بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

قبر پر اَذان دینا

سوال:۔

جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے آتے ہی ہمیں ایک نئی اُلجھن میں ڈال دیا ہے، وہ یہ کہ وہ میّت کو دفنانے کے بعد تلقین کے بعد بآوازِ بلند اذان دیتے ہیں۔

سوال:۔

ہمارے ہاں میّت کے ہاتھ ناف پر رکھ دیتے ہیں، یہ طریقہ کس حد تک دُرست ہے؟ ہماری رہنمائی فرمائیں، ہم بڑی اُلجھن میں ہیں۔

جواب:۔

علامہ شامیؒ نے حاشیہ درمختار میں دو جگہ(۱) اور حاشیہ بحر (ج:۱ ص:۲۶۹)(۲) میں اس کا بدعت ہونا نقل کیا ہے۔

جواب:۔

میّت کے دونوں ہاتھ اس کے پہلوؤں میں رکھے جائیں، سینے پر یا ناف پر نہیں۔(۳)

  1. (۱) (تنبیہ) فی الْإقتصار علٰی ما ذکر من الوارد وإشارۃ إلٰی أنہ لَا یسن الأذان عند إدخال المیت فی قبرہ کما ھو المعتاد الآن، وقد صرح ابن حجر فی فتاویہ بأنہ بدعۃ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی، باب صلاۃ الجنائز ج:۲ ص: ۲۳۵، وأیضًا فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۳۸۵)۔
  2. (۲) ورأیت فی کتب الشافعیۃ أنہ قد یسن الأذان لغیر الصلاۃ کما ۔۔۔ قیل وعند إدخال المیت القبر قیاسًا علٰی أوّل خروجہ للدنیا لٰـکن ردہ ابن حجر فی شر العباب۔ (منحۃ الخالق علی البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۹)۔
  3. (۳) ویلین مفاصلہ ویردّ ذراعیہ إلٰی عضدیہ ثم یمدّھما ویردّ أصابع یدیہ إلٰی کفیہ ثم یمدّھا ویردّ فخذیہ إلٰی بطنہ وساقیہ إلٰی فخذیہ ثم یمدّھا کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۵۷، الفصل الأوّل فی المحتضر)۔