیٔ قطعی سے معلوم ہوگیا تھا) اپنے چہیتے چچا سیّد الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ یا اپنے لاڈلے اور محبوب بھائی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ یا کسی اور مقدس صحابیؓ کی قبر سے یہ سلوک فرمایا ہوتا۔

۵:۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ان قبروں کا معذَّب ہونا وحیٔ قطعی سے معلوم ہوگیا تھا، اور جیسا کہ صحیح مسلم (ج:۲ ص:۴۱۸) میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تصریح ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے شفاعت فرمائی تھی اور قبولیتِ شفاعت کی مدّت کے لئے بطورِ علامت شاخیں نصب فرمائی تھیں۔(۶) اس لئے اوّل تو یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے اور اس کا شمار معجزاتِ نبوی میں کیا جاتا ہے۔(۷) بالفرض کوئی شخص اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت اور معجزہ تسلیم نہ کرے، تب بھی اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ جس شخص کو کسی قطعی ذریعے سے کسی قبر کا معذَّب و مقہور ہونا معلوم ہوجائے اور وہ شفاعت کی اہلیت بھی رکھتا ہو، وہ بطورِ علامت قبر پر شاخیں نصب کرسکتا ہے، لیکن اس حدیث سے عام قبروں پر شاخیں گاڑنے اور پھول چڑھانے کا سنتِ نبوی ہونا کسی طرح ثابت نہیں ہوتا، اور نہ اس مضمون کا اس حدیث سے کوئی دُور کا تعلق ہے۔ حافظ بدر الدین عینیؒ عمدۃ القاری شرح بخاری میں لکھتے ہیں:

’’اسی طرح جو فعل کہ اکثر لوگ کرتے ہیں یعنی پھول اور سبزہ وغیرہ رطوبت والی چیزیں قبروں پر ڈالنا، یہ کوئی چیز نہیں (لَيْسَ بِشَيْءٍ)، سنت اگر ہے تو صرف شاخ کا گاڑنا ہے۔‘‘(۸)

۶:۔ شاہ صاحب نے حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ کی اشعۃ اللمعات کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’ایک جماعت نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ قبروں پر سبزی اور پھول اور خوشبو ڈالنے کا جواز ہے۔‘‘

کاش! جناب شاہ صاحب یہ بھی لکھ دیتے کہ حضرت شیخ محدث دہلویؒ نے اس قول کو نقل کرکے آگے اس کو اِمام خطابیؒ کے قول سے رَدّ بھی کیا ہے، حضرت شیخ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اِمام خطابیؒ نے، جو اَئمۂ علم اور قدوۂ شراحِ حدیث میں سے ہیں، اس قول کو رَدّ کیا ہے اور اس حدیث سے تمسّک کرتے ہوئے قبروں پر سبزہ اور پھول ڈالنے سے انکار کیا ہے، اور فرمایا کہ یہ بات کوئی اصل نہیں رکھتی، اور صدرِ اوّل میں نہیں تھی۔‘‘(۹) (اشعۃ اللمعات ج:۱ ص:۲۱۵ طبع رشیدیہ کوئٹہ)

پس شیخ رحمہ اللہ نے چند مجہول الاسم لوگوں سے جو جواز نقل کیا ہے، اس کو تو نقل کردینا اور ’’اَئمہ اہلِ علم و قدوۂ شراحِ حدیث‘‘ کے حوالے سے ’’این سخن اصلے ندارد در صدرِ اوّل نبود‘‘ کہہ کر جو اس کے بدعت ہونے کی تصریح کی ہے، اس سے چشم پوشی کرلینا، اہلِ علم کی شان سے نہایت بعید ہے۔۔۔!

