سنت وبدعت
موت کی اطلاع دینا
سوال:۔
چند احادیث مبارکہ آپ کی خدمت میں ارسال ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں، ان کا مفہوم لکھ کر مشکور فرمائیے:
۱:۔ ’’عَنْ عَبْدِاللہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ: إِیَّاکُمْ وَالنَّعْیَ، فَإِنَّ النَّعْیَ مِنْ عَمَلِ الْجَاہِلِیَّۃِ‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۹۲)۔
۲:۔ ’’ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: إِذَا مِتُّ فَلَا تُؤْذِنُوْا بِیْ اَحَدًا فَإِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَّکُوْنَ نَعْیًا وَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ یَنْہٰی عَنِ النَّعْیِ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۹۲ طبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)۔
جناب مولانا صاحب! یہ تو احادیث مبارکہ ہیں اور ہمارے علاقہ میں یہ رسم و رواج ہے کہ جب کوئی بھی (چاہے امیر ہو یا غریب) مرجائے تو مسجد کے لائوڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں بن فلاں فوت ہوا ہے، نمازِ جنازہ ۳ بجے ہوگا، یا جنازہ نکل گیا ہے، جنازہ گاہ کو جائو، تو کیا یہ اعلان جائز ہے یا احادیث کے خلاف ہے؟ اگر خلاف و ناجائز ہو تو اِن شاء اللہ یہ اعلانات وغیرہ آئندہ نہیں کریں گے۔ مدلل جواب سے نوازیں۔ نیز یہ بھی سنتے ہیں کہ مسجد کے اندر اذان دینا مکروہ ہے؟
جواب:۔
عام اہلِ علم کے نزدیک موت کی اطلاع کرنا جائز بلکہ سنت ہے، ان احادیث میں اس ’’نعی‘‘ کی ممانعت ہے جس کا اہل جاہلیت میں دستور تھا کہ میّت کے مفاخر بیان کرکے اس کی موت کا اعلان کیا کرتے تھے۔

