بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

بزرگوں کے مزار پر عرس کرنا، چادریں چڑھانا ان سے منتیں مانگنا

سوال:۔

کئی جگہ پر کچھ بزرگوں کے مزار بنائے جاتے ہیں (آج کل تو بعض نقلی بھی بن رہے ہیں) اور ان پر ہر سال عرس ہوتے ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں، ان سے منتیں مانگی جاتی ہیں، یہ کہاں تک صحیح ہے؟

جواب:۔

یہ بالکل ناجائز اور حرام ہے،(۱) بزرگوں کے عرسوں کے رواج کی بنیاد غالباً یہ ہوگی کہ کسی شیخ کی وفات کے بعد ان کے مریدین ایک جگہ جمع ہوجایا کریں اور کچھ وعظ و نصیحت ہوجایا کرے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ مقصد تو غائب ہوگیا اور بزرگوں کے جانشین باقاعدہ استخوان فروشی کا کاروبار کرنے لگے اور ’’عرس شریف‘‘ کے نام سے بزرگوں کی قبروں پر سینکڑوں بدعات و محرّمات اور خرافات کا ایک سیلاب اُمڈ آیا اور جب قبر فروشی کا کاروبار چمکتا دیکھا تو لوگوں نے ’’جعلی قبریں‘‘ بنانا شروع کردیں، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ!

  1. (۱) کرہ بعض الفقھاء وضع الستور والعمائم والثیاب علٰی قبور الصالحین والأولیاء۔ قال فی فتاوی الحجۃ وتکرہ الستور علی القبور۔ (شامی ج:۶ ص:۳۶۳، تتمۃ، فصل فی اللبس)۔