اور پھر حضرت شیخ محدث دہلویؒ نے ’’لمعات التنقیح‘‘ میں حنفیہ کے اِمام حافظ فضل اللہ تورپشتی ؒسے اسی قول کے بارے میں جو یہ نقل فرمایا ہے:

’’قَوْلٌ لَا طَائِلَ تَحْتَهُ، وَلَا عِبْرَةَ بِهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ۔‘‘ (ج:۲ ص:۴۴)

ترجمہ:۔ ’’یہ ایک بے مغز و بے مقصد قول ہے، اور اہلِ علم کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘

کاش! شاہ صاحب اس پر بھی نظر فرمالیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ حضرت محدث دہلویؒ قبروں پر پھول چڑھانے کا جواز نہیں نقل کرتے، بلکہ اسے بے اصل بدعت اور بے مقصد اور ناقابلِ اعتبار بات قرار دیتے ہیں۔

۷:۔ شاہ صاحب نے مُلَّا علی قاریؒ کی مرقات کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ: ’’مزاروں پر پھول ڈالنا سنت ہے‘‘ یہاں بھی شاہ صاحب نے شیخ علی قاریؒ کی آگے پیچھے کی عبارت دیکھنے کی زحمت نہیں فرمائی۔ مُلَّا علی قاریؒ نے مزاروں پر پھول چڑھانے کو سنت نہیں کہا، بلکہ اِمام خطابی شافعیؒ کے مقابلے میں ابنِ حجر شافعیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ: ’’ہمارے (شافعیہ کے) بعض متأخرین اَصحاب نے اس کے سنت ہونے کا فتویٰ دیا ہے(۱۰)‘‘ اِمام خطابیؒ اور اِمام نوویؒ کے مقابلے میں ان متأخرین شافعیہ کی، جن کا حوالہ ابنِ حجر شافعیؒ نقل کر رہے ہیں، جو قیمت ہے وہ اہلِ علم سے مخفی نہیں، تاہم یہ شافعیہ کے متأخرین کا قول ہے، اَئمہ حنفیہ میں سے کسی نے اس کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا، نہ متقدمین علمائے دِین نے اور نہ مُلَّا علی قاریؒ نے ہی کسی حنفی کا فتویٰ نقل کیا ہے۔ متأخرین حنفیہ میں سے اِمام حافظ فضل اللہ تورپشتی ؒکا قول اُوپر گزرچکا ہے کہ یہ بے مغز بات ہے اور یہ کہ اہلِ علم کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ نیز علامہ عینیؒ کا قول گزرچکا ہے کہ قبروں پر پھول وغیرہ ڈالنا کوئی سنت نہیں۔

۸:۔ شاہ صاحب نے ایک حوالہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح سے نقل کیا ہے۔ علامہ طحطاویؒ نے جو کچھ لکھا ہے وہ ’’فِیْ شَرْحِ الْمِشْکَاۃِ‘‘ کہہ کر مُلَّا علی قاریؒ کے حوالے سے لکھا ہے،(۱۱) اس لئے اس کو مستقل حوالہ کہنا ہی غلط ہے، البتہ اس میں یہ تصرف ضرور کردیا گیا ہے کہ شرحِ مشکوٰۃ میں ابنِ حجرؒ سے بعض متأخرین اَصحابِ شافعیہ کا قول نقل کیا ہے، جسے شاہ صاحب کے حوالے میں ’’اسے ہمارے بعض متأخرین اصحاب نے اس حدیث کی رُو سے فتویٰ دیا‘‘ کہہ کر اسے متأخرین حنفیہ کی طرف منسوب کردیا گیا، گویا شرح مشکوٰۃ کے حوالے سے کچھ کا کچھ بنادیا ہے۔

۹:۔ شاہ صاحب نے ایک حوالہ علامہ شامیؒ کی ردّ المحتار سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس کو مستحب لکھا ہے۔ یہاں بھی شاہ صاحب نے نقل میں افسوس ناک تساہل پسندی سے کام لیا ہے۔

علامہ شامیؒ نے ایک مسئلے کے ضمن میں حدیثِ جرید نقل کرکے لکھا ہے کہ:

’’اس مسئلے سے اور اس حدیث سے قبر پر شاخ رکھنے کا استحباب بطورِ اتباع کے اخذ کیا جاتا ہے اور اس پر قیاس کیا جاتا ہے آس وغیرہ کی شاخیں رکھنے کو، جس کی ہمارے زمانے میں عادت ہوگئی ہے اور شافعیہ کی ایک جماعت نے اس کی تصریح بھی کی ہے اور یہ اَوْلیٰ ہے بہ نسبت بعض مالکیہ کے قول کے، کہ ان قبروں سے عذاب کی تخفیف بہ برکت دستِ نبوی کے تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کی برکت سے، پس اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔‘‘(۱۲)

علامہ شامیؒ کی اس عبارت میں قبروں پر پھول ڈالنے کا استحباب کہیں ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ بطورِ اتباع کھجور کی شاخ گاڑنے کا استحباب اخذ کیا گیا ہے، اور آس وغیرہ کی شاخیں گاڑنے کو اس پر قیاس کیا گیا ہے، اور اس کی علت بھی وہی ذکر کی ہے، جو اِمام تورپشتی ؒکے بقول ’’لا طائل اور اہل علم کے نزدیک غیرمعتبر ہے‘‘ پس جبکہ ہمارے اَئمہ اس علت کو رَدّ کرچکے ہیں تو اس پر قیاس کرنا بھی مردود ہوگا۔

علامہ شامیؒ نے بھی بعض شافعیہ کے فتوے کا ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اَئمہ اَحناف میں سے کسی کا فتویٰ علامہ شامیؒ کو بھی نہیں مل سکا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے اَئمہ کے فتوے کے خلاف ایک غیرمعتبر اور بے اثر تعلّل پر قیاس کرنا کس حد تک معتبر ہوگا۔

ایک حوالہ شاہ صاحب نے شیخ عبدالغنی نابلسیؒ کا نقل کیا ہے۔ ان کا رسالہ ’’کشف النور‘‘ اس ناکارہ کے سامنے نہیں کہ اس کے سیاق و سباق پر غور کیا جاتا، مگر اتنی بات واضح ہے کہ علامہ شامیؒ ہوں یا شیخ عبدالغنی نابلسیؒ، یا بارہویں، تیرہویں صدی کے بزرگ، یہ سب کے سب ہماری طرح مقلد ہیں، اور مقلد کا کام اپنے اِمامِ متبوع کی تقلید کرنا ہے، پس اگر علامہ شامیؒ، شیخ عبدالغنی نابلسیؒ یا کوئی اور بزرگ ہمارے اَئمہ کا فتویٰ نقل کرتے ہیں تو سر آنکھوں پر، ورنہ حضرت اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی ؒ کے الفاظ میں یہی عرض کیا جاسکتا ہے:

’’اینجا قول اِمام ابی حنیفہؒ و اِمام ابو یوسفؒ و اِمام محمدؒ معتبر است، نہ عمل ابی بکر شبلی و ابی حسن نوری۔‘‘

(دفتر اوّل مکتوب:۲۶۶)

ترجمہ:۔ ’’یہاں اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام ابویوسفؒ اور اِمام محمدؒ کا قول معتبر ہے، نہ کہ ابوبکر شبلی اور ابوالحسن نوری کا عمل۔‘‘

۱۰:۔ جناب شاہ صاحب نے اس ناکارہ کی جانب جو اَلفاظ منسوب فرمائے ہیں، یہ ناکارہ ان سے بدمزہ نہیں، بقول عارف:

بدم گفتی و خر سندم عفاک اللہ نکو گفتی

جواب تلخ می زیبد لب لعل شکر خارا

غالباً سنتِ نبوی کے عشق کی یہ بہت ہلکی سزا ہے جو شاہ صاحب نے اس ناکارہ کو دی ہے۔ اس جرمِ عظیم کی سزا کم از کم اتنی تو ہوتی کہ یہ ناکارہ بارگاہِ معلی میں عرض کرسکتا:

بجرم عشق توام می کشند و غوغائیست

تو نیز برسر بام آکہ خوش تماشائیست

بہرحال اس ناکارہ کو تو اپنے جہل درجہل کا اقرار و اعتراف ہے، اور ’’بتر زانم کہ گوئی‘‘ پر پورا وثوق وا عتماد۔ اس لئے یہ ناکارہ جناب شاہ صاحب کی قند و شکر سے بدمزہ ہو تو کیوں ہو؟ لیکن بہ ادب ان سے یہ عرض کرسکتا ہوں کہ اس ناکارہ نے تو بہت ہی محتاط الفاظ میں اس کو ’’خلافِ سنت‘‘ کہا تھا (جس میں سنتِ نبوی سے ثابت نہ ہونے کے باوجود جواز یا استحسان کی گنجائش پھر بھی باقی رہ جاتی تھی)، اس پر تو جناب شاہ صاحب کی بارگاہ سے جہالت اور نابلد ہونے کا صلہ اس ہیچ مدان کو عطا کیا گیا، لیکن اِمام خطابی،ؒ اِمام نوویؒ، اِمام تورپشتی،ؒ اِمام عینیؒ، جنھوں نے اس کو بے اصل، منکر، لاطائل، غیرمعتبر عند اہل العلم اور لیس بشیٔ فرمایا ہے، ان کے الفاظ تو اس ناکارہ کے الفاظ کی نسبت بہت ہی سخت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شاہ صاحب کی بارگاہ سے ان حضرات کو کس اِنعام سے نوازا جائے گا؟ اور پھر شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ جو ان بزرگوں کو ’’اَئمہ اہلِ علم و قدوۂ شراحِ حدیث‘‘ کہہ کر خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں اور ان کی توثیق و تائید فرماتے ہیں، ان کو کس خطاب سے نوازا جائے گا؟ کیا خیال ہے ان حضرات کو ’’علمِ دِین کی کتبِ احادیث و فقہ‘‘ کی کچھ خبر تھی، یا یہ بھی شاہ صاحب کے بقول ’’سخت جہالت میں مبتلا‘‘ تھے۔۔۔؟

۱۱:۔ اس بحث کو ختم کرتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ جناب شاہ صاحب کی خدمت میں دو بزرگوں کی عبارت ہدیہ کروں، جن سے ان تمام خلافِ سنت اُمور کا حال واضح ہوجائے گا، جن میں ہم مبتلا ہیں۔

پہلی عبارت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کی ہے، وہ ’’شرح سفر السعادۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’بہت سے اعمال و افعال اور طریقے جو سلف صالحین کے زمانے میں مکروہ و ناپسندیدہ تھے، وہ آخری زمانے میں مستحسن ہوگئے ہیں۔ اور اگر جہال عوام کوئی کام کرتے ہیں تو یقین رکھنا چاہئے کہ بزرگوں کی اَرواحِ طیبہ اس سے خوش نہیں ہوں گی، اور ان کے کمال و دیانت اور نورانیت کی بارگاہ ان سے پاک اور منزہ ہے۔‘‘(۱۳)(ص:۲۷۲)

اور حضرت اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’جب تک آدمی بدعتِ حسنہ سے بھی، بدعتِ سیئہ کی طرح احتراز نہ کرے، اس دولت (اتباعِ سنت) کی بو بھی اس کے مشامِ جان تک نہیں پہنچ سکتی۔ اور یہ بات آج بہت ہی دُشوار ہے، کیونکہ پورا عالم دریائے بدعت میں غرق ہوچکا ہے، اور بدعت کی تاریکیوں میں آرام پکڑے ہوئے ہے۔ کس کی مجال ہے کہ کسی بدعت کے اُٹھانے میں دَم مارے، اور سنت کو زندہ کرنے میں لب کشائی کرے؟ اس وقت کے اکثر علماء بدعت کو رواج دینے والے اور سنت کو مٹانے والے ہیں۔ جو بدعات پھیل جاتی ہیں تو مخلوق کا تعامل جان کر ان کے جواز بلکہ اِستحسان کا فتویٰ دے ڈالتے ہیں اور بدعت کی طرف لوگوں کی راہ نمائی کرتے ہیں۔‘‘(۱۴) (دفتر دوم مکتوب:۵۴)

دُعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ‘ ہم سب کو اِتباعِ سنتِ نبوی کی توفیق عطا فرمائے۔

  1. (۱) السُّنَّۃ لغۃً: العادۃ، وشریعۃ: مشترک بین ما صدر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم من قول أو فعل أو تقریر، وبین ما وظب النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ بلا وجوب۔ (التعریفات للجرجانی ص:۱۰۸، طبع المکتبۃ الحمادیۃ، اُصول الفقہ الْإسلامی ج:۱ ص:۴۴۹)۔
  2. (۲) السُّنَّۃ معناھا فی اللغۃ: الطریقۃ والعادۃ ۔۔۔ واعلم ان لفظ السُّنَّۃ عند الْإطلاق مثل قول الراوی السُّنَّۃ کذا لَا یفید الْإختصاص بسُنَّۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بل یحتمل سُنَّتہ وسُنَّۃ الصحابۃ ولَا یتعین احدھما إلّا بدلیل عندنا لأن تقلید الصحابی لما کان واجبًا کانت طریقتہ متبعۃ کطریقۃ الرسول علیہ السلام۔ (تیسیر الوصول إلٰی علم الاُصول ص:۱۳۷، ۱۳۸)۔
  3. (۳) قال الذھبی: الحد الفاصل بین العلماء المتقدمین والمتأخرین رأس القرن الثالث وھو الثالث مأۃ، فالمتقدمون من قبلہ والمتأخرون من بعدہ۔ (شفاء العلیل، ملحق رسائل ابن عابدین ج:۱ ص:۱۶۱، طبع سہیل اکیڈمی)۔
  4. (۴) کما ذکر فی الفتاویٰ الغیاثیۃ قال الشیخ الْإمام الشھید رحمہ اللہ سبحانہ: لَا نأخذ باستحسان مشائخ بلخ وانما نأخذ بقول أصحابنا المتقدمین رحمھم اللہ سبحانہ، لأن التعامل فی بلدۃ لَا یدل علی الجواز، وانما یدل علی الجواز ما یکون علی الْإستمرار من الصدر الأوّل لیکون ذٰلک دلیلًا علٰی تقریر النبی علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والسلام ایاھم علٰی ذٰلک فیکون شرعًا عنہ علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والسلام، واما إذا لم یکن کذٰلک لَا یکون فعلھم حجۃً إلّا إذا کان ذٰلک من الناس کافۃً فی البلدان کلھا لیکون إجماعًا، والْإجماع حجۃ ألَا ترٰی انھم لو تعاملوا علٰی بیع الخمر وعلی الربٰوا لَا یُفتٰی بالحل۔ (مکتوبات إمام ربانی ص:۱۴۸، مکتوب:۵۴، دفتر دوم، طبع ایچ ایم سعید)۔
  5. (۵) حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس قال: مر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقبرین، فقال: انھما لیعذبان، وما یعذبان فی کبیر، أما أحدھما فکان لَا یستتر من البول ۔۔۔ وأما الآخر فکان یمشی بالنمیمۃ، ثم أخذ جریدۃ رطبۃ فشقھا بنصفین ثم غرز فی کل قبر واحدۃ، قالوا: یا رسول اللہ! لم صنعت ھٰذا؟ فقال: لعلہ ان یخفف عنھما ما لم ییبسا۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۴۲، باب آداب الخلاء)۔
  6. (۶) قال: یا جابر! ھل رأیت بمقامی؟ قلت: نعم یا رسول اللہ! قال: فانطلِقْ إلی الشجرتین فاقطع من کل واحدۃ منھما غصنًا فأقبل بھما حتّٰی إذا قمت ۔۔۔ فقلتُ: قد فعلتُ یا رسول اللہ! فَعَمَّ ذاک، قال: إنی مررت بقبرین یعذبان فأحببتُ بشفاعتی ان یرفَّہ ذاک عنھما ما دام الغصنان رَطْبین ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۴۱۸، باب حدیث جابر الطویل)۔
  7. (۷) وفی ھٰذا الحدیث معجزات ظاھرات لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، واللہ أعلم۔ (شرح النووی علٰی مسلم ج:۲ ص:۴۱۸)۔
  8. (۸) وکذٰلک ما یفعلہ أکثر الناس من وضع ما فیہ رطوبۃ من الریاحین والبقول ونحوھما علی القبور لیس بشیء وإنما السُّنَّۃ الغرز۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۳ ص:۱۲۱ طبع دار الفکر، بیروت)۔
  9. (۹) خطابی کہ از اَئمہ اہلِ علم وقدوۂ شراحِ حدیث ست ایں قول را رَدّ کردہ است وانداختن سبزہ وگل را برقبور بہ تمسک بایں حدیث انکار نمودہ وگفتہ کہ ایں سخن اصلی ندارد ودر صدرِ اَوّل نبودہ۔ (اشعۃ اللمعات ج:۱ ص:۲۱۵، طبع رشیدیہ)۔
  10. (۱۰) ثم رأیت ابن حجر صرح بہ وقال: قولہ لَا أصل لہ ممنوع بل ھٰذا الحدیث أصل أصیل لہ، ومن ثم أفتی بعض الأئمۃ من متأخری أصحابنا بأن ما اعتید من وضع الریحان والجرید سنۃ لھٰذا الحدیث۔ (مرقاۃ، باب آداب الخلاء ج:۱ ص:۲۸۶)۔
  11. (۱۱) وفی شرح المشکٰوۃ وقد أفتی بعض الأئمۃ من متأخری أصحابنا بأن ما اعتید من وضع الریحان والجرید سنۃ لھٰذا الحدیث۔ (حاشیہ طحطاوی ص:۳۴۳ قبیل باب أحکام الشھید، طبع میر محمد کتب خانہ)۔
  12. (۱۲) فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۲۴۵، باب زیارت القبور۔ ویوخذ من ذٰلک ومن الحدیث ندب وضع ذٰلک للاتباع، ویقاس علیہ ما اعتید فی زماننا من وضع أغصان الآس ونحوہ وصرح بذٰلک أیضًا جماعۃ من الشافعیۃ، وھٰذا أولٰی مما قالہ بعض المالکیۃ من أن التخفیف عن القبرین انما حصل ببرکۃ یدہ الشریفۃ صلی اللہ علیہ وسلم أو دعائہ لھما فلا یقاس علیہ غیرہ۔
  13. (۱۳) بسا اعمال وافعال واوضاع کہ در زمانِ سلف از مکروہات بودہ، در آخر زمان از مستحبات گشتہ واگر جہال وعوام چیزے کنند یقین کہ ارواحِ بزرگان ازاں راضی نخواہد بود، وساحتِ کمال ودیانت ونورانیت ایشاں منزہ است ازاں۔ (شرح سفر السعادۃ ص:۲۷۲)۔
  14. (۱۴) تا از بدعتِ حسنہ در رنگ بدعتِ سیئہ اِحتراز ننماید بوئے ازیں دولت بمشام جان او نرسد، وایں معنی امروز متعسر است کہ عالم در دریائے بدعت غرق گشتہ است وبظلماتِ بدعت آرام گرفتہ، کرا مجال است کہ دم از رفع بدعت زند، وبہ اِحیائے سنت لب کشاید، اکثر علماءِ ایں وقت رواج دہند ہائے بدعت اند، ومحو کند ہائے سنت، بدعتہائے پہن شدہ را تعامل خلق دانستہ بجواز بلکہ باستحسان آں فتویٰ مے دہند ومردم را ببدعت دلالت مینمایند۔ (مکتوبات اِمامِ ربانی، دفتر دوم، مکتوب:۵۴ ج:۲ ص:۱۴۸ طبع ایچ ایم سعید)۔